پشاورعجائب گھر کی تزئین و آرائش کا کام مکمل

پشاور۔30اگست (اے پی پی):پشاورعجائب گھر کی دو منزلہ عمارت کی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے عام لوگوں کیلئے دوبارہ کھول دیا جائے گا،پشاور عجائب گھر دنیا کا سب سے بڑا ، تاریخی اور گندھارا آرٹ کا واحدشاہکارہے جہاں بانی بدھ مت کی مکمل زندگی کی کہانی موجودہے،لارڈ بدھا کے مجسمے کو پینلز اور مجسموں کی شکل میں محفوظ کیا گیاہے جو بدھ مت ، راہبوں اور بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، عجائب گھر میں تقریباً30,000نوادرات موجود ہیں جن میں سے16,000کی نمائش کی گئی ہے جبکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے16,000نمونے الماریوں میں محفوظ پڑے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ خیبرپختونخواکے مطابق پشاورعجائب گھر کا شمار پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔1906 میں یہ پہلے سے تعمیر شدہ میموریل ہال میں قائم کیا گیا ،

آثار قدیمہ کے مشہور و معروف ماہر سرارل سٹین اس کے سب سے پہلے مہتمم تھے، یہ عجائب گھر گورنمنٹ ہائوس کے قریب اس بڑی شاہرہ پر واقع ہے جو پرانے شہر کو چھائونی ریلوے اسٹیشن سے ملاتی ہے۔ عجائب گھر کے تین مشہور حصے گندھارا، مسلم اور قبائلی ہیں۔ اس کی شہرت گندھارا آرٹ کے خوبصورت اور قیمتی مجسموں کی مرہون منت ہے یہاں تخت بھائی وغیرہ سے لائے ہوئے مہاتما بدھ کے مجسمے ملتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مجسمے بھی ہیں جو فن سنگ تراش کا شاہکار ہیں اور مہاتما بدھ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں بدھ مت کے بادشاہ اشوک اور کنشک شہنشاہ کی جو غالبا ان سب میں عظیم ترین تھے مہریں اور نقوش نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ مختلف سائز میں پتھر اور پلاسٹر کے بنے ہوئے گوتم بدھ کے مجسمے اس عجائب گھر کی اہمیت اور شہرت کا باعث ہیں

اس میں مختلف دور کے نادر سکوں کا بھی خزانہ موجود ہے تاہم اس کا انمول خزنیہ پشاور کے نواح میں واقع شاہ جی کی ڈھیری سے 1908 میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والا کنشک کا زیورات کا صندوقچہ ہے اس منقش صندوقچے میں گوتم بدھ کی ہڈیوں کے تین ٹکڑے پائے گئے تھے ۔انگریزوں نے اسے برما کی بدھ سوسائٹی کو دے دیا تھا جس نے مانڈے کو ایک مقدس زیارت گاہ بنا دیا البتہ یہ نادر صندوقچہ بطور بے مثل یاد گار اس عجائب گھر کی اب تک زینت ہے۔

پشاور عجائب گھر کے زیادہ ذخیرے گندھارا تہذیب سے متعلق ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے آج سے اڑھائی ہزار برس پہلے بھی کسی عظیم الشان تہذیب کا مرکز تھے۔ سکندر اعظم کے حملے سے پہلے موجودہ وادی پشاور کو گندھارا کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا دارالخلافہ پشکلوتی تھا جسے ہم آج کل چارسدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ واقعہ 327-326قبل مسیح کا ہے۔ پشاور کے عجائب گھر میں زیادہ مجسمے چارسدہ سری بہلول، سروان، تخت بھائی، شاہ جی کی ڈھیری اور جمال گڑھی کی کھدائیوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔ عجائب گھر میں جو مجسمے ہیں ہیں ان سے رائج الوقت رسم و رواج کے متعلق بہت معلومات فراہم ہوتی ہیں،

ان کے عقائد ان کی پوشاک ہمیں تصویروں کی شکلوں میں نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی فنی قابلیت کے متعلق بھی علم ہو جاتا ہے مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹ کے اعتبار سے بڑی مجسموں کے کان اور پیشانی فنی لحاظ سے قابل تعریف نہیں۔ مہماتما بدھ کے مجسمے سب سے پہلے گندھارا ہی میں بنائے گئے اور بعد میں جنوبی ہندوستان میں ان مجسموں پر مزید ترقی کی گئی۔ امیر سے لے کر غریب تک کی پوشاک اور حالت کا اندازہ ان مجسموں سے لگایا جا سکتا ہے

۔گھروں کے حالات، جنگ کے ہتھیاروں زرہ بکتر، ہیرے جواہرات، ہودے، گاڑیاں تھیں، گھوڑے، ان کے سازو سامان، زراعتی اوزار اور موسیقی کے آلات بھی دکھائے گئے ہیں۔ لوگ کام کرکے کھیلتے، عبادت کرتے شادیوں میں مشغول قربانیاں ادا کرتے وغیرہ جیسی حالتوں میں نظر آتے ہیں۔ عام رسومات میں رقص کرتے ہوئے، گانے والے سیاح، پہلوان اور ڈاکو وغیرہ بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت واضح کرتے ہیں۔ یہ مجسمے دلچسپ واقعات رومان اور عقیدت سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔ عجائب گھر میں جو دوسرے مجسمے ہیں ان سے عجیب و غریب حالات کا پتہ چلتا ہے۔ عجائب گھر میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کو ہر بتی اور زرخیزی کی دیوی اس کے بچے اور پنچیکا کے بڑے مجسمے ہیں۔ پشاور عجائب گھر گندھارا کے بہترین ذخائر کا مجموعہ رکھتا ہے ان واقعات کے علاوہ عجائب گھر میں پرانے سکے موجود ہیں ایک طرف قدیم کتبے ہیں۔

پتھر میں کندہ کتبے کسی کنوئیں کی تعمیر کی یاد گار ہیں پرانے زمانے کے مٹی کے برتن جن پر نقش و نگار بھی ہیں قدیم صنعت کاروں کی فنی قابلیت کا پتہ دیتے ہیں۔پشاور عجائب گھر کے انچارج نور خان نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ پشاورعجائب گھر کی دو منزلہ عمارت کے تحفظ اور تزئین و آرائش کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے عام لوگوں کیلئے دوبارہ کھول دیا جائے گا،پشاور عجائب گھر دنیا کا سب سے بڑا ، تاریخی اور گندھارا آرٹ کا واحدشاہکارہے جہاں بانی بدھ مت کی مکمل زندگی کی کہانی موجودہے،لارڈ بدھا کے مجسمے کو پینلز اور مجسموں کی شکل میں محفوظ کیا گیاہے

جو بدھ مت ، راہبوں اور بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عجائب گھر میں تقریباً30,000نوادرات موجود ہیں جن میں سے16,000کی نمائش کی گئی ہے جبکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے16,000نمونے الماریوں میں محفوظ پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تزئین و آرائش کا کام اس کے قدیم مرکزی ہال کا احاطہ کرتا ہے جوکہ1906میں ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں60,000روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا جہاں لارڈ بھوڈا کی مکمل زندگی کی کہانی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ عجائب گھرنوآبادیاتی دور کے چھتیں بھی محفوظ کردی گئی ہیں جبکہ زائد المیاد پلاسٹک پائپوں کے ساتھ ساتھ بجلی کی تاروں کو درآمد شدہ برقی اور دیگر متعلقہ مواد سے تبدیل کیا گیا تاکہ پانی کے بہا ئوکو روکا جاسکے

اور رنگ برنگی روشنی کے منفرد انداز میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔نور خان نے کہاکہ میوزیم کوجدید خطوط پر مکمل طور پر استوار کیا جا چکا ہے، اس کے قدیم آثار بشمول لارڈ بودھاکی مکمل زندگی کی کہانی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے ایپ کے ذریعے آن لائن دیکھا جا سکتا ہے،بدھ کی مکمل زندگی کی کہانی مخصوص آڈیو ڈیوائس میں اپ لوڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرستان قبائل کے قدیم لباسوں کی گیلری ، قدیم کھانا پکانے کی پلیٹیں اور زیورات کے علاوہ میزل لوڈر بندوقیں جو زیادہ تر برطانوی فوج استعمال کرتی ہیں اور آزادی کے جنگجوں کی تلواریں اور پنچ مارک سکوں کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مردان اور چکدرہ لوئر دیر کے عجائب گھروں کو مضبوط کیا گیا جن میں نوادرات کے شوکیسز کی تعمیر ، جدید لائٹنگ سسٹم اور سہولت کے مراکز شامل ہیں، ہنڈ صوابی کے تاریخی مقام کے قریب ایک جدید ترین عجائب گھر تعمیر کیا گیا جہاں سے 327قبل مسیح میں سکندر اعظم نے دریائے سندھ عبور کیا تھا، ہنڈ 998میں محمود غزنوی کے حملے کیلئے بھی مشہور ہے جس نے اس خطے میں اسلامی دور کا آغاز کیا،نیاہزارہ عجائب گھر ہزارہ میوزیم کو60ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہوچکی ہے

جہاں پر قدیم نوادرات جلد ہی اس علاقے کی ثقافت کو پیش کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح چترال کے علاقے بمبوریت میں کلاش عجائب گھر تعمیر کیا گیا ہے، مردان عجائب گھر میں دو نئے ہال ،اسلامی ، آثار قدیمہ اور گندھارا آرٹ نوادرات کیلئے تین گیلریاں تعمیر کی گئیں ، اس کے علاوہ سیکورٹی سسٹم ، برقی اور شوکیس کی سہولیات کی فراہمی کو مہیاکی گئی ہے۔ اسی طرح ڈی آئی خان عجائب گھرکی تعمیر تقریبامکمل ہوچکی ہے جبکہ کوہاٹ اور ہری پور اضلاع میں دو نئے عجائب گھر پائپ لائن میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ،ڈی آئی خان عجائب گھر کی تعمیر کے بعد خیبرپختونخوا میں عجائب گھروں کی تعداد 16 ہو جائے گی

جہاں 10نئے عجائب گھر پہلے ہی قائم ہو چکے ہیں جن میں پشاور تین ، چارسدہ ، مردان، لوئر دیر ، سوات ، بنوں میں ایک ایک جبکہ دو چترال میں ہیں۔نور خان نے کہا کہ مغل دور کی یادگار پشاور میں علی مردان ولا کا تحفظ مکمل ہو چکا ہے،علی مردان خان مغل دور کے مشہور کمانڈر اور انجینئر شاہ جہاں کے دور میں کابل ، لاہور اور کشمیر کے گورنر نے پشاور میں ایک ولا بنایا تھا ، جہاں تین منزلہ پویلین تھا جس کے چاروں طرف چشمہ تھا۔