پاکستان، افغانستان کے ساتھ تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ اپنے تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، افغانستان میں کوئی گروہ ہمارا فیورٹ نہیں ہم سب کے ساتھ یکساں سلوک اور برتاوکے حامی ہیں۔ انہوں نے یہ بات افغان وولسی جرگہ کے سپیکر میر رحمان رحمانی کی قیادت میں افغان پارلیمانی وفد سے وزارتِ خارجہ میں ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات میں دوطرفہ پارلیمانی و ملکی تعلقات باہمی تجارت اور خطے کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے افغان پارلیمانی وفد کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ اپنے تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں افغانستان اور افغان عوام کیلئے مثبت سوچ رکھتی ہے، اسی لیے میں نے وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ افغانستان کا کیا ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میری طرف سے دس نکاتی واضح پیغام افغانستان کی پارلیمنٹ کو دیں۔انہوں نے کہاکہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی گروہ ہمارا فیورٹ نہیں ہم سب کے ساتھ یکساں سلوک اور برتاو کے حامی ہیں، ہم متحد افغانستان، افغانستان کی خود مختاری، اور علاقائی سالمیت کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کے خواہشمند ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ پر امن، مستحکم اور خوشحال افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے ، پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت اور معیشت کے فروغ کیلئے بہت سے مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت نے ہمیشہ یہی کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ، اسی نکتہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے خلوص دل کے ساتھ افغان امن عمل میں مصالحانہ کردار ادا کیا اور طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں معاونت کی ،ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے کی صورت میں، ایک تاریخی اور سنہری موقع میسر آیا ہے افغان قیادت کو اس موقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے ، بین الافغان مذاکرات طویل اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات کنندگان صبر و تحمل اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ، افغانستان میں امن عامہ کی صورتحال میں بہتری اور متشدد رویوں میں کمی کیلئے بین الافغان مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا نہایت ضروری ہے ، پاکستان افغان عوام کی رائے کا صدق دل سے احترام کرتا ہے اسلیے پاکستان، بین الافغان مذاکرات میں، افغان قیادت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کا احترام کریگا۔ پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں دیرپا اور مستقل قیام امن کا خواہاں نہیں ہو سکتا، پاکستان، پر امن افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہمارے باہمی تعلقات میں بہتری نہ صرف ہمارے باہمی مفاد میں ہے بلکہ یہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ہم آپ کے مسائل میں اضافہ نہیں بلکہ ان کا حل چاہتے ہیں لہذا ہمیں بے جا الزام تراشیوں سے اجتناب کرتے ہوئے، بہترین مستقبل کے حصول کیلئے، مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بعض قوتیں، پاکستان مخالفت ایجنڈے کے تحت، افغان سر زمین کو استعمال کرنا چاہتی ہیں – ہمیں ان عناصر کو قطعی طور پر اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے ذریعے ہمارے دو طرفہ تعلقات میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ افغان اسپیکر میر رحمنٰ رحمانی کا کہناتھاکہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور باہمی تجارت میں اضافے خصوصاً افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے۔ افغان پارلیمانی وفد نے پرتپاک استقبال پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔