پی ڈی ایم کا پشاور میں جلسہ بری طرح ناکام ہوا ہے، عوام نے اپوزیشن کو مسترد کردیا، اپوزیشن اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا پشاور میں جلسہ بری طرح ناکام ہوا ہے، میدان سے زیادہ لوگ اسٹیج پر تھے، آج اپوزیشن کیلئے بڑا سبق ہے کہ عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے اسلئے اپوزیشن اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے، کورونا کی موجودگی میں جلسے کرنا ویسے بھی اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے، سب جانتے ہیں کہ یہ جان لیوا وبا ہے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن ذاتی مفادات کیلئے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے، اپوزیشن کو عوام کی صحت اور ملکی معیشت کی خاطر ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے، مولانا فضل الرحمان ڈی آئی خان کا قلعہ فتح نہیں کر سکے وہ کیا حکومت گرائیں گے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم پشاور جلسے میں مریم نواز کو دادی کے انتقال کے اطلاع دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی، انتقال کی اطلاع نہ دینے کی بات تنقید برائے تنقید ہے، شریف فیملی کے یہاں بہت لوگ موجود ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بعد آج خیبرپختونخوا عوام نے پی ڈی ایم کے بیانیے کو رد کر دیا ہے، عوام نے وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر لبیک کہا، اپوزیشن میں اگر تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ ہے تو اسے آج کے بعد جلسے جلوس موخر کر دینے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ایسے راستے پر چل رہی ہیں جس سے ملکی معیشت اور عوام کا نقصان ہو رہا ہے، اپوزیشن رہنمائوں میں ملک کی بہتری کی سوچ ہوتی تو یہ کبھی ایسے کام نہ کریں جس سے ملک کو نقصان ہو لیکن یہ لوگ خود غرض ہیں، ان کو عوام کی کوئی فکر نہیں اسلئے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، یہ لوگ ماضی میں حکومتوں میں رہے ہیں، انہیں چاہیے تھا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے لیڈ کرتے لیکن یہ لوگ ملک اور عوام سے زیادہ ذاتی مفادات کو مقدم سمجھتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا عالمی وبا ہے، اس صورتحال میں کوئی بھی جلسے کرے وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قائدین اپنے دور حکومتوں کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں میں ملوث رہے، اب جب نیب ان کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ انتقامی کارروائی ہو رہی ہے، ، یہ لوگ این آر او لینے کیلئے واویلا کر رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں انہیں ریلیف نہیں دیں گے۔ شبلی فراز نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دو مرتبہ اپوزیشن رہنمائوں سے بات کرنے کیلئے میٹنگ بلائی لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی، اب پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس بلا کر اپوزیشن جماعتوں کے سینئر رہنمائوں سے بات کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ لوگ موجودہ صورتحال میں سیاسی سرگرمیاں موخر کر دیں۔