نیٹو افغانستان میں اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھے گا، سیکرٹری جنرل

برسلز۔22اکتوبر (اے پی پی):مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کےسیکرٹری جنرل جینز سٹولن برگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں تک دفاعی کارروائیوں سے جوسبق سیکھا گیا ہے ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع نے افغانستان پرطالبان کے کنٹرول کے بعد جمعرات کو برسلز میں نیٹو کے وزرائے دفاع کی پہلی براہ راست میٹنگ میں افغانستان میں دفاعی کارروائیوں کے خراب اختتام کے باوجود اس دفاعی اتحاد کی قوت میں اضافہ کرنے پر زور دیا ۔

سٹولٹن برگ نے کہا کہ ہم ایک زیادہ پیچیدہ اور مسابقتی دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وزرائے دفاع نے بحران اور تصادم کے دوران ہمارے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ایک نئے دفاعی منصوبے کی منظوری دی ہے تاکہ ہم اس امر کو یقینی بنا سکیں کہ ہماری مناسب فورسز مناسب جگہ پر مناسب وقت پر موجود رہیں۔مغربی ممالک کے عہدیداروں نے کہا کہ اس منصوبے کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے لیکن اس میں 30 ملکی اتحاد کو دنیا میں کسی بھی جگہ زمینی فورسز سے لے کر سائبر حملے تک کا مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اجلاس میں نیٹو کے وزرائے دفاع نے فوج کو ہمیشہ تیار رہنے کے لیےصلاحیتی اہداف کے ایک نئے منصوبے پر بھی اتفاق کیا جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی تیاری پرکام کرنے والی سٹارٹ اپ کی مدد کے لیے 1.2ارب ڈالر کا فنڈ فراہم کیا جائے گا۔جینز سٹولٹن برگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے اختلافات کے باوجود ہمیں متحد رہنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغان کے بحران سے نیٹو میں یورپ اور شمالی امریکا کے متحد رہنے کی ضرورت تبدیل نہیں ہوئی ہے بلکہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز میں ہمیں اپنے اتحاد اور طاقت کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ اتحاد کے اراکین اس پر غور کریں گے کہ طالبان پر دباو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی اور مالیاتی ذرائع کو کس طرح استعمال کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمار ے پاس دہشت گردی کے کسی بھی ابھرتے ہوئے خطرے پر ”دور سے ہی” حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔برسلز میں جاری دو روزہ میٹنگ کا ایک اہم ایجنڈا افغانستان میں نیٹو کے مشن کی ناکامیوں کا جائزہ بھی لینا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان میں نیٹو کے 20 سالہ مشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن ناکام نہیں رہا، ہم نے افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے نہیں دیا، ہم نے 20 برس میں نیٹو کے کسی بھی اتحادی پر ہونے والے حملے کو روک دیا۔

ہم نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اسے برقرار اور محفوظ رکھیں گے۔سٹولٹن برگ نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ نیٹو اتحادی افواج کی افغانستان میں موجودگی سے کیا سبق سیکھا گیا، کیا چیز کارآمد نہیں رہی اور کیا چیز درست ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ افغانستان سے آناً فاناً واپسی، وہاں ناکامی اور طالبان کے کنٹرول میں چلے جانے کے حقیقتاً کیا اسباب رہے اور ہم نے ا ن سے کیا سبق سیکھا۔یہ بڑے مشنوں اور نیٹو کے علاقے کے باہر کارروائیوں کے متعلق چیلنجز اورخطرا ت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا یہ سبق بہر حال نہیں ہوسکتا کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خود کو کبھی شامل ہی نہیں کریں گے۔