پاکستان تمام شعبوں میں افغانستان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہا ہے،حکومت کا افغان طلبہ کو پاکستان آنے کی اجازت دینا اچھا اقدام ہے، سفیر منصور احمد خان

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کو تجارتی اور اقتصادی شعبوں بالخصوص طور پر تعلیم کے شعبے میں ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہا ہے، پاکستانی حکومت کا پاکستان کی مختلف جامعات، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو پاکستان آنے کی اجازت دینا اچھا اقدام ہے، معاشی پابندیوں اور امریکہ کی جانب سے فنڈز منجمند کرنے سے افغانستان میں شدید انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، پاکستان عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر افغانستان کو زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔

بدھ کو پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان تجارت میں قریبی شراکت دار ہیں، ہمارا طویل بارڈر ہے اور اس بارڈر کے ذریعے بہت تجارت ہوتی ہے، پاکستانی حکومت نے گزشتہ دو سالوں سے افغانیوں کیلئے بزنس پالیسی متعارف کروائی تھی جس کے تحت افغانیوں کو ایک سے پانچ سال تک کا ویزہ دیا جاتا تھا، حالیہ کابینہ اجلاس میں بزنس ویزہ فیس ختم کرنے کا فیصلہ بہت ہی اچھا اقدام ہے جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ افغانی روزانہ کی بنیاد پر تعلیم، صحت اور کاروبار کے سلسلے میں بڑی تعداد میں پاکستان آتے ہیں،

سیکیورٹی خدشات اور غیریقینی صورتحال کی وجہ سے عام افغانیوں کی آمدورفت کے حوالے سے شرائط عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم ہم ایسا طریقہ کار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو آمدورفت میں آسانی ہو، ہم افغانستان کی عبوری حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطے میں ہیں، پاکستان افغانستان کے ساتھ لوگوں کی آمدورفت، تجارت، اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی معاملات پر تعاون پر زور دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروپوں کی وجہ سے پاکستان کو ہمیشہ خطرات درپیش رہے ہیں،

اس سلسلے میں پاکستان نے نئی افغان حکومت سے کہا ہے کہ ایسے دہشتگرد گروپوں کے خلاف ایکشن لے، طالبان حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ کسی بھی دہشتگرد گروپ کو نہ صرف پاکستان بلکہ کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ منصور احمد خان نے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کسی بھی ملک کے حق میں نہیں، افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کیلئے وسیع البنیاد حکومت کا قیام ضروری ہے،

افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے روس نے 19 اور 20 اکتوبر کو ماسکو فورمیٹ کے نام سے اجلاس طلب کیا ہے جس میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوحہ میں طالبان حکام اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اچھی پیشرفت ہے، بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کو حل کیا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت گزشتہ 20 سالوں کے دوران افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپس کی فنڈنگ کر کے پاکستان میں دہشتگردی کروانے میں ملوث رہا ہے، پاکستان نے اس سلسلے میں عالمی برادری کو ڈوزیئر کے ذریعے تمام شواہد فراہم کئے ہیں کہ کسطرح بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروانے میں ملوث رہا ہے۔