تحریک پاکستان کی گمنام ہیرو، سیدہ مختار مجید نے اپنے کپڑوں سے بنا پاکستان کاپرچم لاہور کی بورسٹل جیل پر لہرا کر خود کا تاریخ میں امر کرلیا

ملتان۔11اگست (اے پی پی):تحریک پاکستان لازوال قربانیوں اور روشن جذبوں سے عبارت ہے اور یہ قربانیاں دینے والوں میں ایک نام سرائیکی خطے سے تعلق رکھنے والی سیدہ مختار مجید کا ہے جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران اپنے کپڑوں سے پاکستان کاپرچم بنا کر اسے بورسٹل جیل لاہور پر لہرایا اور تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کروایا، سیدہ مختارمجید کاتعلق خان پور سے تھا جو تحریک پاکستان کے دوران تعلیم کے سلسلے میں لاہور میں مقیم تھیں۔

ان کے والد عبدالمجید شاہ اپنے علاقے کی سرکردہ شخصیات میں شمارہوتے تھے۔انہوں نے اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوائی۔ سیدہ مختار مجید صادق گرلز سکول بہاولپور سے میڑک کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلی گئیں ۔1947 میں سیدہ مختارمجید اسلامیہ کالج کوپر روڈ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھیں جبکہ ان کے بھائی گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے۔

ان دونوں بہن بھائیوں نے قائد اعظم کی آواز پر تحریک پاکستان میں بہت گرم جوشی سے حصہ لیا اورتحریک کے دوران دونوں کو گرفتار بھی کرلیاگیا۔ سیدہ مختارمجید کوتحریک پاکستان کی دیگر رہنماوں بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم شاہ نواز کے ہمراہ بچوں کی جیل میں رکھاگیا۔

اس دوران ایک تاریخی واقعہ پیش آیا جب سیدہ مختار مجید اپنے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے جیل میں لگے بیری کے درخت کے ذریعے جیل کی چھت پر پہنچیں اور وہاں اپنے دامن کا گھیرا پھاڑ کردوپٹے کی مدد سے بنایاہو ا جھنڈا لہرا دیا۔

ان کی صاحبزادی سیدہ سمیعہ صفدرگیلانی ایڈووکیٹ نے اس واقعہ کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اے پی پی کوبتایا کہ میری والدہ محترمہ پر جیل کی خاتون سکھ پولیس اہلکاروں نے اتنا تشدد کیا کہ ان کا اپینڈیکس پھٹ گیا۔

میرے ماموں بھی چونکہ گرفتار تھے اس لیے دونوں بہن بھائیوں کا ایک ماہ تک اپنے گھروالوں سے رابطہ نہ ہوااورگھروالوں تک یہ خبر پہنچی کہ مختارمجید شہید ہوچکی ہیں جس روز ان کے والد گاوں میں ان کا چہلم کررہے تھے اس روز یہ معلوم ہوا کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔

سیدہ سمیعہ گیلانی نے مزید بتایاکہ میری والدہ چونکہ گاوں سے تعلق رکھتی تھیں اور شادی کے بعد خان پور چلی گئی تھیں اس لیے انہیں وہ شہرت نہ مل سکی جو دیگر خواتین کے حصے میں آئی حالانکہ اس زمانے میں جیل پر جھنڈا لہرانے کی ان کی تصویر برطانوی اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میری والدہ کو مادر خان پور کہاجاتاتھا۔انہوں نے وہاں لڑکیوں کا پہلا سکول قائم کیااور گھروں سے شادی شدہ عورتوں کوبھی بلا کر زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔دسمبر1981میں انہیں دل کادورہ پڑا اور ہم انہیں علاج کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال لے گئے ۔

اس دوران جنرل ضیا الحق کا فون بھی آیا جنہوں نے ان کا سرکاری طورپر علاج کرانے اور انہیں تھرمیں اراضی الاٹ کرنے اورمیڈل دینے کی پیشکش بھی کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی تاہم ان کی وفات کے بعد انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے گولڈ میڈل دیا گیا ۔