وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا انسٹیٹوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے ،مذاکرات کے نتیجے میں افغان عوام کے فیصلے کو سراہیں گے۔منگل کوانسٹیٹوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چیئرمین اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ افغانستان سے وابستہ تمام حالات سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ وزارت خارجہ میں ملاقات کے دوران افغان امن عمل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔بین الافغان مذاکرات کا انعقاد ایک بہت مثبت اور حوصلہ افزا اقدام ہے۔ چیئرمین افغان اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔خطے میں امن، افغانستان کے امن کے ساتھ مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی برادری افغان مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کر رہی ہے۔افغان قیادت کو اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی کاوشوں کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔12 ستمبر کو کابل میں پاکستان اور افغانستان کے مابین افغانستان پاکستان ایکشن پلان (اپیپس) کا دوسرا دور کامیابی سے مکمل ہوا۔کابل اور اسلام آباد کو قیام امن کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے بجا طور پر کہا تھا کہ خطے میں امن کا راستہ کابل سے گزرتا ہے۔ہمیں امن کی ان کوششوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے باخبر رہنا ہو گا۔ افغان امن عمل، علاقائی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ہم افغان مہاجرین کی باعزت اور باوقار وطن واپسی کے خواہشمند ہیں۔بہترین مستقبل کیلئے، ہمیں ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے۔ ہم مذاکرات کے نتیجے میں افغان عوام کے فیصلے کو سراہیں گے۔