مستحکم اور پرامن افغانستان علاقائی رابطوں اور خطے کی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے، ماہرین

پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 70 ٹن وزنی امدادی اشیاء کے چار ٹرک افغان حکام کے حوالے

اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):افغان جنگ سے بری طرح متاثر ہونے کے باوجود ، پاکستان نے افغان امن اور مفاہمتی عمل میں سہولت کار کا اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک مستحکم ، پرامن افغانستان ، علاقائی رابطوں اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ افغانستان میں امن پاکستان کےمفاد میں ہے،جو موجودہ حکومت کی جیو اقتصادی اور علاقائی رابطوں کی پالیسی کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور مہاجرین کی آمد کے نتیجے میں ،

پاکستان کی معیشت کو تجارتی سرگرمیوں کی سست روی اور آمدنی میں کمی کے ساتھ شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا ہےکہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے چنگل میں دھکیل دیا گیا ہے اور یہ قرضے واپس کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے ترقیاتی اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کا مجموعی اقتصادی نقصان 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ ملک کے جی ڈی پی کے حجم کا تقریبا نصف ہے۔یہ نقصانات صرف افغانستان میں عدم استحکام کے پھیلنے کی وجہ سے ہوئے ہیں جس نے پاکستان کے موجودہ چیلنجوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔جب 20 سال قبل افغانستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا تو پورا پاکستان دہشت گرد حملوں کا شکار ہوا جو تقریبا روزانہ کی بنیادوں پر جاری رہیں۔ اگرچہ سرحدی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ،

تاہم ملک کا کوئی بھی حصہ اس سے محفوظ نہیں رہا۔افغانستان میں جنگ کے براہ راست اثرات سے پاکستان میں 80،000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ ایک ماہر نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور جے یو اے جیسے دہشت گرد گروہوں نے افغانستان کی لاقانونیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے خلاف حملے کرنا شروع کر دیئے۔ان میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ بد ترین سانحہ تھا جو افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی دہشت گردوں نے کیا تھا۔

1980 کی افغان جنگ اور پھر 2001 میں امریکی حملے کے بعد ، پاکستان کو افغانستان سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے معاشی مسائل کے باوجود پاکستان نے ان کا خیرمقدم کیا ، ان کی بحالی کی اور انہیں اپنے معاشرے میں جگہ دی۔

آج پاکستان میں رہنے والے افغانوں کی تعداد 40 لاکھ سے زیادہ ہے۔دنیا نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ، بین الافغان مذاکرات کے آغاز ، افغان مذاکرات کے طریقہ کار کے قواعد وضع کرنے اورافغان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کے قیام سمیت افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو یہ مزید لوگوں کو ملک سے بے گھر کر دے گا۔ لیکن آج پاکستان مزید مہاجرین کا متحمل نہیں۔افغانستان میں امن اور استحکام کے ذریعے خطے میں معمولات زندگی بحال ہو سکتی ہیں جو معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے اپنی توجہ جیو سیاست سے جیو اکنامکس پر منتقل کر دی ہے۔ اس پالیسی کے فوائد کو حاصل کرنے کے لیے ، افغانستان میں امن ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں استحکام سے پاکستان وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ براہ راست تجارتی روابط قائم کرنے کے قابل ہو جائے گا اور تعطل کا شکار کئی منصوبے بحال ہوں گے۔چین ،

پاکستان اور افغانستان پہلے ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو،چین پاکستان اکنامک کوریڈور کو افغانستان تک توسیع دینے پر متفق ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں امن کی بحالی کے بعد ، یہ میگا پروجیکٹ ترقی کی نئی راہیں کھول دیں گے۔ترقی کے ان مواقعوں سے اقتصادی فائدہ اٹھانے والا پاکستان ہوگا کیونکہ یہ زیادہ منڈیوں اور زیادہ سپلائرز سے منسلک ہوگا۔یہ حقیقت ہے کہ غربت اور عدم استحکام انتہا پسندی کو پروان چڑھاتی ہے اور اگر افغانستان میں ایسے حالات جاری رہے تو مزید شدت پسند تنظیمیں سامنے آئیں گی۔

زیادہ تشویشناک بات دہشت گرد تنظیموں کی ممکنہ بحالی ہے جو افغانستان سے آپریٹ کرتی اور اکثر پاکستان کو نشانہ بناتی ہیں