مہنگائی نے جتنا بڑھنا تھا بڑھ گئی اب اس کے کم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کی پریس کانفرنس

فیصل آباد۔13جون (اے پی پی):وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑااورجب اقتدار سنبھالا تو تحریک انصاف کی حکومت کو بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا،معیشت کایہ عالم تھا کہ زر مبادلہ کے ذخائرصرف 15دن کے تھے،ترسیلات زر، ایکسپورٹ، زرعی پیدوار نہ ہونے کے برابر تھی مگر حکومت نے عمران خان کی قیادت میں دیگر چیلنجز کے ساتھ کورونا وبا کے چیلنج کا بھی کامیابی سے سامنا کیا،قوم سے جو وعدہ کیا تھا کہ بجٹ عوام و کاروبار دوست اور پاکستان کے اندر رہنے والے ہر طبقے کیلئے ریلیف بجٹ ہوگا،اسے پورا کردیاجبکہ اڑھائی کروڑ پاکستانیوں کو کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے اٹھانے جارہے ہیں جو گیم چینجر ثابت ہوگا،900ارب کے پی ایس ڈی پی میں آبی ذخائر کیلئے پیسے اورسندھ، بلوچستان،کے پی کے،گلگت بلتستان کیلئے بجٹ میں فنڈز رکھے گئے ہیں اسی طرح ہم نے این ایف سی ایوارڈبڑھا کر 3412ارب کر دیاہے جس میں صوبوں کو بڑا حصہ فراہم کر رہے ہیں ،اب صوبے بھی صوبائی فنانس ایوارڈ کا اعلان کریں ،ہر کسی کوگروتھ نظر آرہی ہے اگر نہیں آرہی توبلاول، شہباز اور اپوزیشن کو نظر نہیں آ رہی کیونکہ ان کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی گروتھ رک گئی ہے،علاوہ ازیں مہنگائی نے جتنا بڑھنا تھا بڑھ گئی اب اس کے کم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اتوار کی دوپہر سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ( ن) کی حکومت ختم ہوئی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھامگر ہم نے تمام مشکل حالات اور چیلنجز کا جوانمردی سے سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے کثیر تعداد میں ترسیلات زر پاکستان بھیجیں جس سے ملک کو بڑا سہارا ملا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اقتدار سنبھالتے وقت چیلجنز کا انبار تھااورمعیشت کا عالم یہ تھا کہ ریزور 15دن کا تھامگرہم نے دیگر چیلنجز کے ساتھ کورونا وبا کے چیلنج کا بھی کامیابی سے سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام صوبوں کا اس کا حق یا ہے اور این ایف سی ایوارڈبڑھا کر 3412ارب کر دیاگیا ہے اسلئے اب صوبوں کو بھی چاہیے کہ صوبے بھی صوبائی فنانس ایوارڈ کا اعلان کریں۔

فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان کی نیت نیک تھی اسلئے انہوں نے تمام تر چیلنجز کا مقابلہ کیااور کوویڈسے نبرد آزما ہوئے حالانکہ کووڈ19 کے باعث بھارت منفی 7.7،بنگلہ دیش، ترکی سمیت بہت سے ممالک کی معیشت محدود ہوئی مگر ہماری معیشت اوپر گئی۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے 14ارب روپے موسمیاتی تبدیلی کے منصوبوں کے لئے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرائمری بیلنس میں اگر سود کو نکال دیا جائے تو ہمارے اخراجات اور آمدن قریب قریب ہے کیونکہ ہمیں 3ہزار ارب قرضوں کی قسطیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں جو سابق حکمرانوں نے لئے۔

انہوں نے کہا کہ فی کس آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ سوائے اپوزیشن کے سب کو بجٹ اچھا لگ رہا ہے جس میں تنخواہ دار پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیااورتنخواہ و پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور مزدور کی کم سے کم اجرت 20 ہزار مقرر کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیااوراحساس پروگرام میں 34فیصد اضافہ کرکے اسے210ارب سے 260ارب پر لے گئے ہیں اورایک کروڑ لوگوں تک یہ پروگرام پہنچ گیا ہے جبکہ نئے غربت سروے میں مستحق لوگ بھی شامل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم شفافیت کی بنیاد پر اس پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے دور میں جو بی آئی ایس پی 70ارب کا پروگرام تھاہم نے ایک چھتری کے نیچے مزید34 پروگرامات شروع کئے ہیں جن سے عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوگانیزکم آمدن والے افراد کو گھر بنانے کیلئے 20لاکھ روپے تک قرض دیاجائے گا۔

اپوزیشن کی تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب ن لیگ نے اقتدار چھوڑا اس وقت 60 ارب کی درآمدات تھیں اور ٹریڈ ڈیفیسٹ 40 ارب کا تھااورن لیگ کے 5 سالہ دور میں زرعی پیداوار نہ ہونے کے برابر تھیں مگروزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے کووڈ سمیت تمام مسائل کا سامنا کیااوردنیا کی گرتی ہوئی جی ڈی پی گروتھ کے برعکس پاکستان کی اکانومی 4 فیصد پر آگے بڑھائی۔انہوں نے کہا کہ جو مسائل درپیش تھے ان کو سامنے رکھ کر بجٹ بنایا گیاجس میں ہم40 سے 60 لاکھ خاندانوں کو اوپر لائیں گے،لوگوں کوگھر بنانے کیلئے آسان قرض دیا جائے گا،کاشت کار کو ہر فصل پر ڈیڑھ لاکھ قرض دیا جائے،دوسے ڈھائی کروڑ لوگوں کو اپنی چھت سمیت بنیادی ضروریات فراہم ہونگی اورکامیاب پاکستان پروگرام کا نام بھی اسی لئے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں 9 سو ارب روپے رکھے گئے ہیں اورہم نے زراعت کی ترقی کیلئے پیسے رکھنے سمیت34 سو 12 ارب روپے صوبوں کو این ایف سی شیئر کے اندر بڑا حصہ فراہم کیا ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ پوری دنیا گلوبل وارمنگ پر کام کر رہی ہے اسلئے ماحولیات میں بہتری کیلئے ساڑھے 14 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سال2018 میں 138 ارب روپے سبسڈیزتھیں جن کو بڑھا کر 682 ارب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کا پرائمری بیلنس انتہائی اہم ہوتاہے جون لیگ کے دور میں 3اعشاریہ 8 فیصد چھوڑ کر گئے تھے مگرہم نے اخراجات کم کر کے اور آمدن بڑھا کر پرائمری بیلنس کو 1 فیصد کیالیکن چونکہ گزشتہ قرضوں کی ادائیگی بھی ہمیں کرنا پڑ رہی ہے ورنہ یہ بھی سرپلس میں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے برآمدات کو بڑھا کر آمدن کو بڑھایا ہے اسی طرح اب فی کس آمدنی1608 ڈالر پر کھڑی ہے جون لیگ 2018 میں 1496 پر چھوڑ کر گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ96 سو اوورسیز نے پانچ سو ملین ڈالر فی اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے پیاروں کو بھیجا ہے جس سے ہر طرف گروتھ نظر آرہی ہے لیکن گروتھ اگر کسی کونظر نہیں آ رہی تو اپوزیشن کو نظر نہیں آ رہی کیونکہ بلاول، شہباز اورا پوزیشن کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی گروتھ رک گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کیلئے اب بہتری کا سفر شروع ہو چکا ہے،تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،بجلی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،احساس پروگرام کیلئے رقم 210 بلین سے بڑھاکر 262 ارب تک لیکر گئے ہیں جس سے ایک کروڑ تک لوگو مستفید ہونگے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بار بار بینظیر انکم سپورٹ کی بات کرتے ہیں حالانکہ اسوقت اس پروگرام کا بجٹ صرف 70 ارب تھاجس میں ہم نے اضافہ کیا اور اب اس کا دائرہ بڑھاکر50 ہزار تعلیمی سکالر شپ دیئے جا رہے ہیں ،یوٹیلیٹی سٹورز پر پائلٹ سبسڈی کا سسٹم جولائی میں کمپیوٹرائزڈ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے اشیاکی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں اور اگرچہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے مگرہم یقینی بنائیں گے کہ کم ازکم اجرت پر عمل درآمد ہوجس کے ساتھ ساتھ ہمیں کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 40 سے 60 لاکھ لوگوں کو پاؤں پر کھڑے کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول اور شہباز دونوں نے بجٹ پڑھا ہی نہیں توان کو کیسے علم ہوا کہ بجٹ کے اعدادوشمار غلط ہیں جبکہ بجٹ کے دوران یہ نعرے بازی کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اپوزیشن خود ایک دوسرے پر عدم اعتماد لیکر آئی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگریکطرفہ کسی بھی فریق کی بات سنیں گے تو وہ اپنی سنائے گااسلئے ہمیں ایسے رویوں سے گریز کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر بات کرنے یا بلاجواز کیچڑ اچھالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں دیامر بھاشا،داسو،مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں اور اب ہمارا تمام فوکس زراعت پر ہوگا تاکہ نہ صرف بمپر کراپس کی موجودہ صورتحال کو برقراررکھاجاسکے بلکہ خوردنی تیل، دالوں اور ایسی دیگر غذائی اجناس جو بیرون ممالک سے درآمد کرنا پڑتی ہیں انہیں بھی ملک کے اندر ہی کاشت کرکے ضرورت کو پورا کیاجائے۔

انہوں نے کہاکہ جو اپوزیشن آج بجٹ پر تنقید کررہی ہے ان کے دور میں 2013میں این ایف سی ایوارڈ 1459ارب،2018میں 2384ارب اور اب ہمارے دور میں 3412ارب ہوگیا ہے اسی طرح ن لیگ کے دور میں گلوبل کمٹمنٹس کے تحت ماحولیات کیلئے ن لیگ کے دور میں 802ارب جبکہ اب 1450ارب رکھے گئے ہیں ،اسی طرح پچھلے سال جو سبسڈیز 400ارب روپے تھیں وہ اب 682ارب کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ن لیگ 1500ارب روپے سود کی قسطیں دے رہی تھی جو اب ہم ان کے لئے گئے قرضوں کی 300ارب کی قسطیں اداکررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے دور میں ڈیٹ ٹو جی ڈی پی 87تھی جو ہم نے کم کرکے 83پر لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کی حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور ان کے بجٹ کے ثمرات سب کو نظر آرہے ہیں جس میں صنعت وتجارت، برآمدات،زراعت، تعلیم،صحت سمیت ہرشعبہ کو فائدہ پہنچایاگیا ہے اسی طرح سرکاری ملازمین کو بھی سہولت دے کر ان کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پٹرول کی عالمی قیمتیں 34ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 70ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہیں مگر ہم نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا تاکہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے۔

انہوں نے کہاکہ اب ہم فوڈ سکیورٹی پر بھی خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ روزمرہ استعمال کی اشیاکی سٹوریج کیلئے کولڈ سٹور بنیں،فارم سے مارکیٹ تک سڑکیں تعمیر ہوں، اعلیٰ معیار کے بیجوں پر تحقیق ہو، لائیو سٹاک سیکٹر کی ترقی سے دودھ وگوشت کی پیداوار بڑھے اور ملک کو معاشی استحکام حاصل ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرمملکت فرخ حبیب نے کہاکہ مہنگائی جتنی بڑھنی تھی بڑھ گئی ہے اور اب اس کے نیچے آنے کا وقت شروع ہوگیا ہے جس سے ملک کے ہرآدمی کو ریلیف ملے گا۔