گور نر پنجاب سے یورپی پار لیمنٹ کے 15 اراکین کی ملاقاتیں، جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرو ائی

لاہور۔14اکتوبر (اے پی پی):گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور سے یورپی پار لیمنٹ انسانی حقوق کمیٹی کی چیئر پر سن ماریہ ارینا اور یورپی پارلیمنٹ ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فارن افیئرز کمیٹی کی رکن یا وئیر ناٹ سمیت 15سے زائد اراکین یورپی پار لیمنٹ سے ملاقاتیں۔یورپی اراکین پار لیمنٹ کی جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کے لیے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروادی ۔

گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے جمعرات کو دورہ یورپ کے دوران برسلز میں فرانس کے رکن یورپی پارلیمنٹ ہرویوون،ورجنی یورون،یونان سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن ایمانیوئل فریگوس،فرانس سے ممبریورپی پارلیمنٹ برنارڈ گوئٹا،سپین سے ممبر یورپی پارلیمنٹ جورڈی سول اورپولینڈ سے رکن یور پی پارلیمنٹ وٹولڈسمیت دیگر سے ملاقاتیں کیں جس میں جی ایس پلس سٹیٹس میں تو سیع ،افغان امن عمل ،دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر ایشوز کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور یورپی اراکین پار لیمنٹ نے پاکستان کو جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے

۔ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ الحمد للہ پاکستان کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں اور آج یورپی پارلیمنٹ اراکین کی اکثر یت جی ایس پی پلس سٹیٹس کے معاملے پر پاکستان کی سپورٹر بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور امن کو سپورٹ کرنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کا دورہ ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے کامیاب رہا ہے ۔

گور نرپنجاب نے افغانستان کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یورپی ارکان پارلیمنٹ نے ملاقاتوں میں افغانستان کی صورتحال میں دلچسپی ظاہر کی ہے اوریورپی ارکان پارلیمنٹ نے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے لیے ہیومن ایڈ غیرمشروط ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی مدد کے لئے دی جانے والی امداد پر شرائط نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو بھوکا نہیں مرنے دے سکتے ۔چوہدری محمدسرور نے کہا کہ جب تک عالمی برادری طالبان سے بات نہیں کرے گی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنگیں مسئلے کاحل نہیں ، 42 سال میں تجریہ کرلیاجنگیں افغانستان سے دہشت گردی کوختم نہیں کرسکیں بلکہ اسے سے فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یورپی یونین کے کنونشزسے کوئی فکر نہیں ہے ہم پر جو کنونشز نافذ کیئے جارہے ہیں اس کافائدہ عوام کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسانی حقوق کی بات ہوگی تو اس سے ہم کو فائدہ ہوگا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ افغان حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے پیسے نہیں اگر ان کے پاس تنخواہوں کیلئے پیسے نہیں ہوں گے توبھوک بڑھے گی ،بھوک بڑھے گی تو اس سے تشدد بڑھے گا اورخطے میں عدم استحکام آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ یورپی یونین اور خطے کے ممالک سے مشورے سے کریگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اوراس میں پیش پیش رہاہے۔چوہدری محمد سرورنے کہا ہے کہ پاکستان نے نیشنل کمیشن آن ویمن اسٹیٹس اور نیشنل کمیشن آ ن چائلڈ رائٹس قائم کیاہے جبکہ نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس بھی پاکستان قائم کرچکاہے۔ گورنرنے کہا کہ پاکستان میں خواتین او ر اقلیتوں سمیت سب کو بنیادی حقوق کی سو فیصد فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے اور معاشی میدان میں بھی پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔