وزیراعظم کے وژن کی بدولت 50 سال بعد نئے آبی ذخائر نے حکومتی ترجیحات میں جگہ بنالی،”عشرہ ڈیمز “کے تحت 10 سال، 10 بڑے آبی ذخائر کا تاریخی اقدام

تحریر:ساجد فاروق

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے توانائی کے شعبہ میں اصلاحات اور عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہمی کے لئے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں مقدم رکھا ہے کیونکہ پن بجلی سستی ترین اور ماحول دوست ہوتی ہے اور یہ ملک کے اقتصادی اور معاشرتی شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ملکی اقتصادیات میں پن بجلی کے مثبت اثرات کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 21-2020 کے دوران پن بجلی کی فی یونٹ اوسط پیداواری لاگت 2روپے 82پیسے رہی جبکہ تھرمل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی پراوسطاً 13 روپے 14پیسے فی یونٹ لاگت آئی۔

اس صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ امر عیاں ہے کہ سابق حکومتوں نے سستی بجلی کی پیداوار، بڑے آبی ذخائر کی تعمیر اور آبی وسائل کے شعبے کو بوجوہ نظر انداز کئے رکھاجس کا خمیازہ پوری قوم اور معیشت کو بھگتنا پڑا ہے تاہم کم و بیش 50 سال بعد پہلی بار ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر حکومتی ترجیح بن گئے ہیں ۔

اے پی پی کو دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ملک بھر میں نیلم جہلم سمیت واپڈا کے پن بجلی گھروں کی تعداد 22 ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 406میگاواٹ ہے۔

نیشنل گرڈ میں سستی پن بجلی کے تناسب میں اضافہ کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں واپڈا ایک مربوط پروگرام پر عمل کر رہا ہے جس کے تحت پن بجلی کے کئی ایک منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ یہ منصوبے 2023 سے 29-2028کے دوران مکمل ہوں گے۔

اِن منصوبوں کے مکمل ہونے پر واپڈا کی پیداواری صلاحیت9ہزار 406میگاواٹ سے بڑھ کر 20ہزار 591میگاواٹ ہو جائے گی۔ اسی طرح واپڈا کی نیشنل گرڈ کو مہیا کی جانے والی سستی اور ماحول دوست بجلی بھی 37 ارب یونٹ سے بڑھ کر 81 ارب یونٹ سالانہ ہو جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کے وژن “عشرہ ڈیمز “کے تحت دس سال میں10 بڑے آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں گے، دیامربھا شا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم سمیت دیگر کئی منصوبے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے اور صنعتی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

موجودہ حکومت اگست 2018 میں برسراقتدار آنے کے بعد پن بجلی کی پیداوار میں اضافے، آبی تحفظ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے اور توانائی کے شعبے ،میں خود کفالت کے حصول کے لئے توانائی کے شعبہ میں اصلاحات متعارف کرانے اور سستی بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لئے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی کی گئی جبکہ واپڈا نے اس منصوبے کی تعمیر کیلئے ایک ایسا قابل عمل فنانشل پلان ترتیب دیا جس میں قومی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے جس کے بعد اب یہ منصوبہ اپنی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

مہمندڈیم پن بجلی منصوبے پر تعمیراتی کام کے آغاز کے بعد تقریباً ایک سال کے عرصہ میں دیامر بھاشا ڈیم دوسرا کثیر المقاصد ڈیم ہےجس کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔1970میں تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد ملک میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے سابق حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن موجودہ حکومت نے پانی ذخیرہ کرنے اور سستی پن بجلی کی پیداوار کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں بڑے ڈیموں پر کام کا آغاز کیا۔

دیامر بھاشا ڈیم کی مجموعی لاگت تقریباً 1406 ارب 50 کروڑ روپے ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی آبی ،غذائی اور توانائی تحفظ ضروریات کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے۔

دیامربھاشا ڈیم ماضی میں مختلف حل طلب مسائل، فنڈز کی کمی اور اندرونی و بیرونی عناصر کی طرف سے ڈیم کے خلاف پیدا کئے جانے والے ماحول کی وجہ سے تعطل کا شکاررہا۔ موجودہ حکومت نے برسر اقتدارآنے کے بعد تزویراتی اہمیت کے اس منصوبے پر کام شروع کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے اور فوری فیصلے کرتے ہوئے منصوبے پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جس کے بعد اس منصوبے پر عملی طورپر کام شروع کیا گیا۔

دیا مربھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جا رہا ہے اور تعمیراتی کام مختلف مقامات پر تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔ یہ ڈیم زراعت کے لئے پانی ذخیرہ کرنے ، سیلاب کی روک تھام، بجلی کی پیداوار اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اہمیت کا حامل ہے ڈیم میں مجموعی طور پر 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت 12لاکھ 30ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہوگی۔ منصوبہ کی بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500 میگاواٹ ہے ۔

تربیلا، غازی بروتھا، جناح اور چشمہ سمیت موجودہ ہائیڈل پاور سٹیشن میں اضافی تقریباً 2 ہزار 520 گیگاواٹ آور (ملین یونٹس) بجلی شامل ہو گی جبکہ داسو، پتن اور تھاکوٹ کے مستقبل کے منصوبوں سے 7500گیگاواٹ آورز (ملین یونٹس) اضافی بجلی شامل ہو گی۔

دیا مر بھاشا ڈیم سے گلت بلتستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم 29-2028میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرسے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا سمیت دیگرموجودہ پن بجلی گھروں کی سالانہ پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان پن بجلی گھروں سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ 70 کی دہائی میں اپنی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35سال کا اضافہ ہوجائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر کام کے آغاز کا سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبہ کی بہتری کے اس بڑے منصوبے کو مکمل کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کے مطابق بڑے منصوبوں کی فنڈنگ کے لئے ایک جدید مالیاتی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت حکومت 30 فیصد رقم فراہم کرے گی جبکہ باقی 70 فیصد فنڈ کا انتظام واپڈا کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے بڑے منصوبے مختلف مسائل کی وجہ سے شروع نہیں کئے جا سکے لیکن موجودہ حکومت نے ٹھوس کوششوں کے ذریعے ان مسائل پر قابو پا کر سٹریٹجک اہمیت کے ان منصوبوں پر کام کا آغاز کیا ہے۔
بڑے منصوبوں کے حوالے سے مہمند ڈیم بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے 2مئی 2019کو عشروں سے تاخیر کا شکار مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔

مہمند ڈیم دریائے سوات پر قبائلی ضلع مہمند میں منڈا ہیڈورکس سے بالائی جانب تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔کووڈ۔19 کی وبا کے باوجود سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے منصوبے پر کام جاری رکھا گیا۔

منصوبے کی تکمیل کے لئے مقامی افراد قبائلی ضلع مہمند کی ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی بے مثال مدد اور واپڈا کے متعلقہ حکام کی کوششوں سے ڈیم کے لئے درکار اراضی حاصل کی گئی ۔

واپڈا مقررہ معیاد کے مطابق 2025میں مہمند کی تکمیل کے لئے پر عزم ہے۔ اس ڈیم کا بنیادی مقصد سیلاب کی روک تھام، آبپاشی اور پشاور کے لئے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار حاصل کرنا ہے۔

یہ کنکریٹ ڈیم ہے اور اس کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اوراس ڈیم سے منصوبے کے تحت اس سے 820میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ مہند ڈیم میں 12 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس آبی ذخیرے سے ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ مزید 16 ہزار 737 ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکے گا ، اس ڈیم کے ذریعے پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا جس کا مجموعی فائدہ 95 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔

مہمند ڈیم سیلاب کی روک تھام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ واحد منصوبہ ہے جو پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کو تباہ کن سیلاب سے بچا سکتا ہے۔۔ڈیم کے ذریعے قومی گرڈ میں ہر سال 2 ارب 86کروڑ یونٹس سستی اور ماحول دوست بجلی حاصل ہو گی اور سالانہ 45 ارب 76 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہو گا۔

‏ڈیموں کی تعمیر کے لئے فنڈز کی دستیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور فنڈز کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں ڈیموں کے منصوبے تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی انجینئرنگ کی استعداد، غیر ملکی کنسلٹنٹ پر انحصار، اراضی کے حصول کے مسائل، لوگوں کی آبادکاری جیسے مسائل کی وجہ سے ڈیموں پر پیشرفت میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔

موجودہ حکومت نے اس سلسلہ میں ان دونوں بڑے ڈیموں کی تعمیرکو یقینی بنانے کے لئے ان تمام رکاوٹوں اور مسائل پر احسن طریقے سے قابو پایا ہے۔فنڈز کی دستیابی اور زمین کے حصول کے لئے ایک ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع کرکے پیشرفت کی گئی جبکہ لوگوں کی آبادکاری کے لئے بھی ایک جامع نظام وضع کیا گیا۔4 ہزار 320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تکمیل سے خیبرپختونخوا میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دریائے سندھ پر صوبہ خیبرپختونخواکے ضلع کوہستان میں داسو ٹائون سے بالائی جانب تعمیر کیا جا رہا ہے۔

یہ ترقیاتی منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کیلئے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی اقتصادیات مستحکم ہوگی اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

اس منصوبے سے 3 سینٹ فی یونٹ بجلی حاصل کی جائے گی جبکہ ابھی پاکستان میں بجلی کی پیداوار پر آنے والی اوسط لاگت 8 سینٹ فی یونٹ ہے، اس منصوبے سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی اور پاکستان کا تیل کا درآمدی بل بھی کم ہو گا۔

داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کےپہلے مرحلے میں 2160 میگاواٹ حاصل کی جائے گی جو تقریباً 5 سال کے اندر مکمل ہوگا، جس کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹس بجلی فراہم کر پائے گا، جب کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ سالانہ مزید 9 ارب یونٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے داسو ڈیم کے زیر تعمیر مختلف حصوں اور ٹنل کے حالیہ معائنہ کے موقع پر کہا کہ اس منصوبے سے ملک کو سستی بجلی ملے گی۔

اس طرح کے منصوبے بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھے تاکہ ملک کےلئے سستی بجلی دستیاب ہو تی۔ جس طرح منگلا اور تربیلا سے ملک کو سستی بجلی حاصل ہوئی اور پاکستان کی صنعتوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوا۔

دریں اثنا 12اگست 2021 کو وزیراعظم عمران خان نےموجودہ حکومت کے وژن ”عشرہ ڈیمز 28۔2018 “کے تحت تربیلا 5 توسیعی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبہ 2024 تک مکمل ہو گا اس منصوبہ سے 1530 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا ہو گی۔ منصوبہ کی تکمیل سے تربیلا ڈیم کی بجلی کی پیداواری استعداد 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔

امید کی جاتی ہے توانائی اور آبی وسائل کے شعبہ میں حکومت کی مؤثر اصلاحات اور دوررس اقدامات کی بدولت سستی بجلی کے حصول سے مستقبل میں نہ صرف صنعتی اور گھریلو ضروریات پوری ہوں گی بلکہ معیشت کے استحکام سے ملک بھی ‏ترقی کرے گا۔