پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان سماجی، مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، سیالکوٹ میں تیار ہونے والی سپورٹس اور دیگر مصنوعات کی انڈونیشیا میں بہت مانگ ہے، انڈونیشیائی سفیر کا سیالکوٹ چیمبر میں خطاب

پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان سماجی، مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، سیالکوٹ میں تیار ہونے والی سپورٹس اور دیگر مصنوعات کی انڈونیشیا میں بہت مانگ ہے، انڈونیشیائی سفیر کا سیالکوٹ چیمبر میں خطاب

سیالکوٹ۔14ستمبر (اے پی پی):جمہوریہ انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ایم توگیو نے کہا کہ پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان سماجی، مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، پاکستان ،انڈونیشیا جیسا ہے یہاں کے کھانے، لباس اور بالخصوص جناح کیپ انڈونیشیا کےبیشتر علاقوں کے لوگ پہنتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک 2021 میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے مسلم ملک بننے جارہے ہیں۔ یہ ممالک تاریخی کے اعتبار سے بھی بہت سے مماثلت رکھتے ہیں۔

ان کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے،بالخصوص سیالکوٹ میں تیار کی جانے والی مارشل آرٹ سپورٹس گڈر، ہوزری سمیت دیگر مصنوعات کی انڈونیشیا میں بہت مانگ ہے۔ 2023ء پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز ہونے جارہی ہیں۔یہ گیمز ہاہمی تعلقات اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پاکستان اور انڈونیشیا قدرتی حسن سے مالا مال ممالک ہیں پاکستان کے گلیشئر خوبصورت ہیں یہاں ٹورازم کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انڈونیشیا 6 فیصد جی ڈی پی ٹورازم سے حاصل کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت وتجارت سیالکوٹ میں منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صدرایوان صنعت وتجارت سیالکوٹ قیصر اقبال،سینئر نائب صدر اسلم بٹ،نائب صدر انصر عزیز پوری،میاں نعیم جاوید،نوشین گیلانی ، انیل سرفراز سمیت صنعتکاروں اور تاجروں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

صدر ایوان صنعت و تجارت قیصر اقبال بریار نے کہا کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے مابین معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس سے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 2.5بلین ڈالر ہے۔

پاکستان انڈونیشیا کے ٹورازم انڈسٹریز سے سیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود کے سرکاری سطح پر دوروں سے کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔

انہوں انڈونیشین سفیر ایڈم ایم توگیو کی پاکستان ،انڈونیشیا کی ہم آہنگی کیلئے کتاب کی اشاعت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ ان کی اس کوشش سے دونوں ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور ای بزنس کے ذریعے منظم طریقے سےتجارت کا فروغ ممکن ہے۔