ڈینیئل مدویدوف نے نوویک جوکووچ کو ہرا کر کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا ، جوکووچ کا ایک سال میں چاروں گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتنے کا خواب چکناچور

نیویارک۔13ستمبر (اے پی پی):روس کے نامور ٹینس سٹار اور میگا ایونٹ کے سیکنڈ سیڈڈ ڈینیئل مدویدوف نےسربین عالمی نمبر ایک نوویک جوکووچ کو ہرا کر اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل جیت لیا۔ انہوں نے یو ایس اوپن ٹینس مینز سنگلز فائنل میں نوویک جوکووچ کا ایک سال میں مسلسل چار گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتنے کا خواب بھی چکناچور کر دیا۔ یہ روسی ٹینس سٹار ڈینیئل مدویدوف کے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل ہے۔

مدویدوف رواں سال کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن کے مینز سنگلز مقابلوں کے فائنل میں پہنچے تھے تاہم وہاں ان کو نوویک جوکووچ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یوں یوا یس اوپن میں فتح کے بعد انہوں نے جوکووچ سے آسٹریلین اوپن کی شکست کا بدلہ بھی چکا دیا۔ سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن کے سنسنی خیز مقابلے نیویارک میں جاری تھے جس کے فائنل میچ میں روس کے ڈینیئل مدویدوف کا مقابلہ سربین عالمی نمبر ایک نوویک جوکووچ سے تھا ۔25 سالہ سیکنڈ سیڈڈ مدویدوف نے فائنل میچ میں انتہائی شاندا ر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 سالہ سربین عالمی نمبر ایک نوویک جوکووچ کو سٹریٹ سیٹس میں 4-6، 4-6 اور 4-6 سے شکست دے کر پہلا یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی روس کے ڈینیل مدویدوف نے نوویک جوکووچ کا کیلنڈر سویپ مکمل کرنے کی امیدوں کو بھی توڑ دیا۔عالمی نمبر ایک جوکووچ رواں سال پہلے ہی آسٹریلین اوپن ، فرنچ اوپن اور ومبلڈن ٹائٹل جیت چکے ہیں وہ ریکارڈ 21 ویں گرینڈ سلام مینز ٹائٹل کا تعاقب کر رہے تھے جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے اور اب اس مقصد کے حصول کے لئے ان کو آئندہ سال مسلسل چار گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتنے ہوں گے۔

اگر جوکووچ فائنل جیتنے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ کیلنڈر سلام جیتنے والا چھٹے اور 1969 میں راڈ لیور کے بعد یہ اعزاز پانے والے پہلا کھلاڑی بن جاتے ۔نوویک جوکووچ نے اس میچ کے دوران بے شمار غلطیاں کیں اور فائنل ہارنے کے بعد ٹینس کورٹ سے آنسو بہاتے ہوئے چلے گئے۔