ہم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قواعد کی پاسداری کی جبکہ بھارت نے قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز اجلاس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بلاجواز اعتراض پر بیان

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا، ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی، بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔ بدھ کوشنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز اجلاس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بلاجواز اعتراض کے حوالے سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس کچھ دن قبل ماسکو میں ہوا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔شنگھائی تعاون تنظیم میں یہ اصول طے ہے کہ اس فورم پر دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دو طرفہ معاملات کیلئے سائیڈ لائن ملاقاتیں طے ہوتی ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی۔بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ کل شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز کا اجلاس تھا جس میں بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض اٹھایا جسے مسترد کر دیا گیا چنانچہ اسے ندامت اٹھانا پڑی۔مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،اقوام متحدہ کی اس ضمن میں قراردادیں موجودہیں۔روس نے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے بھی بھارت کے نقطہ نظرکو تسلیم نہیں کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے سکیورٹی ایڈوائزر نے اجلاس سے واک آؤٹ کی دھمکی دی اور پھر واک آؤٹ کیا۔بھارت اپنے رویے سے ہر فورم پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔لداخ کے حوالے سے چین نے بھارت کو بارہا گفتگو کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی پیشکش کی لیکن بھارت نے وہاں بھی جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور پھر اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کو چین نے تسلیم نہیں کیا جبکہ چین نے بھارت کو جارحیت پر جواب دیا۔