بنیادی حقوق ، معاشرتی امور اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اسلام نے حدود متعین کر دی ہیں ، ریاست مدینہ کی طرز پر معاشرے کا قیام ہمارا خواب اور نبی کریم ﷺکی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بنیادی حقوق ، معاشرتی امور اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اسلام نے حدود متعین کر دی ہیں ، ان تعلیمات کو عام کرنے کیلئے مسجد و منبر کا کردار بہت اہم ہے ، ریاست مدینہ کی طرز پر معاشرے کا قیام ہمارا خواب اور نبی کریم ﷺکی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے، ہمیں تفریق کی بجائے اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا چاہئے، فرانسیسی صدر کا رویہ قابل مذمت اور ریاستی سطح پر توہین آمیز مواد کی اشاعت کی حوصلہ افزائی افسوسناک ہے، بین الاقوامی سطح پر مذاہب کے احترام کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں عید میلادالنبی ﷺکی مناسبت سے قومی رحمت العالمینؐ ؐکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع ” ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داریاں ، سیرت نبی ؐکی روشنی میں “ تھا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی علامہ نور الحق قادری ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم ،وزیر مملکت زر تاج گل اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں تمام امت اور اہلیان وطن کو عید میلادالنبی ؐکی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ نبی کریمؐ کی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے معاشرتی مسائل کے حل کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور لوگوں میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مسجد اور منبر کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا جس میں ماحولیات کے تحفظ و فروغ ، زچہ و بچہ کی صحت اور سٹنٹنگ گروتھ کے مسئلہ ، خواتین کے وارثت میں حصہ اور وبائی امراض کی روک تھام کیلئے علما و مشائخ کے کردار کو فروغ دینے کا کہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمارے دین نے ہر معاملے میں حدود متعین کی ہیں، ان حدود کے اندر رہتے ہوئے بگاڑ سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کی کچھ وجوہات ہیں جن میں سے ایک طہارت ہے ، ہاتھ دھونا اور ماسک پہننا اسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک اہم وجہ حکومت کی جانب سے ملک کے غریب اور کمزور طبقات کاخیال رکھنا ہے ۔ احساس پروگرام کے تحت حکومت نے وبا کے دوران ان طبقات کی ضرورتوں کا خیال رکھا ، یہ ہمارے نبیؐ کی سنت ہے اس پر عمل کرنے سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوئی اور ہم کورونا کے خلاف جنگ جیتنے میں تقریباً کامیاب ہوگئے ہیں تاہم ابھی ہمیں مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کی وبا کے دوران بھی علما کرام کا کردار قابل ستائش رہا ، اس عرصہ میں ایس او پیز کے تحت مساجد کھلی رکھیں ، نماز اور تراویح کا اہتمام کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ امت میں تفریق کی بجائے اتحاد واتفاق کو فروغ دیا جائے ، اس حوالے سے علما مشائخ پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بین الاقوامی تعلقات میں اخلاقیات یا اقدار کی بجائےکاروباری مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ پہلو کشمیر کے مسئلہ پر مختلف ممالک کے ردعمل سے مزید عیاں ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں ناموس رسالتؐ کا معاملہ بڑے موثر طریقہ سے اٹھایا اور اس بارے میں دنیا کو مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کے بارے میں آگاہی دی ۔ صدر مملکت نے فرانسیسی صدر کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سطح پر توہین آمیز مواد کی اشاعت کی حوصلہ افزائی افسوسناک ہے،صدر میکرون اپنے بیانات سے معاشرے میں نفاق اور تقسیم پیدا کررہے ہیں،عالمی سطح پر مذاہب کے احترام کے متعلق قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا میں ہولوکاسٹ سے انکار قابلِ سزا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، اسلئے ناموس رسالتؐ کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کا بھی احترام کیا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں انسانیت کا درس دینے والوں کا مہاجرین کے ساتھ رویہ سب کے سامنے ہے جبکہ ہماری قوم نے دہائیوں تک لاکھوں مہاجرین کی کھلے دل کے ساتھ میزبانی کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اشرافیہ اور عدم مساوات کا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے جبکہ ہمارا خواب ریاست مدینہ کی طرز کے معاشرے کا قیام ہے جو انصاف ، مساوات اور غر یب پروری جیسی صفات کا حامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ عید میلادالنبیؐ کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے نبیؐ کی سیرت کی روشنی میں زندگی گزاریں اور اپنے مسائل کے حل کیلئے اسلامی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر مقالات سیرت ؐکے مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے سکالرز میں انعامات بھی تقسیم کئے۔