پاکستان ذمہ دار ریاست ہے، خطے میں کشیدگی نہیں چاہتے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان کے سیاسی نقشے پر بھارتی اعتراض مسترد کیا گیا، روس نے پاکستانی نقطہ نظر کی تائید کی، اجیت دوول کو میٹنگ چھوڑ کر جانا پڑا، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان ذمہ دار ریاست ہے، خطے میں کشیدگی نہیں چاہتے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان کے سیاسی نقشے پر بھارتی اعتراض مسترد کیا، روس نے پاکستانی نقطہ نظر کی تائید کی،بھارتی نمائندے اجیت دوول کو میٹنگ چھوڑ کر جانا پڑا۔ مشیر قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف نے پی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اجلاس میں فخریہ انداز میں نقشہ پیش کیا اور آئندہ بھی پیش کیا جائے گا، تنازعہ کی بنیاد پر بطور ذمہ دار ریاست کسی فورم کو خراب نہیں کیا جانا چاہیے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس ایسا فورم نہیں تھا جہاں نقشے کے تنازعہ کو لایا جاتا۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ ایسا ملک جس سے ہمارے اختلافات ہیں خود کو تنہا کر رہا ہے ۔ مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا دہشتگردی کی جنگ میں شاید ہی کوئی ملک ہو جس نے پاکستان جیسی کارکردگی دکھائی، اب پوری دنیا اسے تسلیم کر رہی ہے، افغان امن مذاکرات میں پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان اکنامک سکیورٹی کی بات کرتا ہے، پاکستان ریجنل روابط کی بات کرتا ہے، پاکستان وسطی ایشیا پر رسائی حاصل کرنے جا رہا ہے، پاکستان سی پیک کی طرف جا رہا ہے، روس چاہتا ہے روابط ہوں، وسطی ایشیا چاہتا ہے ان کے منصوبے آگے آئیں۔انہوں نے کہا نیا سیاسی نقشہ پاکستان کے حقوق اور کشمیری عوام کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔ ایس سی او اجلاس میں پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ مسترد کرنے پر اجیت دوول کو ڈاکٹر معید یوسف نے دو ٹوک جواب دیا کہ جموںو کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ۔ متنازعے علاقے پر بھارت کو دعویٰ کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں