عالمی یوم امن :بھارتی ہندوتوا پالیسی سے علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ، مسئلہ کشمیر عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی

رپورٹ : ہلال احمد

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں امن کا عالمی دن (کل) منگل کو منایا جارہا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر امن کو فروغ دینا اور مختلف خطوں میں جنگ اور تشدد سے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو تقویت پہنچانا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو امن کے نظریات کو مضبوط بنانے کے لیے وقف کرنے کا دن قرار دیا ہے تاہم اگر خطے کی صورتحا ل کی بات کی جائے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے سخت گیر ہندو نظریئے سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

امن کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں تقریبات منعقد ہوں گی جن میں خطے کے امن کے لئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا جائے گا اور بین الاقوامی اداروں سے تنازعہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ علاقہ میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بند کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے اور اس نے کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، بھارت نے 1947ءمیں کشمیر پر زبردستی قبضہ کرلیا حالانکہ تقسیم برصغیر کے اصولوں کے تحت طے پایا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو آبادی والے علاقے بھارت میں شامل ہوں گے، اس اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا تھا ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں رائے شماری کے حق میں کئی قراردادیں پاس کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ءکو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ تنازعہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے جسے کشمیری عوام کی خواہشات اور اس کے تاریخی تناظر میں حل کیا جانا چاہئے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر گذشتہ سال مارچ میں تنازعات کا شکارممالک اور علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل تھی اور اس سال فروری میں سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقامی تنازعات کے لیے ” مسلسل انسانی ہمدردی “ کی حمایت کریں، عالمی جنگ بندی کا احترام جاری رکھیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تنازعات میں پھنسے لوگوں کو زندگی بچانے والی کورونا ویکسین اور علاج تک رسائی حاصل ہوسکے۔

اقوام متحدہ کی اس اپیل کے باوجود بھارت نے کورونا وائرس کی آڑ میں اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے اور وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کررہا ہے۔ کشمیری عوام طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آزادی کے حق سے محروم ہیں، بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی سے جنوبی ایشیا کا پورا علاقہ عدم استحکام سے دوچار ہے، بھارتی حکمرانوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے خطے میں خون خرابہ ہورہا ہے، بھارت اب تک کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

استصواب رائے کے تحت کشمیر کے عوام اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو بھارت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے۔حق خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیری عوام اور حریت قیادت قربانیاں دے رہی ہے، بھارت کے حکمران کشمیریوں کی تحریک آزادی کے خلاف بدترین حربے استعمال کررہے ہیں جبکہ بھارتی میڈیا حریت پسند قیادت کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا ہے، بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے آزادی پسند قیادت کو حق گوئی سے دستبردار نہیں کرسکتا۔

بھارتی حکومت نے کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط کرنے کے لئے 5 اگست 2019 کو ایک غیرقانونی اور غیر آئینی اقدام کے ذریعے مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کردی لیکن اس کے باوجود بھارت کو عالمی سطح پر حمایت حاصل نہیں ہوئی، اس اقدام کے نتیجہ میں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور دیگر عالمی فورمز پر زیر بحث آیا، وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کی حکومت نے بھی اس مسئلہ کو بھرپور طریقے پر اجاگر کیا ہے، بھارتی حکمران ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے دوہرا میعار اپنا رکھا ہے، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں رائے شماری کرائی گئی جبکہ کشمیر کے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا جارہا ہے۔ بعض اہم ملکوں کے بھارت کے ساتھ تجارتی مفادات وابستہ ہیں اس لئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چپ سادھ رکھی ہے۔

با اثر ممالک نے کشمیر کے حوالے سے بھارت کے اقدامات کی مذمت نہیں کی جو افسوسناک ہے۔بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کے باوجود کشمیری اپنی مبنی بر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی نے بھارت کے مذموم منصوبے خاک میں ملادیئے ہیں اور وہ اپنی جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔

مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام کے بعد برطانیہ کے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ برائے کشمیر نے کئی بار بھارت سے مطالبہ کیا کہ اس کے وفد کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت دی جائے لیکن بھارت اس پر تیار نہیں ہوا۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خوشحالی، ترقی اور جمہوریت لائے گا، بھارت کے یہ تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا گیا اور عوام پر ظلم وستم ڈھایا گیا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں میں ملوث ہے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا غیر آئینی بھارتی اقدام قابل مذمت ہے، 5 اگست کے ظالمانہ اقدام کے بعد مقبوضہ علاقہ میں سخت لاک ڈائون کیا گیا اور مارچ 2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کو مزید سخت کیا گیا۔

بھارت علاقہ میں نوجوانوں کا قتل عام کررہا ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت نے حریت کانفرنس کی پوری قیادت کو جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کررکھا ہے۔ماہ رواں کے اوائل میں حریت قائد سید علی گیلانی اپنی رہائش گاہ پر دوران حراست انتقال کرگئے اور ان کی زبردستی تدفین کی گئی۔ اس سے قبل حریت کانفرنس کے سینئر راہنما محمد اشرف صحرائی بھی قید کے دوران جیل میں انتقال کرگئے تھے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے سخت گیر ہندو نظریئے سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ وہ ”نازی ازم“ کی موجودہ شکل بن چکے ہیں۔ مودی اور اس کے انتہاپسند ساتھی اقتدار میں رہنے اور ہندو فرقہ پرستوں کو خوش کرنے کے لئے بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لئے ملک کی سرزمین جہنم بنارہے ہیں۔ بھارت میں برسراقتدار ہندو فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ملک میں رہنے والے مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014ءمیں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان، مسلمانوں اور کشمیر بارے سخت گیر پالیسی اختیار کرلی۔ پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کی جاری سخت گیر پالیسی ایک منظم منصوبہ کا حصہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال اورحالیہ بھارتی اقدامات نے اسے پوری طرح بے نقاب کیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری باالخصوص اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق خود ارادیت دلوانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرے جس سے عالمی سطح پر امن کے نظریات کو تقویت دینے میں بھی مدد ملے گی۔