سٹیٹ بنک سکیم کے تحت 6کھرب 52 ارب روپے کے قرضے سال کیلئے موخر

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں سٹیٹ بنک کی قرضہ موخرو ری شیڈول کرنے کی سکیم کے تحت اب تک 6کھرب 52 ارب 96کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کے قرضوں کو ایک سال کیلئے موخرکردیا گیاہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق اصل زر کی ادائیگی ایک سال کیلئے موخرکرنے کی سکیم کے تحت 9اکتوبر 2020 تک سٹیٹ بنک کو 14لاکھ ، 37 ہزار 405 درخواستیں موصول ہوئی جن کے ذمہ واجب الاداقرضہ کا حجم 24کھرب 93 ارب 46کروڑ40 لاکھ روپے ہے، ان میں سے13لاکھ 74ہزار 324 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے اور 6کھرب 52 ارب 96کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کے قرضوں کو ایک سال کیلئے موخرکردیا گیا۔ اسی طرح اس سکیم کے تحت ایک کھرب 96 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زیادہ کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ،ری شیڈولنگ کی منظوری دی گئی ہے۔اس سکیم کے تحت صارف قرض کا اصل زر ایک سال موخر کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ سہولت ان صارفین کیلئے ہے جن کی ادائیگی 31 دسمبر 2019 تک باقاعدہ ہوچکی ہو،قرض ادائیگی موخر کرنے پر بینک کوئی فیس یا سود چارج نہیں کریں گے۔ بینکس اس دوران صرف سود یا منافع کی وصولی کر سکیں گےجو صارفین سود یا منافع کی رقم ادا نہ کرسکیں وہ ری سٹرکچر کی درخواست کرسکتے ہیں۔ قرضوں کو موخر یا ری شیڈول کرنے سے کریڈٹ ہسٹری متاثر نہیں ہوتی۔