مالی سال 2022کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوارمیں 4فیصد اضافہ متوقع ہے،عالمی مالیاتی فنڈ

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے مالی سال 2022کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی)میں 4فیصد کے اضافہ کا امکان ظاہر کیا ہے ۔آئی ایم ایف نے منگل کو جاری کی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ ”ورلڈ اکنامک آئوٹ لُک اکتوبر 2021”میں رواں مالی سال 2021-22کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی میں 4فیصد اضافے کی توقع ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ مالی سال 2020-21کے دوران جی ڈی پی میں 3.9فیصد کی شرح بڑھوتری کی بھی تصدیق کی ہے، تاہم عالمی بینک نے گزشتہ ہفتے کے دوران اپنی ایک رپورٹ میں رواں مالی سال 2021-22کے لئے پاکستان کی جی ڈی پی میں 3.4فیصد کی شرح نمو کا تخمینہ پیش کیا تھا جس کو وزارت خزانہ کے ایک بیان میں مسترد کر دیاگیا تھا،

کیونکہ یہ تخمینہ غیر حقیقت پسندانہ اعداد و شمار پر مبنی تھا۔ وزارت خزانہ نے کہاکہ تھاکہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی میں5فیصد اضافہ متوقع ہے ۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے دوران پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5فیصد کی موجودہ شرح سے 4.8فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے ، دوسری جانب عالمی بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3.5فیصد دیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2020-21کے دوران افراط زر کی شرح 8.9فیصد رہی تاہم رواں مالی سال 2021-22میں افراط زر کی شرح 8.5فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں افراط زر کی شرح میں حالیہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن طویل مدتی افراط زر کی شرح کم رہنے کی امید ہے۔ عالمی بینک نے مستقبل کے حوالے سے پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال 2021کے آخر تک افراط زر کی شرح میں اضافہ کا تسلسل جاری رہے گا تاہم دنیا کے اکثر ممالک میں سال 2022کے وسط تک یہ شرح کورونا کی وباء سے قبل کی سطح تک آجائے گی ۔ عالمی بینک نے مزید کہاہے کہ معاشی بحالی کی صورتحال میں غیر یقینی جاری رہنے کا خدشہ ہے اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر افراط زر کے اندازوں میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

ورلڈ بینک نے مزید کہا کہ موثر اور جامع مالی و زری پالیسیوں سے اس صورتحال سے بچا جاسکتا ہے اور افراط زر کی شرح توقعات سے کم ہوسکتی ہے ۔ مزید برآں آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان کا حسابات جاریہ کا خسارہ 0.6فیصد رہا تھا جو رواں مالی سال کے دوران 3.1فیصد تک بڑھ سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر معاشی بحالی کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی کورونا کی عالمی وباء کے معاشی مسائل پر قابو پا لیا جائے گا لیکن بعض ممالک کو پالیسی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ جولائی کے تخمینہ میں مختلف ممالک کی متوقع معاشی بحالی میں تضاد کا حوالہ دیا گیا تھا تاہم آنے والے مہینوں کے دوران ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ملکوں میں یہ تضاد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

ادھر امریکہ سمیت بعض تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں بھی افراط زر کی شرح بڑھی ہے کیونکہ جیسے ہی کورونا وباء کے پھیلائو کو روکنے کی پابندیوں میں نرمی کی گئی تو اس سے طلب بڑھی لیکن رسد میں کمی کی صورتحال رہی جس کی وجہ سے قیمتوں پر دبائو آیا اور صارفین کو سہولیات کی فراہمی کے لئے آئندہ سال 2022کے دوران زیادہ تر ممالک کی جانب سے سبسڈیز کی توقع ہے تاکہ افراط زر کے بڑھنے کے رحجان پر قابو پایا جاسکے ۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ممالک میں کورونا وباء سے قبل کی شرح کے مقابلے میں روز گار کی شرح کم ہونے کے باوجود افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے

جس کے نتیجہ میں پالیسی سازوں کے لئے مشکلات پیدا ہوئی ہیں ۔ عالمی ادارہ نے کہاہے کہ ویکسین کی تیاری و تقسیم ، موسمیاتی تبدیلیوں اور بین الاقوامی مالیاتی شراکتداری سے عالمی سطح پر معیشت کی بحالی میں مدد ملی ہے تاہم اس حوالے سے کثیر الملکی سطح پر مستحکم پالیسی اشتراک کی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ مزید برآں بین الاقوامی کاوشوں کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر جامع پالیسی سازی کی ضرورت ہے تاکہ مخصوص حالات میں بہترین اہداف کے تقرر سے معاشی بحالی میں مدد حاصل کی جاسکے جس سے کورونا کی وباء کے اثرات کو جلد سے جلد ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔