کراچی میں رچائے ڈرامے کا مقصد بدعنوانی کا تحفظ اور این آر او مانگنا ہے ،ڈاکٹرشہبازگل

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہبازگل نے کہاہے کہ کراچی میں رچائے ڈرامے کا مقصد بدعنوانی کا تحفظ اور این آر او مانگنا ہے ، ڈرامہ کے ذریعہ مادر جھوٹ کو مادر ملت بنانا چاہتے ہیں، نواز شریف انقلابی ہیں تو ملک واپس آ کر آئین اور قانون کی پاسداری کرے اور باقی ماندہ جیل گزارے، عمران خان جو کہتا ہے وہ کر کے دیکھتا ہے ، جب تک عمران خان کی زندگی ہے ،چاہے وزیر اعظم رہے یا نہ رہے وہ ان کو کرپشن نہیں کرنے دیں گے ، حکومت لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور بہتر حکمرانی کی طرف توجہ دے رہی ہے ۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ بدقسمتی سے 40سالوںمیں دو ٹبر سیاست میں آئے ہیں جنہوں نے جھوٹ بولنے میں پی ایچ ڈی کی ہے لیکن اس کے باوجود ہر بار پکڑے جاتے ہیں ، یہ لوگ پہلے صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں، میڈیا میں من پسند دوستوں کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے اور اس کی ٹائمنگ بھی ایسے رکھتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہو، کل مریم صفدر نے بلوچ طلباءکو استعمال کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان لوگوں کا مسئلہ گورنر پانچ دن پہلے حل کر چکے ہیں، شہباز گل نے کہا کہ آج مسلم لیگ ن کی جو حالت ہے نواز شریف ، شہبا ز شریف اور مریم صفدر کی وجہ سے ہے ، ان لوگوں نے نہ صرف خود بلکہ اپنی اولاد کو بھی کرپشن پر لگایا ، اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی ہربات ، ہر جھوٹ اور ڈرامے پر یقین کیا جائے ۔ شہباز گل نے نے کہا کہ گواہی ان لوگوں کی مانی جاتی ہے جن لوگوں کا ماضی درست ہو، مریم صفدر سرٹیفائیڈ جھوٹی ہے ، وہ روزانہ صبح اٹھ کر جھوٹ بولتی ہے اور درباریوں کے ذریعے اسے پھیلاتی ہے، مریم صفدر نے ماضی میں غلط دستاویزات عدالت میں پیش کیں جس پر اسے سزا بھی ہوئی ہے ، وہ آج جیل سے اس لیے باہر ہے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ انکے والد بیمار ہیں اور تیمار داری کرنا چاہتی ہے، میں یہ نہیں بتا سکتا کہ رہائی کیلئے وہ کس کس کے سامنے روتی رہی اور منتیں کرتی رہی، انہوں نے کہا کہ مریم صفدر نے کراچی میں ہوٹل کا دروازہ توڑنے کا جھوٹ بولا ، اپنے ملازمین کو اداروں کے لوگ ظاہر کیا، ان کی ویڈیو ان کے ذاتی رپورٹر نے بنائی ہے جس کو کپٹن (ر) صفدر خود کہہ رہا ہے کہ یہ ویویڈ وائرل کر دو ، جو شخص ویڈیو بنا رہا ہے وہ ایک پیشہ ور فوٹو گرافر ہے ، جس نے ایک ، ایک پولیس اہلکار کو کیمرے میں فوکس کیا ہے ۔اگر دروازہ توڑا گیا تھا تو اس کی ویڈیو یہ لوگ چلا دیتے ، انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک منظم ڈرامہ تھا جس کی فوٹیج لندن میں من پسند صحافی سے چلاوائی گئی اور پاکستان میں من پسند چیلنج پر دیکھایا گیا ۔بلاول بھٹو ، کیپٹن(ر)صفدر ، مریم صفدر اور مریم اورنگزیب کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جنہوں نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے نوٹس لینے کے مطالبات پیش کئے ۔ بلاول نے آئی جی سے ملاقات کی جس کے بعد رخصت پر جانے کی درخواستیں سامنے آگئیں ، کیا اومنی گروپ والے معاملے پر کوئی ٹوئٹ آیا تھا ، انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کا مقصد اپنی بدعنوانی کا تحفظ اور این آر او مانگنا ہے ۔ یہ لوگ مادر جھوٹ کو مادر ملت بنانا چاہتے ہیں اور مزار قائد پر نعرے بھی اسی مادر جھوٹ کیلئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں مریم صفدر کو رہا کرنا درست فیصلہ نہیں تھا ۔ اشرفیہ اور غریب کیلئے الگ الگ قانون کی روش کو بدلنا ہوگا۔ یہ دوہر معیار ختم کرنے ہونگے ۔ یہ حکومت عدالیہ سمیت پورے معاشرے کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ معاون خصوصی نے کہا کہ کراچی کا ڈرامہ منہ بولے بہن بھائی نے مل کر بنایا تھا ، حکومت کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنا چاہتی تو ایسے کیس میں کیوںگرفتار کرتی جس میں ایک ہی روز میں ضمانت بھی ہو ۔ جو ڈرامہ رچایا گیا وہ پاکستان کے خلاف بیانیہ ہے ، بھارتی میڈیا نے اس ڈرامہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کہا کہ کراچی میں پولیس اور فوج کے درمیان تصادم ہوا ہے ۔ شہباز گل نے کہا کہ انکی کوشش ہے کہ کس طرح اپنی کرپشن کو بچائیں ، جن لوگوں سے یہ مدد مانگ رہے ہیں انکے بھی اہداف ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف پاک فوج اور چین کو نشانہ بنانا ہے۔ شہباز گل نے کہا کہ مریم صفدر ہمیشہ جھوٹ بولتی ہیں اور وہ جھوٹ اس وقت نہیں بولتی جب وہ خاموش ہوتی ہے چونکہ وہ تعلیم میں کمزور رہی ہے اس لیے ہر بار اس کا ڈرامہ ناکام ہو جاتا ہے ۔ یہ کرپشن بچانے کیلئے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرتے ہیں ، اس مقصد کیلئے یہ بین الاقوامی ایسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بیانیہ کا تیسرا مقصد نواز شریف کو انقلابی ثابت کرنا ہے ۔ انقلابی بھاگتے ہیں نہیں، اگر نواز شریف انقلابی ہیں تو ملک واپس آ کر آئین اور قانون کی پاسداری کرے اور باقی ماندہ جیل گزارے ۔ شہباز گل نے کہا کہ عمران خان جو کہتا ہے وہ کر کے دیکھتا ہے ، جب تک عمران خان کی زندگی ہے ،چاہے وہ وزیر اعظم رہے یا نہ رہے وہ ان کو کرپشن نہیں کرنے دیں گے ۔ان لوگوں کی صحیح جگہ جیلیں ہیں ۔ ایک سوال پر شہبازگل نے کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، ہماری کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔ علی عمران سمیت سب کی بازیابی ہونی چاہئے اور پولیس کو بھی مدد فراہم کرنی چاہئے۔ وزیر اطلاعات نے اس حوالے سے ہدایات بھی جاری کی ہیں، سندھ حکومت کو بھی انکوائری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور بہتر حکمرانی کی طرف توجہ دے رہی ہے ۔