آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے جنگلات کے کٹائو اور آلودگی جیسے مسائل پر قابو پانا ہو گا،وزیراعظم عمران خان کا کلین گرین انڈیکس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے جنگلات کے کٹائو اور آلودگی جیسے مسائل پر قابو پانا ہو گا، صفائی ستھرائی ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس حوالہ سے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، رضاکارانہ خدمت کا جذبہ ہماری قومی طاقت ہے جس سے حکومتی سطح پر استفادہ کیا جانا چاہئے، سزا اور جزا کے نظام کے ساتھ معاشرے میں اچھے کاموں کو ترقی دی جا سکتی ہے، صاف سبز انڈیکس کے تحت شہروں کے مابین مقابلے کا اہتمام حوصلہ افزاءاقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کلین گرین انڈیکس ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کامیاب اقدام پر امین اسلم، زرتاج گل سمیت وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے حکام اور متعلقہ شہروں کے انتظامی افسران کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے مابین صفائی ستھرائی کے حوالہ سے مقابلے کا تصور پیش کرنا ایک خوش آئندہ عمل ہے، اس سے ہمیں آلودگی جیسے مسائل میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم اس حوالہ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ یہاں رضاکارانہ خدمت کا بھرپور جذبہ پایا جاتا ہے، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے دوران قوم کے جذبہ سے بہت متاثر ہوا، یہ جذبہ ہماری قومی طاقت ہے تاہم حکومتی سطح پر ماضی میں اس سے استفادہ نہیں کیا جا سکا جس کی بڑی وجہ عوام اور حکومتوں کے درمیان فاصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خوبصورتی اور قدرتی وسائل کے حوالہ سے بے مثال ملک ہے تاہم ہم نے اپنی زندگی میں اس کے جنگلات کو تباہ اور شہروں کو آلودہ ہوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے جنگلات کو بحال کرنا ہے اور آلودگی میں کمی لانا ہے، اس مقصد کیلئے ہماری حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا پروگرام شروع کیا ہے، اسی طرح شہروں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ سالڈویسٹ مینجمنٹ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو سرسبز اور صاف ستھرا بنانے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اس تحریک میں شامل کرنا ہے، اس سلسلہ میں پہلے لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تبدیلی پہلے ہمیشہ ذہنوں میں آتی ہے۔ وزیراعظم نے کلین گرین انڈیکس ایوارڈز حاصل کرنے والے شہروں کے منتظمین کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرے میں آگے بڑھنے کیلئے جزا و سزا کے نظام کو فروغ دینا ہے، اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، اس مقصد کیلئے انہیں سہولیات و مراعات دی جائیں گی، اسی طرح پروگرام کے تحت صفائی ستھرائی کے حوالہ سے اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے ذمہ داران کو سزا ملنی چاہئے۔ وزیراعظم نے رضاکاروں کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے کام کرنے والے رضاکار ہمارے ہیرو ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف موجودہ حکومت کی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا گیا، پاکستان نے وبا کے دوران لوگوں کی صحت کے ساتھ ساتھ انہیں معاشی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے زیادہ آلودگی والے شہر میں اکتوبر، نومبر، دسمبر کے مہینوں کے دوران کورونا کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے، حکومتی سطح پر اس پہلو کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، ماحولیاتی تحفظ کے حوالہ سے لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کلین گرین انڈیکس کے اغراض و مقاصد اور اس کے نتائج کے بارے میں پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے 8 ماہ قبل ایک میکنزم وضع کیا تھا جس کے نتائج آج سامنے لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے مابین صفائی ستھرائی کے مقابلہ کیلئے پانچ اشاریوں کا تعین کیا گیا اور اس کیلئے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے 20 شہروں کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام پر عملدرآمد کی مانیڑنگ کا انتظام کیا گیا اور اس حوالہ سے یو این ہیبٹاٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ صاف و سبز انڈیکس کے تحت پنجاب میں اٹک جبکہ خیبرپختونخوا میں بنوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس حوالہ سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے دیگر شہروں میں بہاولپور، لاہور، گجرات، راولپنڈی، کوہاٹ، ایبٹ آباد، پشاور، ساہیوال اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت شہروں کے حوالہ سے پہلی مرتبہ قابل اعتبار ڈیٹا حاصل ہوا ہے اور اس منصوبہ پر اضافی مالی اخراجات بھی نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیگر شہروں نے بھی اس پروگرام میں شامل ہونے کیلئے رضاکارانہ طور پر آمادگی ظاہر کی ہے جو اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ وزیر مملکت زرتاج گل نے کہا کہ حکومت نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں، ہم وزیراعظم کی قیادت میں آئندہ نسلوں کو محفوظ پاکستان دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے تحت ملک میں 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر مملکت نے کلین اینڈ گرین مہم میں تعاون پر متعلقہ عالمی اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کلین گرین انڈیکس ایوارڈز حاصل کرنے والے شہروں کے منتظمین کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ کلین گرین سٹیز انڈیکس ایوارڈز حاصل کرنے والے شہروں میں پنجاب سے اٹک نے (شجرکاری) پہلی پوزیشن حاصل کی، بہاولپور (سالڈ ویسٹ) دوسری، لاہور (واٹر اینڈ ہائی جین) تیسری، گجرات چوتھی اور راولپنڈی پانچویں نمبر پر رہا۔ خیبرپختونخوا سے بنوں پہلے، کوہاٹ دوسرے اور ایبٹ آباد تیسرے نمبر پر رہا۔ اسی طرح انوویشن ایوارڈز پشاور (صاف پانی تک رسائی )، ساہیوال (شہری شمولیت) اور گوجرانوالہ (خوبصورتی و پارکس) نے حاصل کئے۔ اس موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کلین گرین چیمپیئنز کا بھی اعلان کیا گیا جن میں پنجاب سے ڈاکٹر اکرم شہزاد (خانیوال) نے پہلی، اشفاق نذر (سیالکوٹ) نے دوسری اور بلقیس ریحانہ (فیصل آباد) نے تیسری جبکہ خیبرپختونخوا سے حسینہ حسین (پشاور) نے پہلی اور عاقل زمان (صوابی) نے دوسری پوزیشن حاصل کی