خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے تحت پرعزم انداز میں پودوں کی شجر کاری مہم جاری ہے، بلین ٹری سونامی منصوبہ دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکاہے

مرتضی کمال

پشاور۔4اگست (اے پی پی):خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے تحت پرعزم انداز میں پودوں کی شجر کاری مہم جاری ہے کسی بھی ملک کا 25فیصد رقبہ جنگلات پر محیط ہونا لازمی ہے،بلین ٹری سونامی منصوبہ دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکاہے ،بین الاقوامی ادارے اس منصوبے کوسراہتے ہیں ،دس بلین ٹری منصوبے سے جنگلات کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور روزگار کے نئے مواقع پیداہوئے ہیں ،خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز 2015میں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کیا تھا۔

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے مطابق دس بلین ٹری سونامی پراجیکٹ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ملک میں جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ اور گرین روزگار کی فراہمی کی جانب بڑا قدم ہے، قدرتی ماحول کے تحفظ و ترقی کے متعلق سیاسی عزم موجود ہے، ان کوششوں کے نتیجے میں مستقبل کی نسلوں کے لئے ملک میں بہتر ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت قدرتی ماحول کے تحفظ و فروغ کے حوالے سے سنجیدہ ہے، ٹمبر مافیا اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کو خبردار کیا جاتا ہے کہ جنگلات کی سختی سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، انہیں نقصان پہنچانے کے ذمہ داران کے خلاف فاریسٹ ایکٹ کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لانے کی کوششوں کے سلسلے میں جنگلات جیسے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے ٹمبر مافیا کے خلاف پہلے ہی کارروائیاں جاری ہیں، حکومت نے سو سال سے زائد عمر کے قدیم درختوں کو ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے، نئے پودے لگانے اور پہلے سے موجود درختوں کی حفاظت کرنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ اس حوالے سے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، حکومت 2023تک پورے ملک میں 10ارب درخت لگانے کے لئے پرعزم ہے، یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو گا،حکومت کا گرین سٹیمولس پروگرام ملک کے سر سبز رقبہ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کے دوران نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔

پاکستان کوجنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں کا سامنا ہے پاکستان سالانہ تقریباً27000ہیکٹرز جنگلات کو کھو رہا ہے، زرعی شجرکاری کو فروغ دے کر قدرتی جنگلات کے کٹا ئوکو روکا جاسکتا ہے اورمزید شجر کاری سے حاصل ہونے والی لکڑی نہ صرف مقامی آبادی کے ایندھن کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے بلکہ انڈسٹریز اور انفرااسٹرکچر بھی بہتر ہوسکتا ہے۔

بلین ٹری ایفرسٹریشن پراجیکٹ کے پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ آفیسر محمد ابراہیم خان نے ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ علاقوں سمیت خیبر پختونخوا میں 10بلین ٹری ایفرسٹریشن پراجیکٹ پر کام کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور 30جون تک صوبے میں 394ملین پودے لگائے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت 6,250جنگلات انکلوشرز قائم،111,314ہیکٹر پر نئے پودے لگانے 25,600ہیکٹر پر بوائی اور ڈبلنگ بھی کی گئی ہے اور 5000ہیکٹر پر رینج مینجمنٹ کے علاوہ 199.900ملین پودوں2.800ملین پھلوں کی مفت تقسیم کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے،اسی طرح کسانوں ، سرکاری محکموں اور عام لوگوں میں پودے اور 30لاکھ سجاوٹی پودے بھی تقسیم ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلین ٹری ایفرسٹریشن منصوبے کو چین ، بھارت اور ایتھوپیا کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا پودوں کی شجرکاری مہم قرار دیا گیا گیا،252,000ہیکٹر جنگلات کی بحالی کا خیبر پختونخوا حکومت کے عہد کو بون چیلنج نے مارچ 2018میں برازیل میں ہونے والے اپنے اجلاس میں باضابطہ طور پر قبول کر لیاہے جو کہ خیبرپختونخوا حکومت کا اہم سنگ میل ہے۔

کنزرویٹر جنوبی سرکل محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا گلزارنے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری مون سون کے دوران 41.194ملین سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے، ، محکمہ جنگلات کی نرسریوں میں 153.591ملین پودے اگائے گئے ہیں جن میں سے 41.194ملین پودے مون سون کیلئے موزوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ 29.757ملین پودے محکمہ جاتی شجرکاری کے ذریعے لگائے جائیں گے جن میں ضم شدہ علاقوں میں 14.046ملین،2.499ملین بڑے پیمانے پرعوام کے ذریعے ، 4.370ملین پودے کسانوں کے ذریعہ ، 385,000پودے ویلج ترقیاتی کمیٹی (وی ڈی سیز)کے ذریعے سے لگائے جائینگے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات اور جنگلی حیات اشتیاق ارمڑ نے صوبے کے عوام بالخصوص کسانوں ،زمینداروں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے مشورے سے اپنی فالتو بنجر زمینوں ، کھیتوں ، زرعی اراضی اور ندی نالوں کے کناروں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرکے اس اہم نوعیت کے فریضہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ نہ صرف خیبر پختونخوا سرسبز و شاداب ہو بلکہ ماحولیاتی آلودگی سے بھی پاک و صاف ہو ۔

وزیر جنگلات نے کہا کہ شجر کاری مہم کے موقع پر ہمیں آلودگی سے صاف ماحول اور صوبے کو مزید سر سبز و شاداب بنانے کا عہد کرنا ہے اور ا س ضمن میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان بھی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ گرین پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے اور آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا اور انسان دوست ماحول فراہم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ رواں شجر کاری مہم میں نئے ضم شدہ اضلاع کو بھی شامل کیا گیا ہے جس سے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کو مزیدوسعت ملی ہے ۔

انہو ں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف زیادہ سے زیادہ نئے پودے لگائیں بلکہ ان کی افزائش اور دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائیں تاکہ عالمی طور پر تیزی سے بدلتے ہوئے موسمیاتی تغیر و تبدل پر قابو پایا جا سکے ۔خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت ، لائیو سٹاک و فشریز محب اللہ خان نے کہا ہے کہ آئندہ نسلوں کے مستقل کو محفوظ بنانے کیلئے جنگلات کا تحفظ اور پودے لگانا ناگزیر ہے ، جنگلات کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے جنگلات کا خاتمہ انسانی زندگی کیلئے انتہائی خطرناک ہے اگر جنگلات ختم ہو گئے تو زمین بنجر ہو جائے گااور 20سال بعد پانی کا ذخیرہ بھی ختم ہو جائے گاصوبہ خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے تحت پرعزم انداز میں پودوں کے جنگل لگائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کا 25 فیصد رقبہ جنگلات پر محیط ہونا لازمی ہے اور یہ انسانی زندگی کیلئے لازمی جزو ہے اگر جنگلات نہیں ہونگے تو اس سے زمین بنجر ہو کر پانی کا ذخیرہ بھی ختم ہو جائے گا لہذا اس حوالے سے ہم سب کو سنجیدہ کردار اد ا کرنا ہو گا تاکہ آئندہ نسلوں کا مستقل محفوظ ہو سکے ۔