وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم،سرسبز پاکستان وژن کے تحت قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کے اقدامات میں سب سے آگے

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم،سرسبز پاکستان وژن کے تحت قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کے اقدامات میں سب سے آگے

مطیع الرحمٰن

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے انسانیت کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کے حوالے سے بارہا متنبہ کیا جاچکا ہےجس پر اقوام عالم کا ردعمل ملا جلا اور درکار اقدامات کی نوعیت مختلف رہی ہے تاہم وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان اس بحران سے پرعزم انداز میں نبرد آزما ہونےکے لئے پوری طرح تیارہے اور اس کا شمار اس ضمن میں گھمبیر صورتحال کے موافق اقدامات اٹھانے والی صف اول کی اقوام میں ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کو کسی حد تک ایک سنجیدہ چیلنج کے طور پر دیکھنے لگی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کا شمار ان چند عالمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بصیرت اور دور اندیشی کے ذریعے بہت پہلے نہ صرف ماحولیات کے مسئلہ کو ہر سطح پر اٹھایا بلکہ اس کے حل کے لئے صاف و سرسبز پاکستان کا وژن بھی پیش کیا جس کے تحت پاکستان نے وسیع پیمانے پر ملک گیر شجر کاری سمیت قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کے لئے بڑے انقلابی اقدامات میں پہل کرتے ہوئے دنیا کے لئے مثال قائم کی ہے۔

 

موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی 42 صفحات پر مشتمل جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’انسان دنیا کے ماحول پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں، ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسز کے اخراج کا موجودہ رجحان جاری رہا تو ایک دہائی میں اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں جبکہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا، گرین ہائوس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔‘‘9 اگست 2021 کو جب یہ رپورٹ جاری کی جا رہی تھی تو اسی روز وزیراعظم عمران خان اپنے صاف و سرسبز پاکستان وژن کے تحت دنیا کے سب سے بڑے میاواکی جنگل کے منصوبے کا افتتاح کر رہے تھے۔ منصوبے کے تحت 100 کنال رقبے پر مجموعی طور پر 165000 پودے لگائے جارہے ہیں جبکہ صرف لاہور میں ایسے 53 جنگلات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 64 سالہ تاریخ میں 64 کروڑ درخت لگائے گئے جبکہ2013 سے 2018 تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے محض پانچ سال کے دوران صوبہ خیبرپختوخوا میں ایک ارب درخت لگائے جس کے بعد ملک بھر میں 10 ارب پودے لگانے کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے، ہمیں آنے والی نسلوں کو بہتر اور صاف ماحول دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے۔

 

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی آفات نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب اس کے پاس فطرت کے ساتھ تصادم کے راستے کو ترک کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قدرتی ماحول کے ساتھ دوستانہ طرز عمل اختیار کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں جاری کردہ پہلے بڑے سائنسی جائزہ کو انسانیت کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس کا اس حوالے سے کہنا ہے “اگر ہم اب ہی سر جوڑ کر بیٹھیں تو ہی بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں لیکن اس معاملے میں تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔”

آئی پی سی سی رپورٹ کے مطابق زمین کی سطح کا درجہ حرارت1850 سے 1900تک اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا 2011 سے 2020 کے درمیان رہا۔ دونوں ادوار کے درمیان اوسطاً 1.09 سینٹی گریڈ کا فرق ہے۔ گذشتہ پانچ برس 1850کے بعد تاریخ کےگرم ترین سال تھے۔ حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ 1901سے 1971 کے دوران ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90فیصد) انسانی عوامل ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

 

پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس کا شمار دنیا میں ماحولیاتی مسائل سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں ہوتا ہے اس کے باوجود وزیراعظم عمران کی قیادت میں حکومت پاکستان نے آلودگی، گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی انحطاط کے باعث پیدا ہونے والے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بڑے اور انقلابی اقدامات کیے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے عزم، جاری کوششوں اور کامیابیوں کا پوری دنیا نے اعتراف کیا ہے۔

وزیراعظم کے پاکستان کو صاف اور سرسبز و شاداب ملک بنانے کے وژن کے تحت جاری تحریک کے تحت قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کے لئے جو بڑے بڑے اقدامات کئے گئے ہیں ان میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام، پروٹیکٹڈ ایریاز پراجیکٹ، کلین گرین پاکستان انڈیکس اور چیمپینز پروگرام، گرین اکنامک سٹیمولس (سبز روزگار)، آلودگی کا سبب بننے والے پولی تھین بیگز پر پابندی، اینٹوں کے روایتی بھٹوں کی جدید زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی، نیشنل ایڈاپٹیشن پلان کی تشکیل، ایکو سسٹم کی بحالی، ریچارج پاکستان، گرین فنانسنگ اور الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے جیسے منصوبے اور پالیسی اقدامات شامل ہیں۔

 

قدرتی ماحول کے تحفظ اور بحالی کی کوششوں اور ان کی کامیابیوں کے حوالے سے پاکستان کے قائدانہ کردار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ پاکستان کو اس سال عالمی یوم ماحولیات 2021 کے میزبان ملک کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ماحولیات (یو این ای پی) کی شراکت سے 5 جون 2021 کو عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے تقریبات کی میزبانی کی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے قدرتی ماحول کی بحالی و تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے قدرتی طریقوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں جاری ہیں۔حیاتیاتی تنوع کے کنونشن اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کے قائدانہ خطاب اور ان کی قیادت میں صاف و سرسبز پاکستان پروگرام، 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ اور جنگلی حیات کے لئے محفوظ علاقوں کو فروغ دینے جیسے قدرتی ماحول کے تحفظ اور بحالی کے منصوبوں کی صورت میں پاکستان کے بین الاقوامی لیڈر کی حیثیت سے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے یو این ای پی نے عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔

اس سال پاکستان کی میزبانی میں عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اقوام متحدہ کی دہائی برائے بحالی ایکو سسٹم 2021 تا 2030 کا بھی باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس پیشرفت سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ماحولیات کے تحفظ و بحالی کے اقدامات کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیات کے تحفظ و فروغ کے حوالے سے قومی عزم، پروگراموں، منصوبوں اور کامیابیوں کو بین الااقوامی سطح پر مؤثر طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔ماحولیات سے متعلق امور کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارہ جرمن واچ کے مطابق پاکستان گزشتہ 20 سال کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے باعث 2010 کے بعد مسلسل سیلابوں، تھرپارکر اور چولستان جیسے علاقوں میں شدید خشک سالی، ملک کے جنوبی حصے میں شدید گرمی کی لہر، آندھی، سمندری طوفان، لینڈ سلائیڈنگ اور ملک کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے سیلاب جیسی کیفیات کے خطرات کا سامنا ہے۔

پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چند بڑے خطرات میں شدید موسمی حالات بشمول بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے سیلاب اور خشک سالی کی صورتحال، گلوبل وارمنگ اور خطے میں آلودگی کے باعث کاربن کی سطح میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہندوکش۔ قراقرم۔ ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی، درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گرمی بڑھنے اور پانی کی کمی کی صورتحال اور اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر منفی اثرات، موسمی حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث جنگلات کے کم ہوتے رقبے پر دباؤ، ساحلی علاقے میں زراعت، مینگروز اور مچھلی کی افزائش نسل کے لئے ماحول ناسازگار ہونے کے علاوہ انسانی صحت کے لئے بھی خطرات بڑھے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان ملک کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کا وژن رکھتے ہیں، اس مقصد کے لئے ان کے پیش کردہ صاف و سرسبز پاکستان کے تصور کی روشنی میں حکومت نے ملکی تاریخ کے بڑے منصوبے اور انقلابی پروگرام متعارف کرائے ہیں۔ ملک بھر میں 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت درخت لگانے کے لئے پہلے ایک ارب کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے جہاں جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہو گا وہاں 85 ہزار گرین روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح بون چیلنج کے تحت رضاکارانہ طور پر 10 لاکھ ہیکٹرز رقبہ پر جنگلات کی بحالی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔وزیراعظم کے پروٹیکٹڈ ایریاز کے پروگرام کو زمینی علاقوں سے وسعت دیتے ہوئے آبی حیات کے تحفظ کے لئے سمندری علاقوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ حکومت نے 15 نئے نیشنل پارکس متعارف کروائے ہیں جبکہ ان میں دو نئے سمندری نیشنل پارکس کا بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ماحول کو آلودگی سے بچانے کی کوششوں کے سلسلے میں بجلی پر چلنے والی گاڑیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت 2030 تک 30 فیصد گاڑیاں بجلی پر منتقل کی جائیں گی۔

پاکستان کو بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر حصوں میں بے ترتیب بارشوں اور سیلابوں جیسی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے ریچارج پاکستان پروگرام کے تحت بارش اور سیلاب کے پانی کو خشک ہوتی آب گاہوں میں محفوظ کیا جائے گا۔ اس طرح ملک میں ہر سال سیلابوں کی صورت میں تباہی مچاتے ہوئے سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کر کے استعمال کے قابل بنایا جائے گا، اس سے زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو گی۔ اس منصوبے سے جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے گا وہاں ملک میں پانی کی دستیابی کی صورتحال بہتر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق ماحولیاتی موافقت کے منصوبوں پر کام کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس بات کے محض محدود شواہد موجود ہیں کہ ان منصوبوں نے کسی خطرے کو کم کیا ہو۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) گروپ کی چیئرپرسن سونم وانگ ڈی کا کہنا ہے ’’ہمیں اپنے منصوبوں کو موسم کے بدترین بحران کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، ہمارے موجودہ منصوبے لوگوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘‘ ادھر پاکستان پہلے ہی ماحولیات کے لحاظ سے پائیدار ترقی کے عزم پر کار بند ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے قدرتی ماحول پر اثرات کی تشخیص اور ان کے سدباب کے لئے ماحول دوست اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے ملکی ترقی کے لئے راہیں کھول رہی ہے۔