شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد گرلز ہائی سکول دوبارہ کھل گیا

پشاور۔27اگست (اے پی پی):تحریر : ۔ مرتضی کمال
پاکستان کی شمال مغربی قبائلی پٹی میں شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد گرلز ہائی سکول دوبارہ کھل گیا ہے۔افغانستان سے متصل قبائلی علاقوں کو 2018میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تاکہ علاقے کو قومی دھارے میں لا کر ملک کے دیگر حصوں کی طرح سہولیات اور امن دیا جا سکے، قبائلی اضلاع طویل عرصے سے عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں اور درپیش صورتحال کی وجہ سے شدید متاثر رہا۔

گرلز ہائی سکول میران شاہ کو 2008 میں عسکریت پسندوں نے دھماکے سے اڑا دیا تھا ۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر فدا خان وزیر کے مطابق گرلز ہائی سکول میران شاہ شمالی وزیر ستان کو عسکریت پسندوں کی طرف سے دھماکے سے اڑا ئے جانے کے بعد سینکڑوں طالبات نے یا تو پڑھائی چھوڑ دی یا دوسری عمارتوں میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں۔ 18اگست 2021کوتعلیمی ادارے دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی شمالی وزیرستان کے میران شاہ میں طالبات گرلز ہائی سکول میں داخل ہوئیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 18اگست کو پہلے ہی دن 250 لڑکیوں کا اندراج کرایا ہے، سکول میں 12خواتین اساتذہ ملازم ہیں ، والدین لڑکیوں کو پڑھنے کے لیے بھیجنے پر زیادہ قائل ہیں، ہر روز نئے طالبات سکول میں رجسٹریشن کروا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ 2000کی دہائی کے اوائل میں 700سے زائد طالبات میران شاہ اسکول میں پڑھتی تھیں،مقامی لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ نے شدید متاثر کیا ہے جس سے خصوصا خواتین کی تعلیم کوبڑا دھچکا لگا۔

انہوں نے کہا کہ جب قبائلی اضلاع میں عسکریت پسندی شروع ہوئی تو طلبا ملک کے دوسرے اضلاع کی طرف ہجرت کی اور مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا لیکن زیادہ تر لڑکیاں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں کیونکہ وہ اپنے والدین کے بغیر دور دراز کے اضلاع میں منتقل نہیں ہو سکتی تھیں۔

میران شاہ کے رہائشی شاکر خان نے کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے سکول میں فرنیچر،کمپیوٹر لیبارٹری،لائبریری سمیت تقریبات کیلئے خصوصی آڈیٹوریم کی سہولیات موجود ہے۔مقامی بزرگ حاجی مجتبی کا کہنا ہے کہ والدین کی خواہش ہے کہ خطے میں مزید تعلیمی ادارے کاقیام عمل میں لایا جائے تاکہ یہاں پر تعلیمی شعبہ پھل پھول سکے خصوصا لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ توجہ دی جا سکے

انہوں نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے موجودہ سکولوں کو اپ گریڈ کرنا چاہیے تاکہ ہماری بیٹیاں اعلی تعلیم حاصل کریں۔ خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن شہرام خان تراکئی نےقبائلی اضلاع کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے کہاکہ قبائلی اضلاع میں ڈراپ آٹ شرح پرقابو پانے کیلئے 7 لاکھ 35ہزار طلبا اور طالبات کو ماہانہ وظیفہ بھی دیاجائے گا جس میں ہائی کلاسز کیلئے ماہانہ ایک ہزار اور پرئمری کلاسز کیلئے ماہانہ 500 روپے وظیفہ مقررہوگا جس کیلئے اسی بجٹ میں 2.5بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بہترین کارکردگی کی بدولت آئی ایم یو کو اتھارٹی کا درجہ دیاگیا اور اپ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی بدولت 5621 قبائلی اضلاع کے سکولوں ک روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم میں انقلابی اصلاحات متعارف کرنے کی غرض سے ہم رینٹڈبلڈنگ سکولز پروگرام ، سیکنڈشفٹ پروگرام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام شروع کررہے ہیں جبکہ ارلی ایج ایجوکیشن پروگرام کے تحت دس ہزار ماڈرن کلاس رومز بھی بنائے جارہے ہیں جبکہ مدارس کو بھی یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم کے تحت صوپائی اور وفاقی سطح پر محکمہ تعلیم کیساتھ رجسٹرڈ کیاجائیگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران داخلہ مہم کے ذریعے 7لاکھ 25 ہزار طلبا اورطالبات کو داخلہ دیاگیاجبکہ صرف گریڈ5 میں 10ہزار سے زیادہ طالبات کوداخل کروایاگیاہے، جو خواتین کی تعلیم کیلئے حکومت کے اقدامات کی واضح طور پرعکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کی کمی کوپورا کرنے کیلئے اسی سال کے دوران 17 ہزار اساتذہ کو بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ 9300اسامیاں بھی مشتہر کی جاچکی ہے جو اپریل سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے لئے سسٹم میں شامل کئے جائیں گے اور اسی سال بھرتی شدہ 17 ہزار اساتذہ میں سے پہلے فیز کے دوران 12 ہزار اساتذہ کو ٹیبلٹ بیسڈجدیدتربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم نے اس ایک سال میں معیار تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی جس کے نتائج کے مطابق میتھس میں 12 فیصد بہتری آئی جبکہ انگلش ٹوٹل سکور میں 6 فیصد اور سائنس میں 5 فیصد بہتری آئی۔ اس طرح اساتذہ کو جدید تربیت کی فراہمی کے بعد کورس پر عبور میں بھی اضافہ ہوا اور جائزے کے مطابق انگلش میں 10 فیصد،میتھس میں 13 فیصد اور سائنس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ جوکہ ایک سال کے دوران بہت اہم کامیابی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی حاضری 91 فیصد تک ہوچکی ہے جس کے تمام تر فوائد طلبا کومل رہے ہیں اور اساتذہ کی دستیابی کی بدولت سکولوں کے نتائج میں بھی کافی بہتری آئی ہے۔انہوں نے اساتذہ کی تربیت سی پی ڈی پروگرام کے حوالے سے کہاکہ اس پروگرام کے تحت اسی سال 22 ہزار اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی جبکہ تربیت کے اس دائرہ کار کواس کے بعد مزید 16اضلاع تک توسیع دی جائیگی۔ انہوں نے سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن اور اساتذہ کے لیسن پلان (Lesson Plan ) میں بہتری اور اساتذہ کے کورس پر عبور میں اضافے کے حوالے سے کہاکہ 7 پرائمری سکولوں کیلئے ایک سکول لیڈر مقررکرنے کی غرض سے ہم نے 3 ہزار آسامیاں تخلیق کی ہیں جوکہ اگلے تعلیمی سال سے کام شروع کریں گے۔

یہ نو تعینات سکول لیڈرز صوبے کے 21ہزارپرائمری سکولوں میں صرف معیار تعلیم کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔ جس کی بدولت ارلی ایج سے ہم تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے سکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے کہاکہ اس سال گرلزکمیونٹی سکول اور 45 نئے پرائمری سکول تعمیر کئے گئے جبکہ 22 پرائمری سکولوں کومڈل کی سطح تک اپ گریڈ کیاگیا اسی طرح 26 سکولوں کومڈل سے ہائی اور21 سکولوں کوہائی سے ہائرسیکنڈری سکولوں تک اپ گریڈ کردیاگیاجس کی وجہ سے طلبا کو اپنے علاقوں کے موجودہ سکولوں میں ہائر تعلیمی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی گئیں۔

سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پی ٹی سی فنڈ کے ذریعے اس سال 400 نئے کلاس رومز بنائے گئے ، عملی اقدامات اور بجٹ میں بہتری کی بدولت سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، بانڈری وال، اور واش رومز کی فراہمی میں 6 فیصد اضافے کے ساتھ 81 فیصدسکولوں تک یہ سہولیات یقینی بنائی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ منیجنمٹ کیڈر بشمول تمام تدریسی اور غیرتدریسی عملے کو سہولیات کی فراہمی اوران کے مسائل کے حل کرنیکی غرض سے ترقیاتی اور اپ گریڈیشن دی گئیں جبکہ منیجمنٹ کیڈرکے گریڈ16 سے گریڈ20 تک کے آفیسرز کوترقیوں کیساتھ ساتھ سروس رولز بھی دیے گئے۔ تعلیم کی بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پرائمری سطح کیلئے 12 ہزارمزیدآسامیاں تخلیق کی جاچکی ہے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں 4600 نئی آسامیوں کی تخلیق کاعمل بھی جاری ہے۔