اپوزیشن سیاسی دوکان چمکانے اور بدعنوانی کیسز سے بچنے کیلئے غریبوں کو استعمال کر رہی ہے، جلسوں سے کورونا پھیلا تو اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف مقدمات درج کرائیں گے،وفاقی وزیر

اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت ملک اور قوم کے اچھے مستقبل کیلئے مشکل فیصلے کر رہی ہے، عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ مشکل وقت عارضی ہے، معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں عوام کو اس کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے، سابق حکمرانوں نے اپنے ادوار میں صرف جائیدادیں اور اثاثے بنائے، عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، یہ لوگ سیاسی دوکان چمکانے اور بدعنوانی کیسز سے بچنے کیلئے غریبوں کو استعمال کر رہے ہیں، حکومت اپوزیشن کے ساتھ انتخابی اصلاحات سمیت دیگر قومی مفادات کے معاملات بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے لیکن احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، جس کسی نے بھی غلط کام کیا ہے وہ بھگتے گا، اپوزیشن کے جلسوں کی وجہ سے کورونا پھیلا تو ان کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات درج کرائیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے غلط معاہدوں کی وجہ سے بجلی مہنگی تھی، انہوں نے ڈالر کو مصنوعی سہارا دے رکھا تھا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم نہ کرتے تو کرنسی مزید غیر مستحکم ہو جاتی اسلئے حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ شبلی فراز نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قائدین کا وزیراعظم عمران خان سے کوئی موازنہ نہیں ہے، سابق حکمرانوں نے صرف لوٹ کھسوٹ کر کے جائیدادیں اور اثاثے بنائے، ملک کو تباہ کیا اور عوام کی خدمت نہیں کی جبکہ وزیراعظم عمران خان دیانت دار شخص ہیں، وہ کرپشن کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں، وہ ملک کو بنانے اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں سہولیات دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت مال بنانے نہیں، بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے، اگر ہم بدعنوان عناصر کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں تو پھر ہمیں سیاست کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے جلسے جلوسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم نے انہیں پہلے بھی تین شہروں میں جلسے کرنے کی اجازت دی، پی ٹی آئی اکیلے ان 11 جماعتوں سے بڑا جلسہ کر سکتی ہے لیکن ہم نے عوام کی صحت کے تحفظ کی خاطر 21 نومبر کو رشکئی میں جلسہ ملتوی کیا، اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی این سی او سی فیصلوں کی توثیق کی ہے، حکومت نے کورونا ایس او پیز جاری کر دی ہیں، اپوزیشن کے جلسوں کی وجہ سے کورونا پھیلا تو ان کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات درج کرائیں گے۔ شبلی فراز نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے مافیا کو طاقتور بنایا کیونکہ یہ خود بھی اس کا حصہ تھے تاہم موجودہ حکومت ملک سے مافیا کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے، چینی بحران میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم کو قومی اداروں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا، یہ لوگ جلسوں سے عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں اور عوام ہی ان کا احتساب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر غریبوں کی بات کرتے ہیں، یہ لوگ صرف ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے غریبوں کو استعمال کر رہے ہیں، نواز شریف اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور وطن واپس آ کر عدالتوں میں اپنے بدعنوانی مقدمات کا سامنا کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت شفاف انتخابات کیلئے سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کر رہی ہے، شفاف انتخابات اپوزیشن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، حکومت اس حوالے سے اپوزیشن کی مناسب تجاویز پر ضرور غور کرے گی لیکن وہ تجاویز نیب قانون میں ترمیم کی طرح نہ ہوں، اپوزیشن نے نیب قانون میں ترمیم کیلئے 34 شقیں پیش کی تھیں اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نیب کو ختم کر دیا جائے۔