بلاول بھٹومودی کے موقف کوتوسیع دے رہے ہیں،اپوزیشن نظام کے خلاف سازشیں نہ کرے ، شاہ محمودقریشی

ملتان۔18اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم غیروقتی ‘ غیر فطری اور غیر نظریاتی اتحاد ہے ۔ حکومت نے پی ڈی ایم کو جلسہ کرنے کی کھلی اجازت دی نہ کوئی پابندی لگائی اور نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی۔ یہ الگ بات ہے گوجرانوالہ کے عوام نے پی ڈی ایم کو مسترد کیا اور مولانا فضل الرحمن نے جلسہ میں عوام کی بجائے کرسیوں سے خطاب کیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے اتوارکے روزرضاہال میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ اپوزیشن کی 11 رکنی ٹیم کا گوجرانوالہ کے جلسے میں افواج پاکستان کے خلاف اپنایا جانے والا ایجنڈا کسی پاکستانی کا نہیں ہوسکتا۔ بلاول مسئلہ کشمیر پر حقائق کو نہیں جانتے پاکستان کاموقف دو ٹوک اور واضح ہے۔ بلاول مودی کے موقف کو توسیع دے رہے ہیں۔ سعودی عرب سے ہمارے دیرینہ اوربہت بہترتعلقات ہیں۔انہوںنے کہاکہ ملک سے مہنگائی ختم ہونی چاہئے جس کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ چینی اور آٹے کا جو بحران پیدا کیا گیا ہے اس پر بھی جلد قابو پالیں گے ۔ جنوبی پنجاب کا مسئلہ اب کوئی بھی حکومت ریورس نہیں کر سکے گی۔ سیکرٹریٹ کیلئے سپورٹس کمپلیکس ملتان میں عمارت تعمیر کی جائیگی۔ اور آئندہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کاعلیحدہ کتابچہ سامنے آئے گا۔ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت کا اعلان متوقع ہے۔ کسانوں سے م©ذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 11 پارٹیوں کا یہ پہلا جلسہ تھا جس میں لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جلسے سے اختتام سے قبل ہی اس کی قلعی کھول دی تھی 2014ءمیں عمران خان نے اسی جگہ پر جلسہ کیا تھا ۔ دونوں جلسوں کو دیکھا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آسکتا ہے۔11 جماعتوں کے جلسے سے عوام لا تعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ دو سال کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ ہم اعتراف کرتے ہیں ملک میں مہنگائی ہے لیکن اس کا ذمہ دار عوام نے موجودہ حکومت کو قرار نہیں دیا کیونکہ عوام باشعور ہیں ۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں نے طویل عرصہ تک حکومت کی۔ پی ڈی ایم کے جلسے میں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے سے لاتعلق تھے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وقتی اتحاد دیر پا نہیں ہوتے۔ اصل میں پی ڈی ایم کے قائدین خوف میں مبتلا ہیںکیونکہ ان کے خلاف جن کیسوں کی سماعت ہو رہی ہے اس سے وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ کیس عمران خان کے تیارکردہ نہیں انہیں اپنا سیاسی وجود ختم ہونے کا خوف ہےاور سیاسی مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دیتا ہے۔عمران خان کو عوا م اقتدار میں لائے ہیں اور پی ڈی ایم کو عوام کے فیصلے ہضم نہیں ہو رہے۔آج وہ پرانے کھلاڑی پی ڈی ایم کے سٹیج پر نظر آئے ہیں جنہیں عمرا ن نے کلین بولڈ کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی تقریر میں نے سنی ہے وہ کہتے ہیں کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں یہ تیر لوگوں کے سینے میں پیوست ہوگیا ہے اور اس تیر سے سندھ کے عوام نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ماضی میں پیپلز پارٹی ذوالقفار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر کے نام سے ووٹ حاصل کرتی رہی اور اقتدار بھی حاصل کیا ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بلاول کتنی بار دوبارہ وہی فلم چلائیں گے کیونکہ لوگوں نے ان کا اقتدار بھی دیکھا ہے اور عمران خان کے اقتدار کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بلاول اور مریم کی تقریر کے دوران لوگ جلسے سے لا تعلق تھے ۔ جب فضل الرحمن خطاب کیلئے آئے جلسہ گاہ خالی ہو چکا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے لاہور میں ایک اجلاس کے ذریعے پی ڈی ایم کو ایک فری ہینڈ دیا تھا اسی لیے نہ تو کسی روکا گیا اور نہ گرفتاریاں ہوئیں۔ لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے عوام پی ڈی ایم کی کسی شازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔انہوں نے کہا کہ دسمبرسے قبل ہمیں رخصت کرنے کی باتیں بھی کی گئی لیکن ایک منتخب آئینی حکومت جس کے پاس عوام کا واضح مینڈیٹ ہے کو صرف سڑکوں پر آنے سے رخصت نہیں کیا جاسکتا۔ جب ماضی میں ایسا ہوا تھا تو جمہوریت کو نقصان ہوا تھا۔اگر یہ کھیل جاری رہا اور موجودہ جمہوری نظام کو نقصان ہوا تو پھر پی ڈی ایم کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئیگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک منتخب حکومت رخصت ہو جائے تو کیا اس کے بعد ملک میں سیاسی استحکام ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے عوام باشعور ہیں سمجھتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کرونا کا مقابلہ کیا اور اس دوران معیشت متاثر نہیں ہونے دی۔ میری تاجروں اور بزنس کمیونٹی سے اپیل ہے کہ وہ اس سازش کا شکار نہ ہوں۔انہوںنے کہا کہ بلاول نے کشمیر کا ذکر کیا لیکن میں یہ اضح کرنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان نے سلامتی کونسل میں اور میں نے جنیوا میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے آواز بلند کی ۔ بلاول سے کہتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے بیانیہ کونہ بڑھائیںتاکہ کشمیریوں کو جدوجہد میں مایوسی کا سامنا نہ ہو ۔ حکومت کے پاس اس سلسلے میں واضح پالیسی ہے اور کام جاری ہے ،سب پاکستانی کشمیرپر ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ انہوں نے کہا بلاول بھٹو نے میرے حوالے سے ذکر کیا کہ اب پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں ہے۔ بلاول کو اس سلسلے میں غلط فہمی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات پوری طرح مستحکم ہیں۔ میرا تعلق مدینة اولیاءسے ہے اور ملتان کے عوام کا مکہ اور مدینہ سے محبت اور عقیدت کا جو تعلق ہے وہ ختم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا سی پیک پر قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ بلاول ابہام پیدا نہ کریں سی پیک کے دوسرے فیز پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اور سی پیک پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا پی ڈی ایم کے جلسے میں قومی اداروں اور افواج پاکستان کو نشانہ بنانا کسی پاکستانی کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔ عوام جانتے ہیں کہ افواج پاکستان کی کیا خدمات ہیں افواج پاکستان نے دہشت گردوں کو شکست دی ۔ ورنہ آج پی ڈی ایم کی قیادت نہ تو جلسے کر رہی ہوتی اور نہ کھلے عام پھر رہی ہوتی۔سندھ میں کرونا کی مشکلات ہو ں یا بد امنی تو سندھ حکومت افواج پاکستان کی مدد حاصل کرتی ہے۔ بلاول نے ٹڈی دل کے حملے کا ذکر کیا تو حقیقت یہ ہے کہ ٹڈی دل کے حملے کے وقت سندھ حکومت کے ہاتھ پاﺅ ںپھول گئے تھے۔ وفاقی حکومت کی حکمت عملی سے اس پر قابو پایا گیا۔ انہوں نے کہا تنقید کرنا بہت آسان ہے ۔ مثبت کاموں کی تعریف کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا پاکستان کی عوام کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے اور پاکستان کو نقصان پہچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا ایک اہم اجلاس میں جس میں شہباز شریف ‘ بلاول ‘ احسن اقبال ‘ خواجہ آصف اسد الرحمن موجودتھے اور موجودگی میں واضح کیا گیا کہ افواج پاکستان اور قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹناپاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ا س کے باوجود اس طرح کی گفتگو پی ڈی ایم کے جلسے میں کی گئی ۔وہ قومی اداروں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 18اکتوبر کو کراچی میں ہونے والا سانحہ کار ساز انتہائی افسوس ناک تھا ۔جس میں بڑی تعداد میں معصوم جانیں ضائیں ہوئیں۔ اور یہ دہشت گردی کا بہت بڑا واقع تھا اس دہشتگردی کو پاک فوج نے شکست دی جس کی کارکردگی پرآج یہ لوگ تنقید کررہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی 5 سال اقتدار میں رہی لیکن آج تک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کا کھوج نہیں لگایا جاسکا ۔ جو لوگ اپنے گھر کے مفادات میں ناکام رہے وہ عوام کا تحفظ کس طرح کرسکتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ احتساب کا عمل سست ہے جس میں تیزی آنی چاہئے۔ احتساب کے اداروں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک میاں نواز شریف کی واپسی کا تعلق ہے تو حقیقتاً عدلیہ اس پر احکامات جاری کریگی ۔ کیونکہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ میاں نواز شریف جن میڈیکل رپورٹس پر بیرون ملک گئے تھے وہ درست نہیں تھیں اور وہ صحت یاب ہیں۔ان کے علاج کا ناٹک سب کے سامنے ہے ۔ انہیں اخلاقاً اور قانوناً عدلیہ کے سامنے پیش ہو کر ا پنے کیسوں کا سامنا کرنا چاہئے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام آدمی چینی اور آٹے کے بحران سے متاثر ہو رہا ہے اور عام آدمی کا متاثر ہونا نقصان دہ ہے۔ حکومت پنجاب اور کے پی کے نے شوگر ملوں کا سٹاک چیک کرنے کی پالیسی بنائی ہے لیکن سندھ حکومت اس کے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ اگر سندھ کی ملیں چیک کی گئیں تو بہت سے ایسے چہرے بے نقاب ہونگے جنہوں نے سٹاک کی بنیاد پر بینکوں سے پیسہ لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا آٹے کے بحران پر بھی قابو پانے کیلئے گندم امپورٹ کی جارہی ہے۔گندم کی امدادی قیمت کے بارے میں سید فخر امام نے بتایا ہے کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس کااعلان متوقع ہے ۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں کارروائی کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام کوئی آسان کام نہیں تھا۔جس کیلئے دن رات کوشش میں تھے اب یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے ۔ آئندہ سالانہ ترقیاتی بجٹ جنوبی پنجاب کا علیحدہ ہوگا۔ اور کوئی بھی حکومت آئے تو جنوبی پنجاب کی اہمیت کو ختم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں تحریک انصاف نے بھی سڑکوں پراحتجاج کیا۔ لیکن جب ہمارے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنا تو ہم سڑکوں سے ہٹ گئے اور کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کیا ۔سب کی حکومت نے 5سال کا دور مکمل کیا ہماری کوشش ہے کہ مہنگائی کے چیلنج سے عہدہ براہو ں لیکن مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کاحل نکالا جائے مذاکرات کے درواز بند نہیں ہونے چاہیئے۔\867