فلسطین نے اسرائیلی حکومت کے دوریاستی حل کو مسترد کردیا

راملہ ۔17ستمبر (اے پی پی):فلسطین نے دو ریاستی حل کو مسترد کرنے کے اسرائیلی حکومت کے دو ریاستی حل کو مسترد کرنے کے موقف اسرائیل کے فلسطین ریاست میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیلی وزیر خزانہ اویگڈور لیبرمین کا موقف “یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی کاز کو ختم کرنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اپنے عزائم کو چھپانے کے لئے فلسطینی قیادت پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل وزیر اعظم کوامن کا دشمن قرار دیتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور روس ، امریکہ ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر مشتمل بین الاقوامی چاروں طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حکومت کی فلسطین پر بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکا جائے ۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات ، جو امریکہ کی سرپرستی میں تھے اور نو ماہ تک جاری رہے ، اسرائیلی آبادکاری پر شدید اختلافات اور 1967 کی سرحد پر فلسطینی ریاست کاقیام تسلیم کئے جانے کے بعد 2014 میں رک گئے تھے ۔اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا ، جس پر فلسطینیوں کا دعویٰ ہے اور تب سے وہ ان پر قابض ہے۔ یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔