کل اور آج کا نائن الیون : 90منٹ کے ہولناک واقعہ نے پوری دنیا کوبدل کر رکھ دیا

کل اور آج کا نائن الیون : 90منٹ کے ہولناک واقعہ نے پوری دنیا کوبدل کر رکھ دیا

رپورٹ: ملازم حسین

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):11 ستمبر 2001ء کوہائی جیک کئے گئے 4 طیارے جب امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا ئے تومحض 90 منٹ کے دورانیہ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے تباہ کن اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوئے اور اس گونج 20 سال گزرنے کے بعد بھی ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔

امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد (آج)11 ستمبر کو طالبان اپنے عہدوں کا حلف اٹھانے جارہے ہیں ۔ دو عشروں کے بعد اگرچہ القاعدہ کے خطرے کا خاتمہ دیکھا جا رہا ہے تاہم داعش اور اس سے منسلک داعش صوبہ خراسان ، ٹی ٹی پی سے دنیا بھر کو دہشت گردی کے خطرات ابھی تک موجود ہیں۔

پاکستان کو افغانستان کے پڑوسی ملک ہونے کے ناطے تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا اور اسے طالبان کا ایک بڑا حامی تصور کیا گیاجنہوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی تھی ۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے انتہا پسندانہ رجحانات سے لاتعلقی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اور روشن خیال اعتدال پسندی کی شدید خواہش کی بنا پر پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے اور نئی سمت کے تعین کیلئے بے پناہ کوشش کی۔

اس دوران افغانستان میں عسکری طاقت میں اضافہ جاری رہا اور نیٹو کے اعدادوشمار افغانستان میںاس کا مشن 50 ممالک سے 1,30,000تک پہنچ گیا جبکہ اس میں امریکہ کے فوجیوںکی تعداد ایک لاکھ تھی۔

اسی دوران ایک ہولناک واقعہ درپیش ہوا جب دسمبر 2014ءمیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا اور اس حملے میں سکول کے 150 سے زائد بچوں کو 6 نامعلوم دہشت گردوں نے بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کر دیا جس کے بعد پوری قوم صدمے میں چلی گئی جس کے بعد ملک کی سیاسی اور قومی قیادت نے متفقہ طور پر ایک قومی لائحہ عمل تیار کیا تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت سے چھٹکارہ پایا جا سکے جس نے افغانستان سے سوویت یونین کے انخلاءکے بعد پورے ملک کو اپنے شکنجے میں لے رکھا تھا۔

براﺅن یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق نائن الیون حملے کے ایک ماہ بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کر دی اور 20 سال افغانستان میں قیام کے بعد امریکہ افغانستان سے چلا گیا۔

اس جنگ پر امریکہ کی جانب سے 2.3 ٹریلین ڈالر خرچ کئے گئے۔ جنگ کے نتیجے میں 2 لاکھ 43 ہزار عام شہری ہلاک ہوئے یہ اعداد و شمار بیماری، خوراک، پانی، بنیادی ڈھانچے تک عدم رسائی یا جنگ سے دیگر براہ راست اثرات سے ہونے والی اموات سے کے علاوہ ہیں۔ مجموعی طور پر افغانستان میں ایک لاکھ 76 ہزار اموات ہوئیں جن میں امریکی لڑاکا فوجیوں، کنٹریکٹروں، اتحادی فوجیوں، سویلین، امدادی کارکنوں اور صحافی بھی شامل ہیں۔

پاکستان حکومت کے سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو 150 ارب ڈالر معاشی اور 80 ہزار قیمتی جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاہم 2 عشروں کے بعد افغان طالبان نے ایک بار پھر اسلامی امارات افغانستان کی قیادت اس عزم کے ساتھ سنبھالی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے اور ایک نئے دور کا آغاز کرینگے۔

امریکہ جس نے 2017ءمیں افغانستان کے صوبے قندھار کے ایچن ضلع میں آئی ایف پی کے ٹارگٹ پر سب سے وزنی بم جسے مدر آف آل بم کہا جاتا ہے، کا استعمال کیا تھا۔ وہ آخر کار طالبان کے ساتھ دوحہ میں بات چیت پر رضا مند ہوا اور ان کے ساتھ معاہدہ طے پایا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی طویل جنگ کے اختتام پر اپنے ایک بیان میں افغانستان میں طالبان قوت کا دوبارہ ابھر کر سامنے آنے اور افغانستان کی مسلح افواج کی تیزی سے پسپائی کا اعتراف کیا اور کہا کہ یہ ان کی توقعات سے بڑھ کر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے فیصلے سے متفق ہوں کہ 20 سال بعد ہم نے یہ بات اخذ کی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکیلئے اس سے اچھا اور کوئی وقت نہیں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا تاہم میں اس تنقید کو خاطر میں نہیں لاﺅں گا کہ وہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار امریکہ کے دوسرے صدر کیلئے چھوڑیں ۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے امریکی نیوز چینل پی بی ایس آوور کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے یقینی طور پر افغانستان میں خود کو پھنسایا تھا اور میری طرح کے لوگ جو افغانستان کی تاریخ کو جانتے ہیں ، یہ کہتے رہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے جس پر مجھے اور میرے ہم خیال لوگوں کو امریکہ مخالف قرار دیا گیا اور مجھے ”طالبان خان“ کہا گیا۔

انہوں نے کہا لہذا طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر کے ایک جامع وسیع البنیاد حکومت دیں اور یہ بہترین نتیجہ ہے اور اس کا کوئی حل نہیں ہے کیونکہ فوجی حل ناکام ہوا۔ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی اس موقف کا اظہار بار بار کرتے رہے ہیں۔

آج ماہرین نائن الیون کے واقعہ کو ان واقعات کو جانچنے کا موزوں وقت تصور کرتے ہیں جن کا آغاز 2001ءمیں امریکی حملوں سے ہوا اور ان کے اثرات ہزاروں کلومیٹر دورخطے پر بھی مرتب ہوئے ۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگردنیا میں لوگ ابھی تک نائن الیون کے واقعہ کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ سچ بھی تھا تو امریکی خفیہ ادارے ان دہشت گردوں کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام رہے کہ جنہیں تربیت دی جارہی تھی اور انہوں نے ایک سے دوسری جگہ پر پرواز کی ۔

واقعہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملکوں کو دیگر ممالک کیخلاف جنگ کرنے کی بجائے اپنی سلامتی اور انٹیلی جنس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس حوالے سے اصول وضع کرنے کیلئے بحث مباحثے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی ملک کو اپنی انٹیلی جنس کی ناکامی کو چھپانے کیلئے کسی بھی واقعہ کے بعد دوسرے ملک کیخلاف حملے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

انہوں نے صدر مشرف کا حوالہ دیا جو دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور اس قسم کے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کو روکنے کیلئے دہشت گردی کے بنیادی اسباب دور کرنے کےلئے ملکر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور قومی لائحہ عمل پر عمل کرتے ہوئے اپنی سلامتی کے ڈھانچے کو بہتر بنایا۔

پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال کرنے اور کسی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر اپنی حالیہ بریفنگ میں کہہ چکے ہیں کہ دنیا کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ نوے کی دہائی میں واپس جائے اور اس قسم کی غلطی دہرائے اور اسی قسم کے نتائج حاصل کرے اور وہ اس پالیسی سے کوئی مختلف نتائج اخذ نہیں کر پائے گی۔

اگر ہم افغانستان کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں تو وہاں پر ایک سیکورٹی خلاءپیدا ہو گا اور بین الاقوامی دہشت گردوں کو وہاں پنپنے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہےے کہ طالبان نے اب تک بنیادی طور پر درست بیانات دےے ہیں لہذا ان کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہےے جو ایک موقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ، چین ، ترکی، روس اور قطر کے سفارت خانے افغانستان میں ابھی تک فعال ہیںجبکہ اقوام متحدہ کے علاوہ پاکستان یو اے ای ، قطر سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت بھی کی جارہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو افواج کی ایک عالمی برادری کے ذمہ دار رکن کے طور پر مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے نائن الیون کے واقعہ کے دو ہفتوں بعد منظور کردہ قرارداد نمبر 1267 کے تحت تمام رکن ملکوں کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

انہوں نے طالبان کو ایک نئی حقیقت قرار دیا اور کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاءدوحہ مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوا جہاں امریکہ نے طالبان کو ایک اہم مذاکراتی فریق تصور کیا۔