بھارتی فورسز پوری کمیونٹی کو سزا دینےکے لئے کشمیری خواتین کی عصمت دری کر رہی ہے ، دستاویزی شواہد موجود ہیں ،منیر اکرم کا سلامتی کونسل میں خطاب

اقوام متحدہ۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نےقیام امن اورتنازعات کی روک تھام کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کی مکمل اور مساویانہ شرکت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیرملکی قبضہ اور جنگ زدہ صورتحال سے دوچارممالک میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر بحث کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ غیرملکی قبضے اور جنگ زدہ ممالک میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد اور عصمت دری کے واقعات میں انتہائی اضافہ ہواہے جہاںجنسی تشدد اور عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیری خواتین پر جنسی تشدد اورعصمت دری کے دستاویزی شواہد موجود ہیں جن پر حریت پسندوں کی حمایت کے الزمات عائد کئے جاتے ہیں ۔

انہوں نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں خواتین کی عصمت دری اور جنسی تشدد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قابض افواج کا مقصد پوری کمیونٹی کو سزا دینا اور رسوا کرناہے جس کی تصدیق 2018 اور 2019 میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر برائے انسانی حقوق ، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی 2 رپورٹس میں بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے میں خواتین سلامتی کونسل کی مدد کریں اور قیام امن میں بھر پور صلاحیتوں کے ساتھ ان کے کردار کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا جائے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب انہیں ہر قسم کے تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نےاقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں صنفی نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم رہتے ہوئے عملی اقدامات کیے ہیں جن میں 2019 میں افریقہ کے ساتھ روابط کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم میں پہلی بار تمام خواتین کی شامل کیں اور بعض انتہائی چیلنج کے ماحول کے امن مشنز میں ڈاکٹرز، نرسزاور پولیس افسران خدمات سرانجام دینے والی پاکستانی خواتین کی تعداد میں اضافہ کیا،اقوام متحدہ میں مختلف امن مشنز میں کمیونٹی خدمات کے دستوں میں 50 فیصد خواتین کی شرکت حاصل کی اور ایک پاکستانی خاتون پولیس افسر کو رواں سال سوڈان میں اقوام متحدہ کے انٹیگریٹڈ ٹرانزیشن اسسٹنٹ مشن میں پولیس کمشنر تعینات کیا گیا ۔

پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ صنفی مساوات کے ساتھ لیڈرشپ عہدوںمیں ترقی پذیر ممالک کی خواتین کی مساویانہ ہ جغرافیائی نمائندگی کی وابستگی جاری رہنی چاہیے او راقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی عہدوں کے لئے بھرتی ، پروموشن اور سیلیکشن سمیت ہر سطح پر خواتین کی مساویانہ جغرافیائی نمائندگی کے اصول کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔