افغان وزیرخارجہ کی عالمی برادری سے بالخصوص صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کی اپیل،امداد کے اعلان کا خیرمقدم

کابل۔14ستمبر (اے پی پی):افغان وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی نے عالمی برادری سے بالخصوص صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کیلئے امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں، رقم افغان بینک کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائے گی، جو لوگ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں وہ جانے کیلئے آزاد ہیں، سرمایہ کار افغانستان آئیں انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے، جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے انہیں چاہیے وہ منصوبے مکمل کریں، ہم بھرپور تعاون کریں گے، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے مشکل حالات میں افغان عوام کی بہت مدد کی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

منگل کو کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنیوا عالمی کانفرنس میں جن ملکوں نے مدد کا اعلان کیا ان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں، امداد کا اعلان کرنے والے ملکوں کی جانب سے فراہم کردہ رقم افغان بینک کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائے گی، امید ہے کہ عالمی برادری افغانستان کو دی جانے والی امداد سیاسی عزائم و مقاصد کے ساتھ مشروط نہیں کرے گی۔

مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ صحت، تعلیم اور شہروں میں انفراسٹرکچر کے شعبوں کی بحالی میں معاونت کرے، جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے، انہیں چاہیے وہ منصوبے مکمل کریں، ہم بھرپور تعاون کریں گے، تاجروں اور سرمایہ کاروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے کاروبار شروع کریں خود بھی منافع کمائیں اور عوام کو بھی فائدہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ بیرون ملک مقیم مہاجرین اپنے ملک واپس آ جائیں، ملک کے اندر بے گھر افراد کو بھی اپنے علاقوں اور گھروں میں آباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ امارت اسلامی نے امریکہ سمیت غیرملکیوں کے کابل سے انخلاءمیں بھرپور تعاون کیا، طالبان کی تعریف کرنے کی بجائے امریکہ نے ہمارے قومی اثاثے منجمند کر کے مشکلات پیدا کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت عالمی برادری کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ انتشار کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہو پائے گی، طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے، ہماری عبوری کابینہ میں افغانستان کی تمام قوموں کی نمائندگی موجود ہے، افغان عبوری کابینہ میں تاجک، ازبک اور پشتون رہنما شامل ہیں، افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تعصب پر مبنی پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے مشکل حالات میں افغان عوام کی بہت مدد کی، ہم شکر گزار ہیں، چین کے وزیر خارجہ سے جلد ملاقات ہو گی چین کے تعاون کے بھی مشکور ہیں۔