وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم کا ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کے شرکاءسے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پورے ملک میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام پر عملدرآمد تیزی سے جاری ہے لیکن ماحولیاتی ترقی اور ملک کی آب و ہوا میں تبدیلی کے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے ہر سطح پر اس کی مو¿ثر مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پیر کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے معاونِ خصوصی ملک امین اسلم نے کہا کہ انتظامی منصوبوں اور پروگراموں کے شفاف نفاذ کے بارے میں تمام تر معلومات کا قابل رسائی ہونا ضروری ہے اور عوام کے لیے معلومات کی فراہمی بھی ہماری ذمہ داری ہے جو کہ عموماً عوام کے لئے فراہم نہیں ہوتی۔ پراجیکٹ یا پروگرام ڈائریکٹرز، منیجرز اور متعلقہ کلیدی سٹیک ہولڈر وہی ہیں جو تمام معلومات تک رسائی رکھتے ہیں۔ ملک امین اسلم نے مزید کہا کہ شفافیت کی اس کمی سے عوام میں عدم اعتماد اور ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے، جس سے منصوبوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (ٹی بی ٹی ٹی پی) کی تیسری پارٹی کے ذریعہ آزاد اور غیر جانبدارانہ نگرانی اور جائزہ، بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مختلف آلات اور تکنیکوں کے ذریعے ملک بھر میں پروگرام کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جانچنے میں مدد فراہم کرے گا اور سرگرمیوں کے بارے میں عوامی اعتماد برقرار رکھے گا۔ دریں اثناءبلین ٹری سونامی پروگرام (بی ٹی ٹی پی) کی کامیابی کی اہم وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کی کامیابی کی وجہ لوکل ٹمبر مافیا کا خاتمہ، مفادِ عامہ کو ملحوظِ خاطر رکھنا، 5 لاکھ نوکریاں اور اس منصوبہ کی لچکدار منصوبہ بندی تھی جس کی وجہ سے پچاس فیصد پرانے جنگلات کو محفوظ ماحول دیا گیا جس سے ان میں بہتری آئی اور 50 فیصد نئے جنگلات لگائے گئے۔ یہ منصوبہ نہایت شفاف اور باریک بینی سے ماحول کی بہتری کی جانب اہم قدم تھا۔اہداف مکمل ہونے، کارکردگی کے جائزے اور فنڈز کے معاملات کی بہترلاگت کے لئے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جو کہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے تھرڈ پارٹی کے طور پر کیا۔جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بلین ٹری سونامی ایسا منصوبہ تھا کہ جس میں فنڈز تخمینہ سے کم استعمال ہوئےیعنی 22 ارب کے فنڈز میں سے محض 14 ارب کا استعمال کرکے ایک ارب 18 کروڑ درخت لگائے گئے۔ اس منصوبہ کی کامیابی کا انداہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان تمام تر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اس کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں جس سے نہ صرف اس منصوبہ کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی بلکہ عالمی اقتصادی فورم، یو نائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اسے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ تسلیم کیا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت کی حمایت کی بدولت ٹی بی ٹی ٹی پی نے نہ صرف ہدف کو عبور کیا بلکہ اس سے صوبے میں متاثرہ جنگلات اور جنگلی حیات کی بحالی میں بھی مدد ملی ، جس سے بے روزگار خواتین اور نوجوان افراد کے لئے ہزاروں سبز روزگار بھی پیدا ہوئے۔ ملک امین اسلم نے نشاندہی کی کہ ہر ملک مختلف بین الاقوامی تنظیموں جیسے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) اور حیاتیاتی تنوع پر مبنی کنونشن (سی بی ڈی) کے مختلف کثیرالجہتی ماحولیاتی معاہدوں (ایم ای اے) کی ضروریات کو پورا کرنے کا پابند ہے۔ تاہم ، ٹی بی ٹی ٹی پی کی تھرڈ پارٹی نگرانی اور جائزہ ، ماحولیاتی ترقی ، جنگلات اور جنگلی حیات کے وسائل کے تحفظ اور آب و ہوا میں تبدیلی کی موافقت اور تخفیف سے متعلق ملکی ضروریات کی پیشرفت سے متعلق رپورٹنگ کے لئے نمایاں طور پر مدد کرے گی۔ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ ملک بھر میں ٹی بی ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لئے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن سسٹم کے قیام کو حکومت کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔ تھرڈ پارٹی کی نگرانی اور جائزہ عالمی برادری اور پاکستانی عوام کو یہ تاثر دے گا کہ وزیراعظم عمران خان کی موجودہ حکومت ہر سطح اورہر صورت میںفنڈز کے استعمال میں سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے کلین گرین پاکستان کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے زرتاج گل نے کہا کہ وزیراعظم کے کے لئے سب سے اہم منصوبہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت ملک نے سبز ایجنڈا اپنانے کے لئے عالمی سطح پرداد حاصل کی۔ کیونکہ گرین ایجنڈا اپنانے سے ماحولیاتی تباہی، جنگلات کی کٹائی اور غیرقانونی جنگلی حیات کے شکار کے بڑھتے ہوئے مسائل سے ملک کو نکالنے میں نمایاں مدد مل رہی ہے۔ تیسری پارٹی کی نگرانی اور کارکردگی کےجائزہ کے لئے کنسورشیم کے ممبران کے کرداروں اور ذمہ داریوں کے بارے میں مجموعی جائزہ لیتے ہوئے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید شاہ درانی نے شرکاءکو بتایا کہ تیسری پارٹی کی نگرانی اور جائزہ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کی جائے گی۔ ملک بھر میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر۔پاکستان (IUCN-P) اور ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر – پاکستان (WWF-P) ، جو بطور کنسورشیم کام کرے گا ، اور 2020ءسے 2024ءتک ٹی بی ٹی ٹی پی کی تیسری پارٹی کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی یو سی این پاکستان باہمی تعاون ، منطقی ڈھانچے کی بہتری، لیگل فریم ورک اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے ذمہ دار ہوگا۔ FAO باقاعدہ فیلڈ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ڈیٹا بیس ٹولز کے لئے ذمہ دار ہوگا اور اقوام متحدہ – ایف اے او کے جمع کردہ ارتھ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے دور دراز سینسنگ کے ذریعہ جنگل کے احاطہ میں تبدیلی کی تشخیص اور مربوط واٹرشیڈ مینجمنٹ ، رینج لینڈ مینجمنٹ سمیت جنگلات کی زمین کےتزئین کی بحالی پر تکنیکی مدد فراہم کرے گاجبکہ ، ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان خیبرپختونخوا صوبے کے علاوہ ، فیلڈ سیمپلنگ اور مانیٹرنگ کرے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد خان نقی نے کہا کہ پودے لگانے والے مقامات کا 30 فیصد، جنگلاتی حیات کے تحفظ کے لئے 30، پروٹیکٹڈ ایریا اینیشی ایٹیو کا 100فیصد جائزہ لینے کے لئے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیواشن کی تجویز پیش کی جائے گی تاہم اصل کامیابی کا دارومدار مالی وسائل کی دستیابی ، زمینی تحفظ کی صورتحال اور دیگر عوامل پر ہے، آئی یو سی این۔پاکستان کے ملکی نمائندہ محمود اختر چیمہ نے کہا کہ کنسورشیم کے ذریعہ تھرڈ پارٹی کی نگرانی اور جائزہ عوامی اعتماد ، مختلف کثیر الجہتی ماحولیاتی معاہدوں پر بین الاقوامی رپورٹنگ کی ضروریات کو پورا کرنے اور ٹی بی ٹی ٹی پی کے لئے مختص عوامی فنڈز کے شفاف استعمال میں حکومتی سنجیدگی جیسے متعدد ملکی فوائدکا حامل ہو گا۔