پاکستان نے افغانستان میں ایسی حکومت کے قیام کی تسلسل کے ساتھ حمایت کی ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں، ترجمان امریکی وزارت خارجہ

واشنگٹن۔16ستمبر (اے پی پی):امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ہم پاکستانی حکام اور پاکستانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان نے افغانستان میں ایسی حکومت کے قیام کی تسلسل کے ساتھ حمایت کی ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں اور جس کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہو، انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی اور ماضی کے ثمرات کے تحفظ سے متعلق خدشات پر مشترکہ ترجیحات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ہم سب ایک ہی سمت میں گامزن ہوں۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی ترجمان نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کے پس منظر میں ہم پاکستانی حکام اور پاکستانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ہم نےافغانستان کی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترجمان نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں ہونے والے وزارتی سطح کے ورچوئل اجلاس کا حوالہ دیا جس میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کی تھی ۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ افغانستان میں گزشتہ 20 سال کے دوران حاصل ہونے والے ثمرات ، خاص طور پر خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حوالہ سے کامیابیوں کا تحفظ سب کے مفاد میں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے مصائب میں کمی بھی سب کے مفاد میں ہے۔

یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے بھی مفاد میں ہے جو افغانستان سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں ایسی حکومت کے قیام کی تسلسل کے ساتھ حمایت کی ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں اور جس کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہو۔

ترجمان نے اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ کے گزشتہ روز کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواہاں ہیں کہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک اپنے وعدو ں کے مطابق افغان عوام کی مدد کے لئے مختلف اقدامات میں تیز ی لائیں گے اور اس سلسلہ میں نہ صرف ہمارے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر تعمیری انداز میں مشترکہ ترجیحات کے مطابق کام کریں گے جن میں انسانی حقوق سے متعلق تشویش ، گزشتہ بیس سال میں حاصل ہونے والے ثمرات کے تحفظ اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے خدشات شامل ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہم سب ایک ہی سمت میں گامزن ہیں۔