چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کے ہمراہ چاغی اور نوشکی میں فور جی سروسز کی فراہمی کے معاہدے کی تقریب میں شرکت

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کے ہمراہ بلوچستان کے اضلاع چاغی اور نوشکی میں فور جی سروسز کی فراہمی کے معاہدے کی تقریب میں شرکت کی۔ معاہدے پر یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حارث محمود چوہدری اور ٹیلی نار کے سی ای او عرفان وہاب خان نے دستخط کئے، معاہدے کے تحت وزارت آئی ٹی ایک ارب 37 کروڑ روپے کی لاگت سے چاغی و نوشکی کے 170 دیہاتوں میں 4 جی سروسز فراہم کرے گی۔

تقریب میں سینیٹرنصیب اللہ بازئی، سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت، ممبر ٹیلی کام محمد عمر ملک، چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ، عمران اختر شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کی تکمیل کیلئے وزارت آئی ٹی کا کردار ناقابل فراموش ہے جس میں چاروں صوبوں میں آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن کے یکساں منصوبے شروع کیے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کے بعد بلوچستان کے 14 اضلاع کیلئے 8 ارب 43 کروڑ روپے کی لاگت سے مجموعی پراجیکٹس کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ ان پراجیکٹس کی تکمیل سے 14 اضلاع بولان، جعفرآباد، مستونگ، زیارت، کیچھ، پنجگور، گوادر، پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ کے اطراف کے علاقوں کے 2 ہزار 24 گاؤں دیہات کی 22 لاکھ سے زائد آبادی مستفید ہوگی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کی شاہراہوں اور موٹر ویز پر مسافروں کو بلاتعطل موبائل سروسز کی فراہمی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جس کے تحت NH25سے NH10 تک 701 کلومیٹر شاہراہ پر موبائل سروس فراہمی کا منصوبہ 75 کروڑ 90 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ NH25 سے NH65 تک 650 کلومیٹر شاہراہ پر 25 کروڑ جبکہ NH50 سے NH70 تک کے 451 کلومیٹر شاہراہ پر 41 کروڑ سے زائد کی لاگت سے پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔چاغی اور نوشکی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کا کہنا تھا کہ ان دونوں اضلاع کے 170 دیہات میں 4جی سروسز کی فراہمی کا منصوبہ 18 ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد ایک لاکھ 60 ہزار 915 رہائشیوں کو ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ سروسز کی سہولیات میسر آجائیں گی۔

سید امین الحق نے کہا کہ پاکستان کے تمام دیہاتی علاقوں میں ڈیجیٹل کنیکٹوٹی بڑھانے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اپنی رفتار میں کسی کا انتظار نہیں کرتی اس کے ساتھ چلنا ہوتا ہے پھر ای کامرس، ای ایجوکیشن اور ای صحت سے لے کر ہر شعبے میں کنیکٹیوٹی انتہائی ضروری ہے اسی لیئے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام لوگ براڈ بینڈ کے ساتھ منسلک ہوں۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی سیکٹر گروتھ 47 فیصد رہی آئی ٹی سیکٹر سے ہم نے 2 ارب 10 کروڑ ڈالرز سے زائد برآمدی ترسیلات حاصل کیئے آئندہ سال اس کا ہدف 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کا رکھا گیا ہے۔۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے وزارت آئی ٹی کے منصوبوں کی تفصیلات صرف میرے لیئے ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے عوام کیلئے خوشی کا باعث ہیں کہ ہمارا صوبہ ہمیشہ محرومیوں کا شکار رہا ہے بنیادی مسائل کے علاوہ وہاں کنیکٹوٹی کے بھی شدید مسائل تھے۔

بلوچستان کے نوجوان فور جی سروسز کی فراہمی سے مستفید ہونگے ،فور جی سروسز سے بلوچستان کے لوگوں کا احساس محرومی ختم ہو گا یہ اہم بات ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مسحکم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے انفامیشن ٹیکنالوجی ہی اصل مستقبل ہے۔چیئرمین سینٹ نے کہا کہ نوشکی اور چاغی کے اضلاع میں فور جی سروسز کی فراہمی خوش آئند ہے اسی راستے سے70 سے 80 ہزار زائرین روٹ سفر کرتے ہیں ان کیلئے اور مقامی آبادی کیلئے مشکلات حل ہوں گی۔

انھوں نے بلوچستان کو ڈیجیٹل بلوچستان بنانے میں وزارت آئی ٹی کے کردار پر وفاقی وزیر سید امین الحق کو خراج تحسین پیش کیا۔قبل ازیں یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حارث محمود چوہدری نے منصوبے کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر سید امین الحق کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر میں یونیورسل سروس فنڈ جس تیزی سے منصوبوں کا آغاز کررہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور ہم ان منصوبوں کے معیاری ہونے اور وقت پر ان کی تکمیل کی ضمانت دیتے ہیں۔

اس موقع پر ٹیلی نار کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر عرفان وہاب خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کے ادارے یو ایس ایف کے ساتھ اس منصوبے کے علاوہ کئی دیگر منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور ہمارے لیئے یہ اعزاز ہے کہ ہم ڈیجیٹل پاکستان وژن کی تکمیل کیلئے وفاقی وزیر سید امین الحق کی زیر قیادت مواصلاتی رابطوں کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنے ہیں۔