وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) کابینہ کو بتایا گیا کہ کل سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی اور تین کروڑ بچوں کا سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ بحال ہو جائے گا۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ کرونا کے خلاف حفاظتی تدابیر بشمول ماسک کے استعمال پر سختی سے عمل کیا جائے۔ وفاقی کابینہ نے برطانوی ایئرلائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجرائ، ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری۔شپمنٹ انسپیکشن کی ون ٹائم اور افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزہ پالیسی کی اصولی منظوری دیدی ہے۔ منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو ملکی قرضوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کابینہ کومالی سال 2018، 2019اور 2020میں حکومتی قرضوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کو تیس کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا۔ جس کی قسطیں ادا کرنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بیرونی قرضوں کی مد میں حکومت نے تقریباً چوبیس ارب ڈالر قرضہ حاصل کیا جس میں سے دو ارب ڈالر عبوری دورِ حکومت میں اٹھایا گیا۔ بیرونی قرضوں کی مد میں گذشتہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا دس ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 2019میں حکومتی قرضوں میں 7.7کھرب روپے کا اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ (3.1کھرب روپے) روپے کی حقیقی قدر کو بحال کرنا تھا۔ کوویڈ کی وجہ سے تقریباً ایک کھرب روپے کی آمدن متاثر ہوئی۔2.1کھرب روپے ماضی کی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہوئے جبکہ ایک کھرب روپے حکومت کی جانب سے کیش بوفر کے طور پر رکھے گئے۔ سال 2020میں یہ اضافہ کم ہو کر 3.5کھرب ہو گیا ہے۔ پرائمری خسارہ 2019میں 1.5کھرب سے کم ہو کر 2020میں ایک کھرب رہ گیا ہے۔ گذشتہ بارہ سالوں میں پہلی بار مارچ تک پرائمری سرپلس 0.2کھرب روپے مثبت تھا تاہم کورونا کی وجہ سے یہ متاثر ہوا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ دو سالوں میں حکومت کی جانب سے مندرجہ ذیل اہم اقدامات اٹھائے گئے۔ جن میں پرائمری خسارے میں واضح کمی لانا، ایکسچینج ریٹ میں استحکام، ڈومیسٹک (اندرونی ) قرضوں کے معیار اور نوعیت کو بہتر کرنا، بیرونی قرضوں کی نوعیت میں بہتری لانا۔ قرضوں کے حوالے سے نئے پراڈکٹ متعارف کرانا اور مختلف دیگر اقدامات کئے گئے ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات کو بڑھانے اور فارن ایکسچینج ذخائر کو بڑھانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اجلاس کو توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات خصوصاً گردشی قرضوں میں کمی لانے پر بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مالی سال 2018میں سالانہ گردشی قرضہ 450ارب روپے تھا۔ اگر موجودہ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات نہ کیے جاتے تو سال 2020میں یہ قرضہ 853ارب روپے ہوتا اور 2023میں اس میں 1610ارب روپے کا اضافہ ہوتا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سال 2020میں 853 ارب روپے گردشی قرضے میں تین سو ارب روپے سے زائد کی کمی آئی ہے اور اس سال گردشی قرضے کا تخمینہ 538 ارب روپے لگایا جا رہا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف اقدامات جن میں آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت، ریٹرن آن ایکویٹی کو ریشنلائز کرنے، کم کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے پاور پلانٹس کو بند کرنے، سبسڈی کے نظام کی بہتری و دیگر اقدامات کے نتیجے میں تقریبا ً 620ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹرانسمیشن اورتقسیم کی مد میں نقصانات میں مسلسل کمی لائی جا رہی ہے۔ سال 2019میں ٹی اینڈ ڈی لاسز کو 17.7فیصد تک لایا گیا ان میں مزید کمی لائی جا رہی ہے اور سال 2023تک ان کو 16.3فیصد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح ریکوری کی مد میں مسلسل بہتری سامنے آ رہی ہے۔ 2023تک ریکوری کو 97.7فیصد تک یقینی بنایا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے جینکوز سے بات چیت کے نتیجے میں آئندہ تین سالوں میں سو (100) ارب روپے کی جبکہ نجی پاور پرڈیوسر ز سے معاہدوں کے نتیجے میں 61.6ارب روپے کی بچت تین سال میں میسر آئے گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف اقدامات کے نتیجے میں سال 2019میں 77ارب روپے کی بچت ہوئی۔ کابینہ نے برطانوی ائیرلائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجراءکی منظوری دی۔ یہ منظوری پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ائیر سروس معاہدے کے تحت دی گئی ہے۔ اس معاہدے کی تحت اب تک برطانیہ سے برٹش ائیر ویز جبکہ پاکستان سے پی آئی اے، ائیر بلیو اور شاہین ائیر کو دونوں ملکوں کے درمیان پروازوں کی اجازت ملی ہوئی تھی۔ کابینہ نے ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری۔شپمنٹ انسپیکشن کی ون ٹائم منظوری دی۔ کابینہ نے افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزہ پالیسی کی اصولی منظوری دی۔ کابینہ نے محترمہ آمنہ بی بی کو بطور اینلسٹ فار بائیولوجیکل ڈرگز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020کے تحت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور نائب صدر (ڈاکٹر ارشد تقی اور علی رضا) کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے سید حسین عابدی کو چئیرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اسلام آباد تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے معاملے میں ہونے والی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ نے رپورٹ کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ارسا کے ممبران کو ہٹانے کے اصولی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں مزید کاروائی کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ممبران اپنی مدت تعیناتی چونکہ پوری کر چکے ہیں لہذا پنجاب حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ممبر پنجاب کی بطور ممبر صلاحیت کا جائزہ لے۔ وفاقی ممبر کی جگہ بھی قابل اور تجربہ کار ممبر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ ارسا کا پرفارمنس آڈٹ کرا یاجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ارسا کے قانون میں ضروری ترامیم بھی عمل میں لائی جائیں گی۔ کابینہ نے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کی بطور سی ای او تعیناتی کی ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از عمل) منظوری دی۔ یہ تعیناتی منصوبے کو تاخیر سے بچانے کی غرض سے واپڈا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات اور وزیرِ اعظم کی منظوری سے کی گئی تھی۔ کابینہ نے سی ای او کو مزید ایک سال توسیع دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا کو اسلام آباد کلب کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23ستمبر2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی منظوری دی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 24ستمبر2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی۔