کوئی بھی رکاوٹ پاکستان کو دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہونے سےنہیں روک سکتی ، امید ہے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، موجودہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم نہیں کررہی ، وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے کامیاب نتائج کی امید ہے، پاکستان کی معیشت مالی سال22 -2021 کے دوران 5 فیصد سے زیادہ ترقی کرے گی، کوئی بھی رکاوٹ پاکستان کو دوبارہ معاشی طور پر عظیم بنانے، پہلے ایشیا اور پھر دنیا کی چوٹی کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہونے سےنہیں روک سکتی ، موجودہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کوتسلیم نہیں کررہی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو واشنگٹن میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) میں ’’پاکستان کا اقتصادی مستقبل‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا چھٹا دور ان کے امریکا کے دورے کا سب سے اہم حصہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت سمجھتی ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے مطالبے سے افراط زر کی شرح بھی بڑھے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نکتہ فنڈ کے ساتھ تکنیکی گفتگو میں اٹھایا گیا تھا ، جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٹیرف میں اضافہ بتدریج کیا جائے گا تاکہ افراط زر پرایک دم اثر نہ پڑے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں کچھ مسائل تھے ، جن میں ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت بھی شامل تھی ، جس کے لیے حکومت کو ادائیگی کرنا پڑی ، ڈسٹری بیوشن اور جنریشن کمپنیوں کی کارکردگی کو بھی بہتر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ کامیابی سے بات چیت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کی معیشت ایشیا میں چوتھی بڑی معیشت تھی تاہم ذوالفقار علی بھٹو کی اداروں کو قومیانے کی پالیسی اور 1979 میں افغان جنگ نے ہماری معاشی ترقی کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ایسی معیشت سنبھالی جو 2018 میں 20 بلین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ، بھاری زری خسارے کے ساتھ چل رہی تھی مگر حکومت نے معیشت کی بہتری کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جس کے دور رس نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کووڈ۔ 19 کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، تاہم حکومت نے بہتر حکمت عملی کے ساتھ اس وبائی مرض کا مقابلہ کیا جسے دنیا نے بہت سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کووڈ۔ 19 کے دوران دو پیداواری شعبوں ، زراعت اور صنعت کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے پروگرام شروع کئے جس سے ملک میں بیروزگاری میں کمی آئی اور ملکی معیشت کواستحکام ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021 کے دوران شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جو کہ پچھلے سال منفی نصف فیصد کی شرح نمو کے مقابلے میں تھی ، جس سے’’ وی ۔شکل ‘‘کی بحالی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں60 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے جنہیں ملازمتوں کی ضرورت ہے ، اس لیے حکومت نے زراعت ، صنعت ، برآمدات اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو بحال کیا اور یقین ہے کہ معیشت 5 فیصدسالانہ سے زیادہ کی شرح سے ترقی کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو بھی یقینی بنارہی ہے کہ پسماندہ افراد کو نظر انداز نہ کیا جائے اور انہیں مثبت اقتصادی ترقی کے اثرات کے اوپر سے نیچے (ٹرکل ڈائون )آنے تک انتظار نہ کرنا پڑے جو کئی عشروں تک ان تک نہیں پہنچ پائے۔ چنانچہ حکومت نے پائیدار اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے نیچے سے اوپر کی(باٹم اپ )پالیسی اپنائی۔

اس مقصد کے لیے حکومت ہیلتھ کارڈز کے اجرا اور 40 لاکھ گھرانوں کی مدد کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ دینے کے علاوہ کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو بلاسود قرضے فراہم کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے لوگوں کی معاشی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ملکی توجہ جیو سکیورٹی سے جیو پولیٹکل کی طرف مبذول کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تبدیلی پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجہ میں خارجہ پالیسی ، اقتصادی پالیسی ، داخلی سلامتی الغرض جو کچھ بھی ہے اور پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات سب کچھ بدل جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن بھارت کے ساتھ مسائل ہیں ، جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بنیادی مسئلہ کشمیر ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، موجودہ بھارتی حکومت اس خطہ کی متنازعہ حیثیت کو قبول نہیں کررہی ہے اور اس نے کچھ یکطرفہ فیصلے کیے ہیں جن سے کشمیریوں کو ان مراعات سے بھی محروم کردیا گیا ہے جو قبل ازیں انہیں حاصل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے بھارت کو کئی بار پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ایک قدم بڑھائیں تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا ، اور اس جذبے کے ساتھ انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ مثبت جواب دے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سیاسی سطح پر دونوں ممالک کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور اقتصادی بہتری کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کی طرح پاکستان بھی افغانستان میں جامع حکومت چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کر رہا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان کے پاس نقد رقم ختم ہو رہی ہے اور اگر دنیا انسانی بنیادوں پر ان کی مدد کرنے کے لیے آگے نہیں آئی تو ملک میں مکمل انتشار ہو گا جو کہ پاکستان اور دیگر ممالک تک پھیل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ طالبان کہہ رہے تھے کہ وہ دنیا کے ساتھ تعاون کریں گے ، ذمہ دار ملک بنیں گے ، انسانی حقوق کا خیال رکھیں گے ، خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور دہشت گردی کو فروغ نہ دینے کا وعدہ کریں گے ، اس لئے ہمیں قدم بہ قدم ان کی مدد کرنی چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ وہاں کے رویے میں بہتری کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو یہ پاکستان کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا اور پاکستان کو یقین ہے کہ اگر افغانستان کے حالات خراب ہوئے تو ہم براہ راست متاثر ہوں گے۔ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگائی ہے ، سوائے چمن کے قریب ایک چھوٹی پٹی کے جبکہ افغانستان جانے اور جانے والی ٹریفک کو کنٹرول کیا گیا ہے اور سیکورٹی فورسز بھی سیکورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری کارروائی کر رہی ہیں۔

انسانی وسائل میں اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت انسانی وسائل کی اصلاح کے لیے کام کر رہی ہے جن میں وزارتوں میں اہم عہدوں پر سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کا فہم رکھنے والے بیوروکریٹس کے ساتھ نجی شعبہ کو لانے جیسی اصلاحات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلارکاوٹ آگے بڑھنے کےلئے ایف بی آ ر میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے نصف ارکان سرکاری جبکہ نصف نجی شعبے سے ہیں۔

کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ جامع پالیسی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان نے کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے 28 درجےترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خود چارج سنبھال رہے ہیں اور سرمایہ کاری بورڈ انہیں براہ راست رپورٹ کر رہا ہے اور وزیر اعظم ہر ماہ بورڈ کے ساتھ دو اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کو خود مختار بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر تقریبا 6 زونز میں اگلے 12 ماہ کے اندر خود مختار حیثیت متعارف کرائی جائے گی اور بعد میں دوسرے زونوں میں بھی اس کی تقلید کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے زیر انتظام تقریباً 85 کمپنیاں ہیں جن میں سے 15 کا خسارہ جی ڈی پی کے تقریبا ایک فیصد کے برابر ہے۔ ان میں ایئر لائن ، ریلوے ، سٹیل مل اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کو وزارتوں سے الگ کر دیا جائے گا اور ان کا کنٹرول پیشہ ور افراد کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ان کی اصلاح کی جائے اور 5 سال کے اندر ان کی نجکاری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں ہے۔ پاکستان چین امریکا تعلقات کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان امریکا اور چین سمیت ہر ایک کے ساتھ دوستی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امریکا کے ساتھ بڑی اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور چین کے ساتھ اس کی دوستی امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر نہیں کرے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم دونوں طاقتوں کے ساتھ یکساں طور پر کام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ہماری مدد کی تھی اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان چین کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم سب کے لئے اوپن ہیں اور چین ، امریکا ، یورپ ، جاپان ، کوریا سب کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس حوالےسے کوئی ابہام ہے نہ ہی غلط فہمی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ پاکستان اتنا بڑا انفراسٹرکچر بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھا ، اس لیے چین نے فنڈز فراہم کیے اور سڑکوں ، ریلوے ، بجلی کی پیداوار اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں ہماری مدد کی ، جس سے معاشی سرگرمیاں پیدا ہوئیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ کچھ منصوبے ایسے ہیں جہاں چین ، امریکا اور پاکستان کی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں میں کام کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ گوادر پورٹ صرف چین کےلئے نہیں یہ جاپانی ، جنوبی کوریا ، یورپی باشندوں سمیت ہر ایک کے لیے کھلا ہے اور ہر ملک اس میں براہ راست سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی افریقی ممالک اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہے تو گوادر اس کے لئے موزوں ترین جگہ ہے۔ وزیر نے کہا کہ حکومت مختلف ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے اس نے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر ایک بڑا منصوبہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کی ضرورت ہے ، مستحکم افغانستان سب کے لیے اچھا ہے ، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو سب کے فائدے کے لیے قابل انتظام بنانے میں مدد کرے۔ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی 27 میں سے 26 شرائط کو پورا کیا ہے اور 27 ویں کو بھی آدھا پوراکرچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دوسرا ملک جو اس قسم کی شرائط پر پورا اترتا ہے اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جاتا تاہم کچھ ممالک کی طرف سے پاکستان کو اقتصادی وجوہات نہیں دیگر وجوہات کی بنا پر سزا دی جا رہی ہے۔وہی پرانا راگ الاپا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے اور وہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔

وزیر خزانہ نے اس تاثر کو دوٹوک طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جس نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہو، 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا ہو اور 40 سال سے مشکلات اٹھا رہا ہو ، اس پر مسلسل الزام تراشی کی جارہی ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کوئی بھی رکاوٹ پاکستان کو دوبارہ معاشی طور پر عظیم بنانے، پہلے ایشیا اور پھر دنیا کی چوٹی کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہونے سےنہیں روک سکتی ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر ہم اپنی زندگی میں پاکستان کو ایشیا میں اقتصادی لحاظ سے صف اول کی معیشت بنا لیتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی اور یہی میرا عزم ہے۔