قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کی زیرصدارت نیشنل سوشل میڈیا کوآرڈینیشن ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):نیشنل سوشل میڈیا کوآرڈینیشن ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس بدھ کو قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کی صدارت میں منعقد ہوا۔وزیر اعظم نے سوشل میڈیا سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنے، سوشل میڈیا سے متعلقہ مسائل پر حکومت کو آرا دینے اور بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ روابط اور مربوط انداز میں کام کرنے کے لئے یہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بحثیت لیڈ منسٹری ، وزارت اطلاعات و نشریات ، وزارت قانون و انصاف ، وزارت خارجہ ، وزارت تجارت ، ڈیجیٹل میڈیا پر وزیراعظم کے فوکل پرسن (ترجمان) ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ اس کے مستقل اراکین ہیں جبکہ ورکنگ گروپ کا سربراہ کسی بھی دوسری وزارت/محکمے یا تھنک ٹینک کو بوقت ضرورت بطور ممبر شامل کر سکتا ہے۔ ورکنگ گروپ کے ٹی او آرز کے مطابق یہ گروپ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کو مربوط کرنے کے لیے ایک ادارے کے طور پر کام کرے گا۔ورکنگ گروپ پاکستان میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی حکومتی پالیسیوں کے مطابق سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسی اور قانون سازی کی سفارشات بھی کرے گا۔

بدھ کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اس ورکنگ گروپ کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ وزارتوں اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ہم آہنگی پیدا کرنا اور ان کی تجاویز کو شامل کرنا ہے۔انہوں نے پاکستانی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق اعداد وشمار پر مبنی پالیسی سازی پر زور دیا ۔ورکنگ گروپ کے آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر کے نمائندوں کو بھی بلایا جائے گا

تاکہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے حوالے سے ٹیکس پالیسیوں کے بارے میں تجاویز دے سکیں۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اور ورکنگ گروپ کے ترجمان ڈاکٹرارسلان خالد نے کہا کہ سوشل میڈیا ایک ایسا موضوع ہے جس سے کئی وزارتوں اور محکموں کا واسطہ ہے ۔ مشاہدہ میں آیا کہ سرکاری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کمزور ہم آہنگی کے نتیجے میں بعض پالیسی امور پر تاخیر اور ابہام پیدا ہوا۔

یہ ورکنگ گروپ تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لائے گا جس سے سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ بہتر نتائج کی حامل بات چیت میں مدد ملے گی۔نیشنل سوشل میڈیا ورکنگ گروپ وزیر اعظم نے گذشتہ ہفتے تشکیل دیا تھا ۔ توقع ہے کہ یہ گروپ باقاعدگی سے اپنی کارروائی بارے وزیر اعظم کو رپورٹ کرتارہے گا۔