حکومت پسماندہ طبقے کواحساس پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے،ڈاکٹرثانیہ نشتر

پشاور۔21نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے غربت خاتمہ ومعاشرتی تحفظ ڈویژن ڈاکٹرثانیہ نشتر نے کہاہے کہ حکومت پسماندہ اور مستحق طبقے کواحساس پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل موثرپیمانے پر بروئے کارلارہی ہے،احساس پروگرام کے تحت طلبہ کومکمل سکالرشپ بھی دیاجارہاہے، وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ریاست مدینہ کے وعدے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیاجارہا،پاکستان میں پہلی مرتبہ جدیدطرزپرمستحق خاندانوںکاریکارڈمحفوظ کیاجارہاہے تاکہ غیر مستحق افرادکسی مستحق خاندان کااستحصال نہ کرسکے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ہفتے کے روز سکندرٹائون پشاورمیں قومی سماجی ومعاشی سروے کے عمل کی نگرانی کے دوران میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹرثانیہ نشترنے کہا کہ خیبرپختونخواقومی سماجی ومعاشی سروے کاآغازامسال ستمبرمیںہواتھاجواپریل 2021میں پائیہ تکمیل تک پہنچ جائیگا،سروے کے بنیادپرحق داراورحقیقی مستحق خاندانوںکاتعین کیاجارہاہے، وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق غریب گھرانوں کیلئے احساس پروگرام چھتری تلے بہت سے پروگراموںکاآغازکیاگیاہے، عوام احساس پروگرام ٹیموں کیساتھ بھرپور تعاون کرکے مستحق افرادکوریلیف پہنچانے میں کرداراداکریں۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کے علاج معالجے اورنومولودبچے کی نشونماء کیلئے بھی احساس پروگرام کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں،حاملہ خواتین کوسہ ماہی وظیفہ بھی دیاجارہاہے جس میں لڑکیوںکیلئے 2ہزارجبکہ لڑکوںکیلئے1500روپے سہ ماہی دیئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت 100اضلاع کی بجائے اب 150اضلاع میں ہرمہینے چھوٹے کاروبار کیلئے 80ہزار روپے دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ امسال ماہ دسمبرسے احساس تحفظ پروگرام کا باقاعدہ آغازکیاجارہاہے جو مستحق اورضرورت مندافرادکوریلیف دینے میں کافی موثرثابت ہوگااورمستحق افرادایک موبائل میسج کے ذریعے اس سے استفادہ حاصل کرسکیںگے۔ قبل ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی نے پشاورکے ایک مقامی ہوٹل میںبینک الفلاح کیلئے احساس کفالت پروگرام ٹریننگ میٹریل کے حوالے سے ورکشاپ کابھی دورہ کیاجہاںپراحساس کفالت پروگرام میں ریٹیلرزکے ساتھ بات چیت کی اورانہیں درپیش مسائل سے آگاہی بھی حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ ریٹیلرزکے مسائل کوترجیحی بنیادوںپرحل کیاجائیگاتاکہ مستحق افرادکووظیفہ ملنے میں دشواری کاسامنا نہ ہو۔انہوں نے سروے فارم کے حامل خاندان کے گھرکادورہ بھی کیا۔