پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گذشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان رہا ، 100 انڈیکس 1100پوائنٹس اضافہ ریکارڈ، انڈیکس 41ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا

کراچی۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گذشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1100پوائنٹس بڑھ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 41ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا جبکہ مارکیٹ کے سرمائے میں157ارب روپے سے زائد کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 76کھرب روپے سے تجاوز کر گیا،کاروباری تیزی کے سبب 57فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ممبر کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ کے چیئرمین اور معروف صنعتکار عارف حبیب نے ”اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حصص مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ جولائی ستمبر کوآٹر میں کمپنیوں کے فائننشیل نتائج بہت اچھے رہے ہیں، اس کوآٹر میں تاحال 64 کمپنیوں کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں ان کمپنیوں کی گروتھ میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ گروتھ بہت متاثر کن ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں حصص کی بہت ڈیمانڈ رہی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے لحا ظ سے یونٹی فوڈز لمیٹڈ ،پاک انٹر نیشنل بلک ،فوجی فوڈز لمیٹڈ ،کوہ نور اسپیننگ ،حیسکول پیٹرول ،ازگارڈنائن ،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ ،کے الیکٹرک لمیٹڈ ،پاک ریفائنری ،لال پیر پاور ،بائیکو پیٹرولیم ،پاک الیکٹرون ،لوٹے کیمیکل ،عائشہ اسٹیل مل ،اینگرو فرٹیلائزر ،بینک اسلامی پاکستان ،میپل لیف ،ہم نیٹ ورک ،فوجی سیمنٹ ،پاور سیمنٹ،کوٹ ادو پاور اورڈی جی کے سیمنٹ سر فہرست رہے ۔بڑے پیمانے کی نمو بتدریج بڑھنے ،فرٹیلائزر اور سیمنٹ ساز اداروں کی پیداوار اورفروخت کے حجم میں اضافے ،ڈی اے پی پر زر تلافی دینے اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کے تحت5زیرو ریٹیڈ سیکٹر کے لئے پاور ٹیرف میں کمی کی اطلاعات،5سا ل کے طویل دورانیئے کے بعد مسلسل 3ماہ کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہونے اور پاکستان کا نام ایف ٹی اے گرے لسٹ سے خارج ہونے کے امکانات پر مارکیٹ میں کاروبار سرگرمیاں عروج پر رہیں اور 4کاروباری دنو ں میں انڈیکس 1438.88پوائنٹس بڑھ گیا تاہم پرافٹ ٹیکنگ کی خاطر بعض اسٹاکس میں فروخت کے دبائو کے سبب مارکیٹ 1دن میں 336.90پوائنٹس لوز کر گئی مگر پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے مجموعی طورپر بلندی کی جانب گامزن رہی۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے دوران کے ایس ای100انڈیکس میں 1101.98پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس 40164.02پوائنٹس سے بڑھ کر41266.00پوائنٹس ہو گیا اسی طرح446.42پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 16934.86پوائنٹس سے بڑھ کر 17381.28پوائنٹس ہو گیاجبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 28471.79پوائنٹس سے بڑھ کر29118.26پوائنٹس پر جا پہنچا ۔کاروباری تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 1کھرب57ارب84کروڑ98لاکھ 4ہزار979روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 74کھرب88ارب 72کروڑ7لاکھ96ہزار492روپے سے بڑھ کر 76 کھرب 46 ارب 57 کروڑ 6 لاکھ 1 ہزار 471 روپے ہو گیا ۔گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس ایک موقع پر41816.95پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کے سب انڈیکس40068.50پوائنٹس کی پست سطح پر بھی دیکھا گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ21ارب روپے مالیت کے 66 کروڑ 12 لاکھ 76ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم 7ارب روپے مالیت کے 31کروڑ95لاکھ63ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر2042کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے1167کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،791میں کمی اور84کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔