چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بات ضرور ہو رہی ہے لیکن ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، حکومت کے پاس سارے آپشنز موجود ہیں اور جلد ہی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا کہ جاوید اقبال کو ہی چیئرمین نیب رکھنا ہے یا کسی اور کی تقرری کرنی ہے۔

منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اور کوئی بھی ان کی ایمانداری پر انگلی نہیں اٹھا سکتا، چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے، بلاشبہ جاوید اقبال بھی مضبوط امیدوار ہیں لیکن اور ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تمام تر آئینی اور قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کوئی آئینی قدغن تو نہیں، ابھی قانون میں ترمیم یا آرڈیننس لانے کے حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے، حکومت جب حتمی فیصلہ کر لے گی تو پھر قانون میں ترمیم یا آرڈیننس لانے پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر آئینی شق 6 بی ون کے تحت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت ہونی چاہیے اور ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر بہت اچھا کام کر رہے ہیں، وہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں لینا چاہتے تھے، ہم نے تین چار امیدواروں سے پوچھا تو انہوں نے معذرت کر لی جس کے بعد اصغر حیدر ذمہ داریاں جاری رکھنے پر رضامند ہوئے تھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 264 کے تحت اگر کسی کی تقرری یا آرڈر پاس ہو جائے تو آرڈینس ختم ہونے کے ساتھ اس کی مدت ختم نہیں ہو جاتی، چاہے چیئرمین نیب یا پراسیکیوٹر جنرل کی تقرری کا معاملہ ہو ایکٹ آف پارلیمنٹ ضرور آئے گا۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم عمران بدعنوان عناصر کے خلاف بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتے ہیں، وہ کسی صورت بھی احتساب کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، موجودہ حکومت نیب قوانین میں ترامیم کے اوپر سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے، پہلے بھی آرڈیننس لائے تھے لیکن اپوزیشن اپنی مرضی کی 34 شقیں لیکر آ گئی جس کی وجہ سے قانون سازی نہ ہو سکی تاہم ہم جلد ہی نئی ترامیم سامنے لائیں گے۔