ہم ہر بات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں مگر کرپشن پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز کا مفاد پاکستان کے مفاد کے برعکس ہے۔ ایف اے ٹی ایف قانون سازی نہ ہوتی تو ملک بلیک لسٹ میں چلا جاتا۔وزیراعظم عمران خان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ہر بات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں مگر کرپشن پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز کا مفاد پاکستان کے مفاد کے برعکس ہے۔ ایف اے ٹی ایف قانون سازی نہ ہوتی تو ملک بلیک لسٹ میں چلا جاتا۔ روپے پر مزید دبائو بڑھتا تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا، موٹر وے جیسے سانحہ کی روک تھام اور ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کے لئے قانون سازی کریں گے، پی ایم ڈی سی بل کی منظوری سے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کا معیار عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔ وہ بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے سب سے پہلے اپنی جماعت اور اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لئے بہت اہم دن تھا، سب نے ثابت کیا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، موٹر وے پر ہونے والے سانحہ سے پورا ملک ہل گیا ہے، جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ہم سوچ رہے ہیں کہ اس کے لئے ایک بہترین قانون سازی کی جائے جس سے نہ صرف خواتین بلکہ بچوں کو تحفظ ملے۔ ہمارے معاشرے میں زیادتی کے شکار بچوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ ہم تین سطحوں پر کام کر رہے ہیں، پولیسنگ میں تیزی لانی ہے، ریپ کے مجرموں کا ڈیٹا بیس بنانا ہے۔ ساری دنیا میں سیکس افینڈرز رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ لوگ بار بار زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ملزم عابد پہلے بھی زیادتی کے کیس میں ملوث ہے اور ایک مرتبہ پھر اس نے زیادتی کی۔ اس نے کتنے جرم کئے اس کی تعداد واضح نہیں ہے۔ جب ان واقعات کی تحقیقات ہوتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت تھوڑے لوگ سامنے آئے ہیں، ہم ایسی قانون سازی لانا چاہتے ہیں جو عبرت کا باعث بنے گی۔ عدالت میں جس طرح کی شہادت چاہئے ہوتی ہے مجرم کو سزا دلوانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کیلئے بل تیار کر رہے ہیں، چند دنوں میں ایوان میں پیش کریں گے تاکہ انہیں عبرتناک سزا مل سکے۔ ایف اے ٹی ایف قانون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ ہمیں وراثت میں ملی ہے، بلیک لسٹ میں آنے سے ہم پر پابندیاں لگتی ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں تو روپے پر دبائو بڑھتا ہے، پٹرول، ڈیزل، بجلی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی تو غربت بڑھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ سے پہلے ہم مشکل میں تھے، اﷲ کا شکر ہے کہ کورونا کی مشکل صورتحال سے باہر آئے ہیں، دنیا مثالیں دے رہی ہے کہ کووڈ سے نکلنا ہے تو پاکستان سے سیکھو۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع کر رہا تھا کہ اپوزیشن تعریف کرے گی۔ جمہوریت میں عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے اس لئے لوگ ہمیں اہمیت دیتے ہیں کہ ہم ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہمارے کورونا کیسز نیچے جا رہے ہیں اور ہم نے اپنی معیشت بھی بچا لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ دیکھنے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی پابندیاں لگ گئیں تو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا جس کی ہماری معیشت متحمل نہیں ہو سکتی۔ اپوزیشن کی تقاریر سنی تو مایوسی ہوئی، ایف اے ٹی ایف قانون سازی پاکستان کا ایشو ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا مفاد پاکستان کے مفادات کے برعکس ہے۔ انہوں نے نیب کے ایکٹ کی 38 شقوں میں سے 34 میں ترامیم ہمارے سامنے رکھ دیں۔ یہ نیب کو دفن کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا مطلب ہے کہ ملک میں ناجائز بنایا جانے والا پیسہ بیرون ممالک منتقل کیا جائے۔ ترقی پذیر ممالک کے وزرائے اعظم اور دیگر لوگ اپنا پیسہ باہر ملکوں میں رکھ سکتے ہیں، ہندوستان کے لوگ لندن میں بیٹھے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک سے ایک ہزار ارب ترقی یافتہ ممالک میں جاتا ہے۔ اگر یہی پیسہ اس ترقی پذیر ملک میں خرچ ہوتا تو ہسپتال، اسکول، ڈسپنسریاں بن سکتی ہیں۔ حوالہ، ہنڈی اور ٹی ٹی کے ذریعے ڈالروں میں پیسہ باہر منتقل ہوتا ہے۔ اسی سے روپے پر دبائو پڑتا ہے اور مہنگائی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آخر میں اس بات پر پھنس گئی کہ منی لانڈرنگ کو نکال دیں۔ اگر انہوں نے منی لانڈرنگ نہیں کی تو انہیں کس بات کا ڈر تھا۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان سے 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ یہ بل ملک کے مستقبل کے لئے بہت ضروری تھا۔ پہلے صاحب اقتدار لوگوں نے اس کا سدباب نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا فلیٹ تو 2002ء کا ڈیکلیئرڈ تھا، 2016ء میں یہ مجھے اس لئے عدالت لے کر گئے کیونکہ میں نے ان کا پانامہ کا کیس اٹھایا تھا۔ میں اگر اپنی جائیداد اور پیسے کا حساب دے سکتا ہوں تو یہ کیوں نہیں دے سکتے، مے فیئر لندن کا مہنگا ترین علاقہ ہے۔ آصف علی زرداری نے ایک فلیٹ اپنے نام سے خریدا جس کا کیس چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ ادارے تباہ کرتے ہیں۔ سابق چیئرمین نیب نے ان کے کیسز بند کئے۔ حدیبیہ پیپر ملز اوپن اینڈ شٹ کیس تھا۔ سابق چیئرمین نیب نے ان کے اس کیس کو بھی بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سال کے دوران 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا جو دس سال میں بڑھ کر 30 ہزارارب روپے ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کرپشن کی بات کریں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔ میری تقریر کے دوران اپوزیشن شور مچاتی ہے اور تقریر میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ چوری کیا ہوا پیسہ واپس آئے جبکہ یہ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کا چوری کا پیسہ محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ پہلے ان کے حالات کیا تھے۔ اسحاق ڈار اور شریف خاندان کے آبائو اجداد کے لندن میں رکھ رکھائو سے یہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی شہر میں نہیں بلکہ برطانیہ کے مہنگے علاقوں میں زندگی گذارتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے ملک اور جمہوریت کی خاطر ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم کرپشن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل بل منظور کرنا بہت ضروری تھا، اس بل سے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کی فراہمی عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔