علاقائی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے سے معاشی خوشحالی حاصل کرنے میں مدد ملے گی،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رکن ایرانی پارلیمنٹ احمد امیر عبادی فرحانی سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے سے معاشی خوشحالی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، خطے میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے جسے باہمی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں ان خیالات کا اظہار بدھ کو ایرانی پارلیمنٹ کے رکن احمد امیر عبادی فرحانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا جو اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر پانچ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورہ پر ہیں۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان گفت و شنید دو ممالک کو قریب لاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ تعلقات میں اضافہ اس بات کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران مذہب ، ثقافت اور تاریخ کے لازوال رشتوں کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ حکومت علاقائی ترقی اور خوشحالی کے لیے عالمی معاشیات اور رابطے پر توجہ دے رہی ہے، پاکستان تجارت کے شعبے میں دونوں ممالک کی عوام کے مابین رابطے کو بڑھانے کی خواہش رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو نئے سرحدی مقامات کے کھلنے سے پاکستان اور ایران کے مابین تجارت اور عوام کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے سرحدی مارکیٹ کے قیام کے خیال کو بھی سراہا جس سے دوطرفہ تجارت اور سرحدی علاقوں میں عوام کو روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو خطے کے دیگر حصوں تک بڑھانے کے لیے روابط کا قیام ضروری ہے۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو خطے میں بدلتی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایک دوسرے کے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور متنازعہ مسائل کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان قیادت کے ساتھ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان قریبی رابطے ضروری ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے

کہ دونوں ممالک کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو۔اسپیکر نے مغرب میں اسلاموفوبیا کے مسئلے کے تدارک اور کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی مشترکہ کوششوں پر بھی زور دیا۔انہوں نے بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر مسئلہ کشمیر پر ایرانی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

ایرانی وفد کے سربراہ احمد امرعبادی فرحانی نے کہا کہ ایران پاکستان کو انتہائی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور موجود دیرینہ تعلقات کی قدر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے اور فلسطین، یمن سمیت تمام حل طلب مسائل کا اقوام متحدہ کے وعدوں کے مطابق حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دونوں ممالک کو اقتصادی سرگرمیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی منڈیوں کا قیام تجارتی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورہ اسلام آباد کے دوران حکومتی عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کیں اور اپنی سفارشات اپنی حکومت کو پہنچائیں گے۔

بعد ازاں کرغزستان کے سفیر توتوئیف الان بیک اسنکولووچ نے اسلام آباد میں اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کے ساتھ قریبی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اقوام بھائی چارے، تاریخ اور ثقافت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین معاشی تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے،

پاکستان اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے علاقائی سطح پر رابطوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی اعتبار سے کرغزستان وسطی ایشیا کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کرغز پارلیمانی فرینڈشپ گروپ اس مسئلے کو متعلقہ پلیٹ فارم پر اٹھائیں۔انہوں نے تجارت ، سرمایہ کاری ، مینوفیکچرنگ اور تعلیمی شعبوں کے مابین تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ پائیکو کانفرنس میں شرکت پر کرغزستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے کرغزستان کے دورے کی دعوت بھی قبول کی۔

کرغزستان کے سفیر توتوئیف الانبیک اسنکولووچ نے اسپیکر کی جانب سے کلمات پر ان شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان پاکستان کو اپنے دل کے قریب سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں موجود صلاحیت کو دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان چین کے ذریعے تجارتی روابط کی سہولت کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان پہلے ہی ایک سمجھوتے پر دستخط ہو چکے ہیں جن پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرغزستان اعلیٰ تعلیم ، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اسپیکر اسد قیصر کو کرغز اسپیکر کی طرف سے بشکک کے دورہ کی دعوت بھی دی۔