پاکستان اور چین افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں،دونوں ممالک افغان امن عمل میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا چینی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

بیجنگ۔24جولائی (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں‘دونوں ممالک افغان امن عمل میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے شہر چینگدو میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین افغانستان کے امن عمل میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تشدد کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور پاکستان افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو وہاں قیام امن کے لئے فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے معاملے پر وہ مطمئن ہیں کہ یہ صحیح سمت میں گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سٹریٹجک ، معاشی اور سلامتی تعاون کےعزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ فریقین نے دو طرفہ مذاکرات میں اس تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وفود کی سطح پر بات چیت انتہائی دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے جس میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور چین دوست ہیں اور دوست کی حیثیت سے رہیں گے، دنیا کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم قابل اعتماد دوست ہیں۔

وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر عزم کے اعادہ پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست کی مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائیوں کو کالعدم قرار دے اور اس کی حیثیت بحال کرے۔انہوں نے کوویڈ 19 سے نمٹنے ،کورونا وائرس ویکسین کی فراہمی اور پاکستان کی بھر پور حمایت کرنے پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔داسو میں چینی انجینئرز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اس حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو بھی پاک چین تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہمارے دوطرفہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو اپ گریڈ کرنے کے ہمارے ارادوں کا واضح مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور چینی اسٹیٹ کونسلر ، وزیر خارجہ وانگ یی نے ہفتہ کو دوطرفہ اسٹریٹجک ، معاشی اور سیکیورٹی تعاون کے علاوہ عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے اپنے ٹویٹر پر پوسٹ کیا ہے کہ دونوں فریقین نے کووڈ 19 وبا، افغانستان میں امن اور مفاہمت سمیت باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چین کے دو روزہ دورے پر گئے ۔ وزیر خارجہ کے ساتھ سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلی سطح کے تبادلے کا حصہ ہے۔

ایک ٹویٹ میں وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے صوبہ ہنان میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت بھی کی۔ایک ٹویٹ میں وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں امن و استحکام سماجی و اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لئے بہت ضروری ہے۔انہوں نے تمام افغان اسٹیک ہولڈرز سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور ایک جامع اور بات چیت والی سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پر امن ، مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا کے لئے دونوں فریقوں نے ایک جیسے نظریے کا اشتراک کیا۔

وزیر خارجہ نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ وہ کشمیر کے لئے چین کی حمایت کو سراہتے ہیں۔وزیر خارجہ نے مزید پوسٹ کیا اورداسو میں ہونے والے واقعے کی مذمت کی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی ویکسی نیشن مہم کے لئے مستقل حمایت پر چین کا بھی شکریہ ادا کیا۔چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے بارے میں انہوں نے ٹویٹ کیا کہ سی پیک نیا گوادر ایئرپورٹ ، 300 میگاواٹ بجلی گھر ، ڈیسییلیشن پلانٹ اور گوادر فری زون سمیت ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ہم جلد سے جلد جے سی سی کے 10 ویں اجلاس کے منتظر ہیں۔