عالمی یوم جمہوریت: جمہوری استحکام اور نقائص سے پاک شفاف انتخابی نظام کے لئے اصلاحات ناگزیر

رپورٹ) زاہد اکبر عباسی )

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):انتخابی نظام کسی بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کا بنیادی جزو ہوتا ہے، صاف شفاف و منصفانہ انتخابات کےبغیر حقیقی جمہوریت کو فروغ نہیں دیا  جا سکتا لہذا عوام کے حقیقی نمائندوں کے انتخاب کے لئے انتخابی عمل کا نقائص اور خامیوں سے پاک ہونا ضروری ہے تاکہ انتخابات اور انتخابی نظام کی ساکھ پرکوئی انگلی نہ اٹھا سکے اور تمام فریقین انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔( آج) بدھ کو جب کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جمہوریت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کو تقویت دینے کے لئے انتخابی عمل کو مکمل طورپر شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔جمہوریت کا عالمی دن دنیا بھرمیں جمہوریت کی صورتحال پر غور اور اس کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتاہے۔

وزیراعظم عمران خان کے وژن اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق جمہوریت کو مستحکم بنانے کے لئے کی جانے والی کوششیں اور اقدامات بجا طور پر اس دن سے گہری مناسبت رکھتے ہیں۔اس حوالے سے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر موجودہ حکومت انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو متعارف ، موجودہ نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے اور عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دور رس انتخابی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔

متعلقہ حکام کے مطابق موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے کام شروع کر دیا تھا۔ اس حوالہ سے پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جبکہ 90 لاکھ سمندر پار پاکستانیوں کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کیلئے انہیں ای۔ووٹنگ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کیلئے بھی کام جاری ہے، انتخابی اصلاحات کے تحت وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے 90 روز کے قلیل وقت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کی ہے جس سے انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹوں کی فوری گنتی سمیت دیگر ماضی میں پیش آنے والے مسائل کا ازالہ ممکن ہو سکے گا، اس مشین پر الیکشن کمیشن، اراکین پارلیمنٹ اور میڈیا کو جامع بریفنگز دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نےانتخابی اصلاحات کے موضوع پرحالیہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) پاکستان میں شفاف انتخابات کی ضامن ہیں، حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے تعمیری تجاویز لینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم اور انتخابی اصلاحات آزاد اور قابل اعتماد انتخابات کے لئے ضروری اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے اہم ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات آزاد اور قابل اعتماد انتخابات کے لئے ضروری ہیں، ہمیں ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لئے سخت محنت کی ہے اور یہ اصلاحات انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں اپنی نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئےوزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے اورصاف شفاف انتخابات کیلئے اصلاحات ضروری ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی حکومت شفاف انتخابات کیلئے اصلاحات پر کام کررہی ہے مگر اس کے برعکس اپوزیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو دیکھے بغیر مسترد کردیا۔

انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ دیگر تمام شعبہ جات میں تو ہم الیکٹرانک مشینوں اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جارہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کی تمام سہولیات آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون میں موجود ہوں مگر جب سب سے اہم شعبہ جمہوریت کی بات آتی ہے تو اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بغیر دیکھے بغیر سوچے سمجھے مخالفت کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بعض جماعتیں مخصوص مفادات اور فرسودہ سوچ سےباہر نہیں نکلنا چاہتیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں کوئی تحفظات ہیں تو اسے مل بیٹھ کر دیکھا جاسکتا ہے لیکن اس مشین کو دیکھے اور اس کی ورکنگ چیک کئے بغیربلاجواز خدشات پر مسترد کردینا کسی صورت درست اقدام نہیں ۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حقیقی جمہوریت لانے اور دھاندلی کے خاتمہ کیلئے انتخابی عمل شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسا صر ف اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔ سیاسی نگاروں کی بھی یہ رائے ہے کہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل ہو رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی آ رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آگے بڑھنے میں کسی کو اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے انتخابات کو آزادانہ و شفاف بنانےمیں بہت مددملےگی ،اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے صاف و شفاف انتخابات کرانے کیلئے اپنا اپنا کردار مناسب انداز میں ادا کرنا چاہئے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق کا کہناہے کہ دنیا کے کئی ممالک الیکٹرانک ووٹنگ کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، پاکستان کو آگے بڑھ کر ان اصلاحات اور نئے طریقوں پر غور کرنا چاہئے۔ اندریں حالات سیاسی مبصرین کی یہ رائے صائب ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان، حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات کے حوالے سے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں لہذا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سب کو آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے تاکہ ملک میں دھاندلی اور انتخابی الزامات کی سیاست کا خاتمہ ہو اور جمہوریت کو تقویت ملے۔