وزیراعظم عمران خان کا کورونا وبا کے تناظر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ترقی کیلئے سرمائے کی فراہمی سے متعلق اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا کی ویکسین جلد دستیاب ہو گی، دنیا کے ہر فرد کو کورونا ویکسین تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہئے، طبی اور معاشی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے وبا پر قابو پانا ضروری ہے، قرضوں کی واپسی میں نرمی ترقی پذیر ملکوں کی مالی مدد کا تیز ترین اور مو¿ثر طریقہ ہے، امیر ممالک غریب ملکوں کیلئے 500 ارب ڈالر کا فنڈ قائم کریں، سالانہ 1.5 ٹریلین اکٹھے کرنے کیلئے یو این انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ فیسیلیٹی قائم کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کورونا وبا کے تناظر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ترقی کیلئے سرمائے کی فراہمی سے متعلق اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے دنیا پر غیر معمولی اثرات ہوئے ہیں، دنیا بھر میں 10 لاکھ افراد ہلاک اور 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں، اس کے معاشی اور سماجی اثرات تباہ کن ہیں، طبی اور معاشی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے وبا پر قابو پانا ضروری ہے، پاکستان سمارٹ لاک ڈاﺅن کے ذریعے وبا کا پھیلاﺅ روکنے میں کامیاب رہا، دینا اب بھی کورونا وبا سے مکمل محفوظ نہیں ہے، اس وقت تک کوئی محفوظ نہیں جب تک سب محفوظ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کورونا ویکسین جلد تیار ہو جائے گی، دنیا کے ہر فرد کو کورونا ویکسین تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 1930ءکی اقتصادی کساد بازاری کے بعد کورونا سے سب سے بڑا معاشی بحران پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جس کساد بازاری کا ہمیں عالمی سطح پر سامنا ہے اس کے ترقی پر دہائیوں اثرات رہیں گے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے ایجنڈا 2030ءکا حصول یقینی نہیں بنایا جا سکتا، غریب ملک کورونا بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کیلئے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج دیا، ریلیف پیکیج کا مقصد غریبوں کی مدد اور معیشت کو رواں دواں رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی واپسی میں نرمی ترقی پذیر ملکوں کی مالی مدد کا تیز ترین اور مو¿ثر طریقہ ہے، میں نے اپریل میں قرضوں کی واپسی میں نرمی کا بین الاقوامی اقدام شروع کرنے پر زور دیا، پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس سلسلہ میں بحث شروع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ جی 20 ممالک کی طرف سے قرضوں میں نرمی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے غریب ممالک کو اس وبا سے نمٹنے میں مدد ملی تاہم یہ ردعمل اتنے بڑے بحران کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جی 20 ممالک کی طرف سے قرضوں میں نرمی میں کم از کم ایک سال توسیع کی جائے، قرضوں کی واپسی میں نرمی کی توسیع سے کریڈٹ ریٹنگ متاثر نہیں ہونی چاہئے، عالمی مالیاتی ادارے قرضوں کی واپسی میں نرمی کے اقدام میں حصہ لیں، ایسے قلیل مدتی اقدامات اٹھائے جائیں جن میں سرکاری اور نجی کریڈیٹرز شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، ماحول اور ایس ڈی جیز کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے، سرمایہ کاری اور پائیدار انفراسٹرکچر معاشی بحالی میں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 1.5 ٹریلین اکٹھے کرنے کیلئے یو این انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ فیسیلیٹی قائم کی جائے، آئی ایم ایف کے مطابق ترقی پذیر ملکوں کو کورونا بحران سے نکلنے کیلئے 2.5 ٹریلین کی ضرورت ہے، امیر ملک غریبوں ملکوں کیلئے پانچ سو ارب ڈالر کا فنڈ قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ محنت کے مطابق سال کی پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران کام سے عالمی آمدن میں 10 فیصد کمی آئی، مڈل آمدن رکھنے والے ممالک میں یہ تعداد 15 فیصد زیادہ متاثر ہوئے، روایتی شعبہ میں کام کرنے والی خواتین اور ملازمین کے کندھوں پر بھاری بوجھ آ پڑا، عالمی افلاس کا بحران نئے اور خطرناک مراحل میں داخل ہو رہا ہے، اس وقت جنوبی امریکہ میں 17.1 ملین لوگ خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں جن کی تعداد سات ماہ پہلے ساڑھے چار ملین تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکس محصولات کم ہوئی ہیں، اس صورتحال میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 40 فیصد اور تجارت 20 فیصد تک سکڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا کی تشخیص، علاج اور ویکسین کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا کر اجتماعی فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ اس وبا کا مو¿ثر خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افریقی ممالک نے کورونا وبا کے خلاف کامیاب صحت عامہ ردعمل کا آغاز کیا ہے تاہم ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اس پر سرمایہ کاری کو ابھی سنجیدہ نہیں لیا جا رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں آسان شرائط پر فنڈز کے ذریعے قرضہ کی سہولت پیدا کرنے کے اقدام پر غور کرنا چاہئے، اس سے پائیدار مالی حمایت میں مدد ملے گی۔