حیدرآباد کے مسائل مل جل کر حل کریں گے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو

حیدرآباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ حیدرآباد کے مسائل مل جل کر حل کریں گے ، حیدرآباد میں وفاق کے دو منصوبوں ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے قیام اور انجینئر نگ سپورٹ پروگرام پر تیزی سے کام ہورہا ہے یونیورسٹی کے لیے سندھ حکومت نے جو ں ہی زمین دی کام شروع ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکٹ ہائوس حیدرآبادمیں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اجلاس اور ایم کیو ایم کے زونل آفس میں اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہی انہوں نے مقامی جم خانہ میں ظہرانے پر تاجروں سے بھی ملاقات کی جبکہ مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے خطاب کررہے تھے اجلاس میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی ،پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی خرم شیر زمان ، محترمہ سدرہ اور دیگر کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی صلاح الدین ، صابر قائم خانی ، ندیم صدیقی ، راشد خلجی اور دیگر موجود تھے اسد عمر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو روز گار دیا جائے عوام کے مسائل مل جل کر حل کئے جائیں سندھ میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی مل کر کوشش کررہے ہیں کہ عوام کو مشکلات سے نکالا جائے آج اراکین اسمبلی کے ساتھ اجلاس کا مقصد حیدرآباد میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے جائزہ لینا تھاحیدرآباد میں ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے علاوہ انجینئرنگ سپورٹ پروگرام کے دو اہم منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے جس یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد وزیر اعظم عمران خان نے رکھا ہے وہ ضرور اور جلد قائم ہو گی سندھ حکومت جوں ہی زمین دے گی یونیورسٹی کا عملی کام شروع ہو جائے گا ہم سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اس حوالہ سے میری وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی بات ہو ئی ہے اور مزید ملاقات ہو گی انہوں نے کہاکہ پورا صوبہ بالخصوص کراچی و حیدرآباد مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے کہاکہ ان دونوں شہروں کی عوام نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں شہر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ہم کوشش کررہے ہیں کہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں موٹر سائیکل و رکشہ بنانے کی صنعت تیزی سے مقبول ہیں ہم انہیں اور دیگر صنعت کاروں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں کراچی کے گرین لائن منصوبہ کے لیے آئندہ سال مئی یا جون میں بسیں آجائیں گی انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججوں کی ملک و جمہوری نظام میں بڑی حیثیت ہے ، ایسے قوانین بنائے جائیں کہ سیاستدانوں کےلئے تو کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن ججوں کےلئے کچھ نہیں کہا جاسکتا، سپریم کورٹ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایسے سوال پیدا ہورہے ہیں جن کا جواب لازمی ہے اور ایسی صورتحال نظر آئی جس کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا گیاانہوں نے کہاکہ کیپٹن (ر) صفدر کی جس طرح گرفتاری ہوئی ہے اس کا وفاقی حکومت کو سیاسی نقصان ہوا ہے ہم اس طرح کیوں کریں گے انہوں نے قائداعظم کے مزار کا تقدس پامال کیا ، قبر پر چھلانگیں لگائیں لیکن ہم نے اب تک کسی طرف سے کوئی معافی کا ایک لفظ نہیں سناانہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اسمبلی میں احتجاج ضرور کرتی ہے لیکن چھلانگیں نہیں مارتی انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں مردم شماری کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اس کے حوالے سے وفاقی وزیر علی زیدی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں ایم کیوایم کے امین الحق سمیت دیگر صوبوں کی نمائندگی دی گئی ہے ، اگر مردم شماری سے کراچی کی آبادی بڑھتی ہے تو سندھ کو فائدہ ہوگا اور اس کو زیادہ وسائل ملیں گے لیکن ہم نے کبھی وزیراعلیٰ سندھ سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں سنی سندھ کے جزائر سے متعلق وفاق اور صوبے میں جاری کشمکش کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ جولائی 2020ءمیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس حوالے سے این او سی جاری کی اور اس سے ملتے جلتے منصوبے صوبائی حکومت نے بنائے ، ان جزیروں کی تعمیروترقی سے بالخصوص پاکستان اور بالعموم سندھ کو روزگار ملے گا اور یہ منصوبہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بن سکتا ہے انہوں نے لطیف آباد میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہو ئے کہاکہ وفاقی حکومت کوشش کرے گی کہ شہروں میں چھوٹے بڑے کام کروائیں جس طرح سے کراچی کےلئے بڑا پیکیج منظور کیا گیا ہے اسی طرح اندرون سندھ کےلئے بھی ایک پیکیج دیں گے انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ آئندہ انتخابات میں سرخرو ہوسکیں حکومت کی برطرفی کی پیشن گوئیوں سے متعلق انہوں نے کہاکہ یہ وہ کہہ رہے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ لندن اور پاکستان میں میری کوئی جائیداد نہیں ہے پھر انہوں نے عدالت میں اپنی ساری جائیداد کے بارے میں لکھ کر دیا کنونشن سے جمشید علی شیخ ، ڈاکٹر مستنصر باللہ اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا –