مقبوضہ جموں و کشمیر میں اجتماعی قبریں برآمد ہونے کا انکشاف ، بھارت بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں ملوث ہے، رپورٹ

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی جانب سے اجتماعی قبریں برآمد ہونے کے انکشاف سے ثابت ہوا ہے کہ بھارت بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں ملوث ہے۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل کے مطابق بین الاقوامی انسانی حقوق کی مختلف تحقیقاتی رپورٹس سے مقبوضہ وادی میں ایسی نامعلوم اجتماعی قبروں کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 دیہات میں 8652 اجتماعی قبروں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ایسی اجتماعی قبریں ملنے سے ان ہزاروں لاپتہ کشمیریوں کی سلامتی کے متعلق بھی خدشات بڑھ گئے ہیں جو ابھی تک گمشدہ ہیں ۔ ایس ایچ آر سی نے ایسی 2730 قبروں کے وجود کی تصدیق کی ہے اور انکوائری کمیشن کے قیام کے ساتھ ان قبروں کے معائنہ اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے 22 اگست 2011ء کی اپنی اشاعت میں بھی اس رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جبکہ انسانی حقوق اور انصاف سے متعلق انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل نے 2009ء میں اپنی رپورٹ میں بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے 55 دیہات میں 5643 اجتماعی قبروں کی موجودگی کا دستاویزی ثبوت دیا ہے۔ 5643 قبروں میں سے 140 قبروں میں دو دو میتیں اور 23 قبروں میں 17,17 میتیں ملی ہیں۔

علاوہ ازیں جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد (جے کے سی سی ایس) اور عالمی فورم برائے انصاف و انسانی حقوق نے بھی ضلع بارہمولہ اور اڑی کے 18 مقامات پر 925 اجتماعی قبروں کی تصدیق کی ہے۔ ضلع بارہمولہ کے دیہات بیمیار میں عطا محمد اور دیہات کچاما میں محمد یوسف ملک نے بھارتی فورسز کی ہدایات پر 430 اور 450 نامعلوم افرا کی لاشوں کی تدفین کی۔