ترکی پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری میں فروغ چاہتے ہیں۔ مقررین

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور ترکی دہائیوں سے ایک دوسرے کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہیں سماجی، ثقافتی اور مذہبی طور پر مشترک اقدار رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے عوام مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے اسی لئے پاکستان اور ترکی ایک دوسرے سے تعاون بڑھا رہے ہیں اور یہ دوستی اب تجارتی اور معاشی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی اور سیاحتی سطح پر بھی بڑھ رہی ہے ان خیالات کا اظہار تحقیقی ادارہ مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک ویبینار ”پاکستان ترکی تعلقات میں وسعت کے امکانات “ میں مقررین نے کیا مقررین میں پاکستان میں ترکی کے سفیر احسن مصطفی یردکل، پاکستان کے ترکی میں سفیر سجاد قاضی، ترکی سے پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسال، وائس ایڈمرل (ر) خان حسن بن صدیقی، سابق سفیر اور ڈائریکٹر این ڈی یو آصف کمال، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر ضمیر اعوان، قائداعظم یونیورسٹی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شبانہ فیاض اور چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی شامل تھے۔ مقررین نے مزید کہا کہ ترکی کے عوام 1915میں جب جنگ عظیم اول کی مزاحمت کر رہی تھی اسی وقت ترک بھائیوں کے لئے لاہور شہر میں ایک عظیم ریلی منعقد کی گئی جس میں ایک اندازہ کے مطابق تقریبا چھ ہزار نفوس نے شرکت کی جس کا مقصد ترکی اور خلافت عثمانیہ کو بچانا اور اس کے حق کے لئے آواز بلند کرنا تھا یہ تاریخ اپنا آپ دہراتی رہی اور پاکستان بننے کے بعد بھی جب کبھی قدرتی آفات یا دشمنوں کے ہاتھوں تنگی آئی تو دونوں ممالک اپنی لازوال دوستی کا ثبوت ہر ممکن امداد کر کے دے رہے ہیں اسی بنیاد پر دونوں ممالک کی اعلی سطح پر باہمی تعاون کی تنظیم جو 2009 میں تشکیل پایا میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابیں باہمی تعلق کو زندگی کے ہر طبقہ فکر تک پھیلایا جائے گا جس کے نتیجے میں امسال ماہ فروری میں تیرہ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے جن میں سب سے اہم معاشی ترقی کی مفاہمتی یاداشت ہے جس کے لئے ایک ایک فریم ورک بنایا گیا تاکہ دونوں ممالک معاشی ترقی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس فریم ورک میں جوگول طہ کیا گیا وہ دونوں ممالک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے جس میں موجودہ 800 ملین ڈالر کی تجارت اور سرمایہ کاری کو اگلے تین سالوں میں 5 بلین ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لئے 71 نکات پر مشتمل پلان آف ایکشن تیار کیا گیا ہے اسی عزم کا اظہار ترکی کے صدر نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی اتنا ہی مظبوط تعلق چاہتے ہیں جیسا کہ دوسرے عوامل میں موجود ہے۔ پاکستان سیاحت اور تعمیراتی شعبوں سے بالخصوص اور باقی شعبوں سے بالعموم ترکی کے تجربات سے فائدہ اٹھائے گا جو ون بیلٹ روڈ اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں میں پاکستان کے کام آئیں گے کیونکہ ترکی اور چین بھی ایک دوسرے کے نزدیک بہت تیزی سے آرہے ہیں جو پاکستان کے ترکی اور چین سے اچھے تعلقات کی بنیاد پر سود مند ہے۔ ایسے ہی دونوں ممالک ایک دوسرے سے سیکیورٹی اور ملکی سلامتی کے کے لئے بھی مزید تعاون اور معاہدات چاہتے ہیں یہ رشتہ دونوں ممالک کو حقیقی معنوں میں ایک دوسے کے قریب لائے گا پچھلی ایک دو دہائیوں سے ترکی اور پاکستان مل کر دفاعی صنعت کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں اور ترکی پاکستان کی ٹینک، بحری جہاز اور دفاع میں استعمال ہونے والی موٹر وھیکلز بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام ایک مشترک روحانی ورثہ بھی رکھتے ہیں جس کو مولانا رومی اور علامہ اقبال نے مزید دوام بخشا، ترکی اور پاکستان کے وزٹ جن لوگوں نے کیے وہ اس کا تجربہ رکھتے ہیں کہ کیسے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے والہانہ طور پر پیار کرتے ہیں۔ اس مشترکہ روحانی ورثہ کی مثال عالمی تعلقات میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ موجودہ دور میں آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین تصادم میں پاکستان اور ترکی نے اصولی موقف کو اپناتے ہوئے آذربائیجان کو عالمی سطح پر سپورٹ کیا، اسی طرح ترکی نے ہر فورم پر کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی سپورٹ کی اور دونوں ممالک ہر فورم پر مل کرفلسطین کے مظلوم عوام کی آ واز بنتے ہیں۔دونوں ممالک تقریبا ایک جیسے ھالات سے گزر رہے ہی جن میں عالمی سازشیں، دہشت گردی، مہاجرین کی آباد کاری، جیسے مسائل شامل ہیں دونوں ممالک کے مابین ایک دوسرے سے سیکھ کر اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کام کرنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں دونوں ممالک کا مل کر چلنا اس وقت اسلامی دنیا کی ضرورت بھی ہے اور وقت کا تقاضا بھی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ جس شعبے مں دینے کی ضرورت ہے وہ تجارت ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتیں نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں تاکہ کامرس اور معیشت کے میدان میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
ویبینار میں ہر طبقہ فکر سے لوگوں نے شرکت کی۔