حکومت نوجوان نسل کےموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے وضع کردہ حکومتی پالیسیوں کی حمایت کے لئے بے مثال کردار سے بخوبی واقف ہے،ملک امین اسلم

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):و زیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیرِقیادت حکومت نوجوان نسل کےموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے وضع کردہ حکومتی پالیسیوں کی حمایت کے لئے بے مثال کردار سے بخوبی واقف ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں نوجوانوں کے زیرقیادت اور نوجوانوں پر مبنی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا ،موجودہ حکومت اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ نوجوانوں کوموسمیاتی تبدیلی کے عمل ، کاربن کے کم سےکم اخراج اور سر سبز پاکستان کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ ہفتہ کو بطور مہمان ِ خصوصی سائیکلنگ ریلی سے خطاب کرتے ہوئےملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ تاہم جب تک نوجوان نسل کو پائیدار موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات میںشامل نہیں کیا جاتا ماحولیاتی نقصانات سے بچنے کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔نوجوانوں کی ایک مقامی تنظیم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے’’گرین پاکستان کے لئے سائیکلنگ‘‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ سائیکلنگ ریلی کا انعقاد کیا ۔یہ ریلی روزاینڈ جیسمین گارڈن اور اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ کے گرد چکر لگا کر اختتام پذیر ہوئی۔اس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ، اساتذہ اور محققین سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ معاونِ خصوصی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کے دوران کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن برائے کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) پروگرام کے تحت حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے متعدد اقدامات میں نوجوانوںکی شمولیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔انہوں نےمزید بتایا کہ گزشتہ سال نومبر میں سی جی پی پروگرام کے آغاز کے بعد سے 120,000 رجسٹرڈ نوجوان رضاکاروں کی مدد سے شہروں کو ماحول دوست اور ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیےبہترین اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔’’مجھے مکمل یقین ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں معاشرتی اور ماحولیاتی شعور میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ لہٰذا کم کاربن اور آب و ہوا کے بہتر مستقبل کی طرف گامزن کرنے کے لیے سائیکلنگ جیسے اقدامات متعارف کروانے پر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوںـ۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پچھلی کئی دہائیوں سے توانائی کے مقاصد کے لئے عالمی سطح پر انسانی سرگرمیوں سمیت مختلف طریقوں سے ایندھن ، جنگلات کی کٹائی اور غیر مستحکم زرعی طریقوں سمیت کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال نے گلوبل وارمنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جس نے عالمی معیشتوں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو انتہائی خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ تاہم ، آب و ہوا کی تبدیلی کے ان منفی اثرات سے تیزی سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کے لیے جہاں متناسب خوراک اور صاف پانی کی دستیابی میں کمی واقع ہوئی ہے وہیں ماحولیاتی نظام بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس امر کے نتیجے میں آج لاکھوں افراد کو غذائی قلت ، بھوک ، بیماریوں اور محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس پسِ منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اب وقت آگیا ہے کہ نوجوانوں کی آبادی کو ماحولیاتی تبدیلی ، کاربن کے اخراج میں کمی، ماحول دوست زرعی نظام اور خاص طور پر عوامی شعور اجاگر کرنے سے متعلق پروگراموں اور سرگرمیوں کا حصہ بنا یا جائے تاکہ وہ مؤثر طریقے سے بہترین ماحولیاتی تبدیلی میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکیں۔‘‘انہوں نے تاکید کی کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیرِقیادت حکومت نوجوان نسل کےموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے وضع کردہ حکومتی پالیسیوں کی حمایت کے لئے بے مثال کردار سے بخوبی واقف ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں نوجوانوں کے زیرقیادت اور نوجوانوں پر مبنی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا ۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام ، کلین گرین پاکستان پروگرام ، ریچارج پاکستان پروگرام اور پروٹیکٹڈ ایریا اینیشی ایٹیو کے ذریعے بہت ساری نوجوان تنظیموں کو بااختیارکر رہے ہیں ، جس سے ماحولیاتی تبدیلی کے پالیسی ساز فیصلوں میں ان کی مؤثر شرکت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ معاونِ خصوصی ملک امین اسلم نے کہا کہ ’’ ہم ملک کے نوجوانوںکی سر سبز پاکستان اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے پر ہر ممکن مدد اور حمایت کے لئے پر عزم ہیں تاکہ ملک کو صاف اور سرسبز پاکستان کی طرف گامزن کرکے اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ، مضبوط اور آلودگی سے محفوظ ملکی مستقبل کے وزیرِ اعظم کے خواب کو پورا کر سکیں۔