رمیز راجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین منتخب

لاہور۔13ستمبر (اے پی پی):قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن رمیز راجہ بلامقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے 36ویں چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ وہ آئندہ تین سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کے انتخاب کے لئے گورننگ بورڈ کا خصوصی اجلاس گزشتہ روز نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں ہوا جس کی صدارت بورڈ کے الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید نے کی۔

پی سی بی کے پیٹرن اور وزیراعظم عمران خان نے27 اگست کو رمیز راجہ کے علاوہ اسد علی خان کو تین سال کے لیے پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن نامزد کیا تھا۔ ان کے علاوہ عاصم واجد جواد، عالیہ ظفر، عارف سعید، جاوید قریشی اور وسیم خان چیف ایگزیکٹو پی سی بی بھی بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہیں۔ رمیز راجہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے 18ویں اور ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 12ویں کپتان ہیں۔ سال 1984 سے 1997 پر مشتمل اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر میں رمیز راجہ نے مجموعی طور پر255 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8674 رنز بنائے۔

وہ سال 2003 سے 2004 تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں۔ وہ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ رمیز راجہ ایم سی سی کی موجودہ ورلڈکرکٹ کمیٹی کے رکن ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے معروف براڈ کاسٹرز میں ہوتا ہے۔ رمیز راجہ چوتھے کرکٹر ہیں جو پی سی بی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ ان سے قبل سابق کرکٹرز عبدالحفیظ کاردار (77-1972)، جاوید برکی (95-1994)، اور اعجاز بٹ (11-2008) چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے بی او جی سے خطاب کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے پی سی بی کا چیئرمین منتخب کیا اور میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ ہم پاکستان کرکٹ کو میدان کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر مضبوط کریں اور پروان چڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ میری پہلی ترجیح قومی کرکٹ ٹیم میں اس سوچ، ثقافت اور نظریے کو متعارف کروانا ہے کہ جس نے کبھی پاکستان کو کرکٹ کی سب سے خطرناک ٹیم بنا دیا تھا۔

ایک ادارے کی حیثیت سے ہم سب کو قومی کرکٹ ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ان کی مطلوبہ ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسی برانڈ کی کرکٹ کھیلیں کہ جس کی ان سے شائقین کرکٹ توقع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ایک سابق کرکٹر کی حیثیت سے میری دوسری ترجیح اپنے سابق اور موجودہ کرکٹرز کی فلاح و بہبود کا خیال کرنا ہوگی۔ یہ کھیل کرکٹرز سے ہے اور ہمیشہ انہی سے رہے گی، لہذا وہ اپنے ادارے سے اسی پہچان اور احترام کے مستحق ہیں