پاکستان نے بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بے نامی قبروں کا معاملہ ایک بار پھر اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ، پاکستانی مندوب صائمہ سلیم

اقوام متحدہ۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بے نامی قبروں کا معاملہ ایک بار پھر اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے 7 دہائیوں کے مسئلے کی ایک تلخ حقیقت ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہیئں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کی ادائیگی میں کردار ادا کرے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی ڈیلیگیٹ صائمہ سلیم نے معاشرتی، ثقافتی اور انسانی امور سے متعلق جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر ورکنگ گروپ کے مکالمے میں بھارتی جارحیت اور ظلم و جبر کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں چند سالوں کے دوران جبری گمشدہ افراد کی متعدد قبریں ملی ہیں جبکہ جبری گمشدگیوں، زیر حراست ہلاکتوں، خواتین کی بے حرمتی، عصمت دری ،غیرقانونی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل اورمتاثرہ افراد کے اہل خانہ کو دھمکانے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے

اب تک تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قابض بھارتی افواج نے پہلے متاثرہ افراد کو اٹھایا اور پھر انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارت جموں و کشمیر میں 8 ہزار جبری گمشدہ افراد کی ذمہ داری لینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے اور 7 ہزار بے نامی قبروں کی فرنزک تحقیقات کروانے میں ہچکچارہا ہے۔ دریں اثنا انہوں نے آزادی رائے کے اظہار بارے اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر آئرین خان کے ساتھ بھی مکالمے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگ آزادی رائے کے اظہارکے حق سے محروم ہیں

جبکہ بھارت کے 5اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدام کے بعد کشمیریوں کے آزادی رائے کے اظہار اور انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی جس کے باعث کشمیری طبی امداد کے لیے کوویڈ۔ 19 ہیلپ لائن سروسز پر کال نہیں کر سکتے۔ تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے باعث ہزاروں افراد ملازمت سے محروم ہو گئے اور پابندیوں کے دوران مظاہروں اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، تشدد، ہراسانی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جن میں انہیں بھارت کے ڈریکونین قوانین کے تحت تشدد، ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں دانستہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ پاکستانی ڈیلیگیٹ نے کہا کہ غیرملکی صحافیوں کو مقبوضہ علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔